Daily Mashriq

مفتی تقی عثمانی پر قاتلانہ حملہ

مفتی تقی عثمانی پر قاتلانہ حملہ

کراچی میں ممتاز عالم دین مفتی تقی عثمانی پر دوموٹر سائیکلوں پر سوار 4ملزمان نے گلشن اقبال نیپا چورنگی کے قریب اندھادھند فائرنگ کردی، جس میں مفتی تقی عثمانی معجزانہ طور پر محفوظ رہے جبکہ ان کے 2محافظ شہید ہوگئے۔ ایڈیشنل آئی جی کراچی امیر شیخ نے کہا ہے کہ یہ واقعہ فرقہ واریت کی سازش نہیں لگتی بلکہ پاکستان اور کراچی کا امن خراب کرنے کی کوشش ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے مفتی تقی عثمانی پر فائرنگ کے واقعے کی مذمت کی اور حملے میں مفتی تقی عثمانی کے سیکورٹی گارڈ کے جاں بحق ہونے پر دکھ کا اظہار کیا۔ وزیراعظم کا کہنا ہے کہ مفتی تقی عثمانی جیسی قابل قدر ہستی پر حملہ سازش ہے اور اس سازش کو بے نقاب کرنے کیلئے ہر ممکنہ کوشش بروئے کار لائی جائے۔

مفتی محمد تقی عثمانی کو چند دنوں سے دہشتگردوں کی جانب سے دھمکی آمیز پیغام موصول ہو رہے تھے، مفتی محمد تقی عثمانی نے ساری صورتحال سے گورنرسندھ عمران اسماعیل اورآئی جی سندھ کو آگاہ کیا اور سیکورٹی میں اضافے کی بات کی، آئی جی کے مطابق انہوں نے مفتی محمد تقی عثمانی کی سیکورٹی کے انتظامات کر دیئے تھے۔ آئی جی سندھ نے یہ بھی کہا کہ پولیس سیکورٹی اہلکار نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے حضرت کی جان بچائی جس پر شہید پولیس اہلکار کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں لیکن حالات سے لگتا ہے کہ آئی جی سندھ نے مفتی صاحب کی بات کو معمولی لیا اور سیکورٹی کے فل پروف انتظامات نہیں کئے، اب آئی جی سندھ اور حکومت کا اصل امتحان ہے کہ مفتی صاحب پر قاتلانہ حملہ کرنے والوں کو کب قانون کے کٹہرے میں لاتے ہیں؟ مولانا محمد تقی عثمانی عالم اسلام کی علمی قیادت وسیادت فرماتے ہیں، پوری دنیا کے اہل علم ان کے خوشہ چیں ہیں، جدید پیش آمدہ مسائل فقہیہ میں حضرت مفتی تقی عثمانی مرجع خلائق اور مدار سند ہیں جبکہ پورے عالم اسلام میں مفتی محمد تقی عثمانی کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، پاکستان میں بھی تمام مکاتب فکر کے اندر مفتی تقی عثمانی یکساں مقبول ہیں، ملک میں نفاذاسلام کی اہم تحریکوں کی ہمیشہ سرپرستی کرنے والے مفتی تقی عثمانی نے فرقہ واریت اور مسلکی عصبیت کے فروغ کی حوصلہ شکنی کی اور اس کے سدباب کیلئے ہر حکومت کو مفید مشورے بھی دیئے۔ شیخ الحدیث حضرت مولانا یوسف بنوری کی ہدایت پر 1974کی قادیانی مخالف تحریک میں مفتی تقی عثمانی نے اپنا اہم کردار ادا کیا۔ قادیانیوں کو غیرمسلم قرار دینے کی اس تحریک میں مفتی تقی عثمانی نے مولانا سمیع الحق کیساتھ ملکر ایک دستاویز بھی تیار کی تھی جو قادیانیوں کیخلاف پارلیمان میں پیش کی گئی۔27اکتوبر1943 کو ہندوستانی ریاست اترپردیش کے ضلع سہارنپور کے مشہور قصبہ دیوبند میں پیدا ہونے والے مفتی محمد تقی عثمانی تحریک پاکستان کے ممتاز رکن مولانا محمد شفیع عثمانی کے فرزند ارجمند ہیں۔ مولانا محمد شفیع عثمانی دیوبند کے ان ممتاز اور جید علماء میں سے ایک تھے جنہوں نے نہ صرف قیام پاکستان کی مکمل حمایت کی بلکہ پاکستان بنانے میں اپنا اہم کردار ادا کیا۔ مولانا شفیع عثمانی، قائداعظم محمد علی جناح کے رفیق مولانا شبیر عثمانی کے قریبی رشتے دار تھے۔ انہوں نے کورنگی میں دارالعلوم کراچی کی بنیاد رکھی جس کے موجودہ مہتمم مولانا محمد رفیع عثمانی ہیں جو مولانا محمد تقی عثمانی کے بڑے بھائی ہیں اور انہیں مفتی اعظم کا منصب بھی حاصل ہے۔ مولانا محمد تقی عثمانی نے پنجاب بورڈ سے فاضل عربی کی تعلیم حاصل کی اور درس نظامی سے فارغ ہونے کے بعد کراچی یونیورسٹی سے ایل ایل بی اور پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے عربی کی سند حاصل کی، آج کل وہ دارالعلوم کراچی میں حدیث اور فقہ پڑھا رہے ہیںمفتی تقی عثمانی عالم اسلام کے مشہور عالم اور جید فقیہ ہیں آپ کا شمار عالم اسلام کی اہم ترین علمی شخصیات میں ہوتا ہے انتہائی سادہ مزاج مفتی تقی عثمانی 1980ء سے1982ء تک وفاقی شرعی عدالت اور1982ء سے2002ء تک عدالت عظمی پاکستان کے شریعت ایپلیٹ بینچ کے جج رہے، ایک بڑے عرصے تک اس منصب پر فائز رہنے کے بعد جنرل مشرف کی حکومت میں انہیں اس عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا، شریعت کورٹ میں انہوں نے ایک فیصلے میں بینکوں میں سود کو اسلامی نظام کیخلاف قرار دیا تھا۔ آپ اسلامی فقہ اکیڈمی، جدہ کے نائب صدر اور جامعہ دارالعلوم کراچی کے نائب مہتمم بھی ہیں، مولانا محمد تقی عثمانی کا پاکستان میں اسلامی بینکنگ کا نظام متعارف کرانے میں بھی بنیادی کردار رہا ہے جبکہ وہ اسلامی مالیاتی اداروں کے اکاؤنٹنگ اور آڈیٹنگ آرگنائزیشن کے چیئرمین بھی ہیں۔ شیخ الاسلام مولانا محمد تقی عثمانی44 سے زائد کتابوں کے مصنف اور ''البلاغ'' نامی جریدے کے مدیر بھی ہیں جو اردو اور انگریزی زبانوں میں شائع ہوتا رہا ہے۔ مولانا مفتی محمد تقی عثمانی کا خاندان سیاست سے دور رہا ہے جبکہ مذہبی طور پر ان کی پاکستان، افغانستان اور انڈیا میں پذیرائی کی جاتی ہے۔ پاکستان سمیت دنیا بھر میں مفتی تقی عثمانی کے شاگرد اسلام کی تعلیمات کو عام کرنے کا فریضہ سرانجام دے رہے ہیں۔ واضح رہے کہ افغان طالبان کے مرحوم امیر ملا محمد عمر سے مذاکرات کیلئے جب حکومت پاکستان نے علماء کا وفد اسلام آباد بھیجا تو اس میں مولانا مفتی تقی عثمانی کے بھائی مولانا محمد رفیع عثمانی شامل تھے جبکہ لال مسجد آپریشن سے قبل جب حکومت نے لال مسجد انتظامیہ سے مذاکرات کیلئے وفد بھیجا تو ان میں مفتی تقی عثمانی بھی شامل تھے۔ یاد رہے مفتی تقی عثمانی پر ایک ایسے وقت میں حملہ کیا گیا کہ جب پوری پاکستانی قوم یوم پاکستان منانے جا رہی تھی اور اس تقریب میں عالم اسلام کی اعلیٰ قیادت سمیت چین کے خصوصی دستوں نے بھی شرکت کرنی تھی سو اس تناظر میں دیکھا جائے تو بھارت کی طرف سے ممکنہ طور پر اس قاتلانہ حملے کی منصوبہ بندی ہو سکتی ہے ہمارے سیکورٹی اداروں کی یقیناً اس پہلو پر بھی نظر ہوگی لیکن حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کیس کو سردخانے میں نہ پڑنے دے اور قاتلانہ حملے میں ملوث عناصر کو جلد ازجلد کٹہرے میں لائے۔

متعلقہ خبریں