Daily Mashriq

پاک ملائیشیاء تجارتی معاہدے

پاک ملائیشیاء تجارتی معاہدے

پاکستان ملائیشیاء سرمایہ کاری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ملائیشیاء کی ترقی اسلامی دنیا کیلئے روشن مثال ہے۔ جن لیڈروں کا ویژن صحیح ہوتا ہے وہ صحیح قدم اُٹھاتے ہیں۔ اس موقع پر ملائیشیاء کے مہمان وزیراعظم ڈاکٹر مہاتیر محمد نے اپنے خطاب میں کہا کہ صنعتی ترقی اور سرمایہ کاری سے ملک ترقی کرتے ہیں۔ ہم نے ملائیشیاء میں غربت کا خاتمہ صنعتوں کے قیام ہونے سے کیا اور غیرملکی سرمایہ کاروں کو سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کئے۔ ڈاکٹر مہاتیر محمد نے کہا کہ حکومتوں کا کام کاروبار کرنا نہیں بلکہ کاروبار کیلئے آسان مواقع فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے جاپان اور کوریا کے لوگوں سے سبق سیکھا اورکام کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم کرپشن کے مسئلے پر بہت فکرمند ہیں۔ کرپشن کی روک تھام ضروری ہے' کرپشن کے خاتمے سے متعلق پاکستان ہمارے تجربات سے استفادہ کرسکتا ہے۔ ہمارے وزراء پھولوں کے سوا کوئی تحفہ قبول نہیں کرتے۔ ملائیشیاء میں 5سو ڈالر سے زیادہ تحفہ کرپشن کے زمرے میں آتا ہے۔ ملائیشین سرمایہ کاری اور کاروباری وفد کے سربراہ نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملائیشیاء کے سرمایہ کار پاکستان میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملائیشیاء کی ساگا کمپنی پاکستان میں متعارف کروا رہے ہیں۔ آٹو انڈسٹری میں سرمایہ کاری اور پاک ملائیشیاء تعاون سے روزگار کے مواقع بڑھیں گے۔ ایک نجی ٹی وی کے مطابق تقریب کے دوران پاکستان اور ملائیشیاء کے درمیان 80 سے90کروڑ ڈالرز کے تجارتی معاہدوں پر دستخط کئے گئے۔ ملائیشیاء کی کمپنی کی جانب سے پاکستان میں کار مینو فیکچرنگ پلانٹ لگانے کا معاہدہ کیا گیا اس کے علاوہ پاکستان اور ملائیشیاء کے درمیان ٹیلی کام اور حلال فوڈز کے شعبوں میں بھی معاہدوں پر دستخط ہوئے۔ جہاں تک ملائیشیاء کے وزیراعظم ڈاکٹر مہاتیر محمد کے خیالات کا تعلق ہے انہوں نے قوموں کی ترقی کے حوالے سے درست تجزیہ کیا ہے اور بالکل صحیح کہا ہے کہ حکومتوں کا کام خود کاروبار کرنا نہیں بلکہ کاروبار کیلئے آسان مواقع فراہم کرنا ہے جبکہ بدقسمتی سے ہمارے ہاں ایوبی دور میں آمریت کے باوجود پاکستان نے صنعتی ترقی کیساتھ ساتھ زرعی شعبے میں جو ترقی کی تھی اور تیزی سے آگے بڑھ رہا تھا' خاص طور پر پاکستان کے پنج سالہ منصوبوں کا جو سلسلہ شروع کیا گیا تھا اس سے دوسرے ترقی پذیر ممالک بھی بہت متاثر تھے اور کوریا جیسے ممالک نے پاکستان سے ان پنج سالہ منصوبوں کا نظریہ مستعار لیکر اپنے ہاں انہی کی بنیاد پر اپنی معیشت کو مستحکم کیا اور آج ڈاکٹر مہاتیر محمد بھی کوریا اور جاپان سے سبق سیکھنے کی بات کر رہے ہیں تو کوریا کی ترقی میں پاکستان سے مستعار لئے ہوئے منصوبوں ہی کا ہاتھ ہے۔ ہم نے ان نظریات کو ترک کیا کہ ملک کے دو لخت ہونے کے بعد ہمارے ہاں صنعتوں کو قومیانے کا سلسلہ شروع کر دیا گیا جس نے نہ صرف اندرون ملک صنعتکاروں اور تاجروں کی حوصلہ شکنی ہوئی بلکہ غیرملکی سرمایہ کاری بھی رک گئی۔ مستزاد یہ کہ صنعتی اور تجارتی اداروں کو قومیانے کے بعد جس طرح اس وقت کی حکمران جماعت نے ان پر نہ صرف منظورنظر افراد مسلط کئے بلکہ اپنی پارٹی کے کارکنوں کو گنجائش سے زیادہ برتی کرکے ان تمام اداروں کو تباہی سے دوچار کردیا گیا اور یہ تمام ادارے رفتہ رفتہ خسارے میں جا کر حکومت کیلئے سفید ہاتھی بن گئے۔ مستزاد یہ کہ یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن اور اسی نوعیت کے ادارے قائم کرکے حکومت خود کاروبار کرنے لگ پڑی۔ یہی وہ سبب تھا جس کی وجہ سے ملک کی نہ صرف ترقی رک گئی بلکہ الٹا مقروض ہونا شروع ہوگیا۔ ڈاکٹر مہاتیر محمد کی کرپشن کیخلاف خیالات کو یقینا ہمیں اپنے لئے مشعل راہ بنانا چاہئے کہ ملائیشیاء میں وزراء صرف پھولوں کے گلدستے قبول کرتے ہیں اور 500ڈالر سے زیادہ کے تحفے کرپشن کے زمرے میں آتے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان بھی کرپشن کو جڑ سے اکھاڑنے کی سوچ لیکر اقتدار میں آئے ہیں اور وہ اب بھی یہ عزم رکھتے ہیں کہ کرپٹ لوگوں کو کیفرکردار تک پہنچایا جائے اس لئے انہیں بھی ملائیشیاء ڈاکٹرائن کو مدنظر رکھتے ہوئے اعلان کرنا چاہئے کہ ان کی حکومت میں کوئی بھی وزیر یا مشیر پھولوں کے گلدستے کے علاوہ کوئی تحفہ قبول نہیں کرے گا۔ جہاں تک پاکستان میں ملائیشیاء کی سرمایہ کاری کے حوالے سے معاہدوں کا تعلق ہے ملائیشیاء کی آٹو موبیل انڈسٹری کی آمد سے امید ہے کہ سستی کاروں کی فراہمی شروع ہو جائے گی اور جو دوسری کاروں کی انڈسٹریز پہلے ہی یہاں موٹر کاریں بنا رہی ہیں ان سے مسابقت سے اچھا کاروباری ماحول پیدا ہوگا۔ اسی طرح ملائیشیاء ان دنوں جاپان کے بعد ٹیلی کام کے شعبے میں اہم مقام رکھتا ہے جبکہ حلال فوڈ انڈسٹری کی مصنوعات بھی پاکستان میں بڑے پیمانے پر مہیا ہوتی ہیں اور اگر یہی مصنوعات پاکستان کے اندر تیار ہوں گی تو ان کے نرخ بھی کم ہو جائیں گے کہ ملائیشیاء سے درآمد کرتے ہوئے ان پر اخراجات زیادہ ہوتے ہیں جبکہ ملک کے اندر ان کی تیاری پر کم لاگت آنے کیساتھ ساتھ ان کی قائم ہونے والی انڈسٹری کی وجہ سے ہزاروں افراد کو روزگار ملے گا یوں ملک سے بیروزگاری کا خاتمہ بھی ہوگا اور پاکستان میں ترقی کا عمل آگے بڑھے گا۔ وزیراعظم عمران خان اور ڈاکٹر مہاتیر محمد کی ملاقات کے دوران وزارتی سطح پر کمیٹی بنانے کا جو فیصلہ کیا گیا ہے امید ہے وہ کمیٹی دونوں ملکوں کے مابین صنعت وتجارت کے فروغ کیساتھ ساتھ دیگر معاملات پر بھی اہم فیصلے کرے گی اور دونوں ملکوں کو مزید قریب لانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔

متعلقہ خبریں