Daily Mashriq


تمام شہر میں مت گندگی بکھیر میاں

تمام شہر میں مت گندگی بکھیر میاں

کہتے ہیں پشاور کے شہریوں نے سکھ کا سانس لیا ہے۔ یہ ہم نہیں کہتے ایک قومی اخبار میں شائع ہونے والی ایک خبر کی سرخی کہتی ہے۔ اب ذرا پوری سرخی پر نظر ڈالتے ہیں جو یوں ہے کہ پشاور میں کوڑا کرکٹ ڈمپنگ کے لئے نئی جگہ منتخب‘ شہریوں نے سکھ کا سانس لے لیا۔

ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ کیا واقعی شہریوں نے سکھ کا سانس لے لیا ہے یا ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں۔ کیونکہ اس تشویش نما سوال کا جواب تلاش کرنے ہمیں ماضی میں جھانکنا پڑے گا۔ ہمیں یاد ہے کہ جب پشاور میں صفائی ستھرائی کا جدید دور ابھی کہیں تصورات ہی میں بس رہا تھا تب شہر کے بیشتر علاقوں کی گلیاں بھی کچی اور گھروں کے اندر خواتین کی فراغت کے لئے بیت الخلا بھی دیسی طرز کے ہوا کرتے تھے۔ جہاں روزانہ صبح کے وقت بھنگی جنہیں شہر کے لوگ حلال خور کہتے تھے اور ساتھ ہی ماشکی جو بہشتی کے نام سے موسوم کئے جاتے تھے اور جو پہلے سرکاری ڈیوٹی ادا کرنے فجر کی اذانوں سے بھی پہلے گلیوں میں چھڑکائو کرکے اور جھاڑو دے کر فارغ ہوتے تو پھر گھروں کا رخ کرتے۔ بھنگی یا جمعدار گھروں کے بیت الخلاء سے غلاظت اکٹھی کرتے‘ ماشکی ان بیت الخلائوں میں پانی پھینک کر انہیں صاف کرتے جبکہ یہی ماشکی بعد میں انہی گھروں کے لئے پانی لا کر مٹکے اور گھڑے بھر کر دن بھر کے استعمال کے لئے ڈال دیتے۔ ان دونوں کو ان خدمات کا مناسب ماہانہ عوضانہ ادا کیا جاتا۔ اب جو غلاظت گھروں سے بھنگی اٹھا کر لاتا تو ہر محلے میں ایک جگہ مخصوص ہوتی جہاں یہ غلاظت عارضی طور پر اکٹھا کی جاتی بعد میں میونسپل کمیٹی کی لاری آکر یہ اٹھا کر لے جاتی اور لاہوری دروازے کے باہر گنج گیٹ کی طرف جانے والی سڑک پر اسے میونسپل کمیٹی ہی کے زیر اہتمام ایک ٹریٹمنٹ پلانٹ جیسی کوئی چیز تھی جہاں شنید ہے کہ اسے جلا کر ضائع کرنے کا کوئی سسٹم تھا جبکہ دیگر کوڑا کرکٹ بھی مخصوص لاریوں میں بھر کر شہر سے باہر ایک جانب غالباً دلہ زاک روڈ پر کسی ٹائون کے باہر اور دوسری جانب کوہاٹ روڈ پر دور دراز علاقے میں ڈمپ کیا جاتا۔ یہ کوڑا کرکٹ وہاں پڑے پڑے گل سڑ کر دیسی کھاد میں خود ہی تبدیل ہوجاتا جسے مقامی کسان وغیرہ آکر بیل گاڑیوں میں ڈال کر لے جاتے اور بطور کھاد اپنے کھیتوں میں استعمال کرتے۔ پھر دنیا بدلتی چلی گئی۔ اگر ایک جانب صفائی ستھرائی کا جدید دور آگیا اور دیسی بیت الخلاء کی جگہ فلش سسٹم نے لے لیا تو ساتھ ہی اس کم بخت شاپنگ بیگز نے بھی ایک تہلکہ مچا دیا جبکہ شہروں نے بھی وسعت اختیار کرلی۔ قریبی گائوں بھی میونسپل کارپوریشن کے علاقوں میں توسیع کی وجہ سے شامل ہونے لگے تو آبادی بڑھ جانے سے مضافات کے علاقوں میں بھی ڈمپنگ پر احتجاج شروع ہوگیا کیونکہ یوریا کی ایجاد نے دیسی کھاد کی اہمیت ختم کردی تو اب دیسی کھاد بنتی بھی نہیں کہ وہاں تو پلاسٹک کی بوتلیں اور شاپنگ بیگز کا راج ہے۔ اوپر سے ان ڈمپنگ ایریاز میں سے اٹھنے والی بدبو‘ تعفن اور ان کے بائی پراڈکٹس یعنی خطرناک بیماریوں‘ مکھیوں‘ مچھروں اور دیگر مسائل نے ان ڈمپنگ ایریازکے قریب رہنے والوں کی زندگی اجیرن کردی ہے اس لئے ان پر عوامی احتجاج بالکل فطری ہے۔ اب وہ دور بھی تو نہیں رہا جب پشاور میں مختلف ہفتے منائے جاتے تھے خصوصاً ہفتہ صفائی جس میں میونسپل حکام شہر کے کسی با رونق بازار کو پہلے سے صاف ستھرا کرکے ڈپٹی کمشنر کو بلواتے اور ان کی آمد سے پہلے مالٹوں‘ کیلوں وغیرہ کے چھلکوں کا ایک ٹوکرا لا کر سڑک پر ڈال دیتے اور ڈپٹی کمشنر کے ہاتھ میں نئی نکور جھاڑو دے کر اخبارات کے نمائندوں اور فوٹو گرافروں کو بلوا کر جھاڑو دلواتے۔ تصویر یں دوسرے دن اخبارات میں چھپ جاتیں اور شہر میں ہفتہ صفائی کا آغاز ہو جاتا۔ اس صورتحال پر پروفیسر طہٰ خان نے کہا تھا۔

گھر میں جتنا کوڑا کرکٹ ہے گلی میں پھینک دو

پھر خدا ہی جانتا ہے کب یہ موقع آئے گا

آئے گا کوڑا اٹھانے کوئی ناظم یا وزیر

شہر میں آلودگی کادن منایا جائے گا

تفصل تو اتنی ہے کہ ایسے کئی کالموں کی پوری ایک سیریز لکھی جاسکتی ہے مگر ایک لمبی زقند مارتے ہوئے آج کے دور میں واپس آتے ہیں۔ دنیا بھر میں ایک تو ڈرینج کا سسٹم زیر زمین کردیاگیا ہے جہاں گھروں سے استعمال شدہ پانی نکال باہر کر دیا جاتا ہے جبکہ کوڑا کرکٹ کے لئے ٹریٹمنٹ پلانٹس لگا کر ان سے مقامی سطح پر بجلی کا حصول ممکن بنایا جاتا ہے۔ یہاں بھی گزشتہ کئی برس سے مختلف حکومتوں کے ادوار میں ایسے پلانٹس لگانے کی خبریں سامنے آتی رہی ہیں اور معاہدے بھی ہوئے مگر پھر ان معاہدوں کا کیا حشر ہوا یہ آج تک معلوم نہیں ہوسکا۔ اب یہ ادارہ ڈبلیو ایس ایس پی قائم ہوا ہے جس کے بارے میں بڑے بلند آہنگ دعوے کئے جاتے رہے ہیں مگر اس نے بھی پانی کو مہنگا کرنے اور عوام کی چمڑی ادھیڑنے کے طور طریقے سیکھنے کے علاوہ کچھ نہیں کیا جبکہ اب کسی بھی جگہ کے عوام اپنے قریب گندگی کے ڈھیر برداشت کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ چلیں مان لیں کہ ڈمپنگ ایریا تلاش کرلیاگیا ہے مگر کب تک یہاں شہر کی آلودگی جمع کی جاتی رہے گی یعنی جب تک اس کو ٹریٹ کرکے اس سے کوئی کارآمد چیز نہیں بنائی جائے گی تب تک یہ مسئلہ ختم ہونے کو نہیں آئے گا۔ خاطر جمع رکھئے!

زباں سے اپنی نہ تلقین کر صفائی کی

تمام شہر میں مت گندگی بکھیر میاں

متعلقہ خبریں