Daily Mashriq

ایک اور اجلاس ایک اور اعلامیہ

ایک اور اجلاس ایک اور اعلامیہ

نیوزی لینڈ میں مسلمانوں پر ایک قیامت برپا ہوگئی۔ قتل عام کی اس واردات نے ہر آنکھ کو نمناک کردیا۔ نیوزی لینڈ کے عوام اور حکومت تو اس واقعے پر اس قدر شرمسار ہیں کہ مسلمانوں کی دلجوئی اور ان کے زخموں پر پھاہا رکھنے کی ہر تدبیر کرنے میں مصروف ہیں۔ یادش بخیر اس واقعے نے احساس دلایا کہ مسلمان دنیا کی ایک تنظیم اسلامی تعاون تنظیم کے نام سے دنیا میں کہیں موجود ہے۔ یہ تنظیم ایسے مواقعے پر نظر نہ آئے تو بھی کوئی گلہ نہیں، نظر آجائے تو اسے غنیمت ہی سمجھنا چاہئے۔ حسب روایت او آئی سی نے نیوزی لینڈ واقعے پر غور کرنے کیلئے ترکی کے دارالحکومت استنبول میں وزرائے خارجہ کا ایک اہم اجلاس منعقد کیا۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اجلاس سے چند روز قبل ہی اطلاع دی تھی کہ نیوزی لینڈ واقعے پر غور اور لائحۂ عمل تیار کرنے کیلئے او آئی سی کا اہم اجلاس بلایا جا رہا ہے اور میں خود اس اجلاس میں شریک ہوں گا۔ نیوزی لینڈ میں شہید ہونے والے افراد کا تعلق دنیا کے مختلف ممالک سے تھا مگر اس واقعے میں دس کے قریب پاکستانیوں نے اپنی جانیں جان آفریں کے سپرد کیں۔ نیوزی لینڈ میں ہونے والے حادثے نے مسلمانوں کو عالمی سطح پر جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ جس خطرے کو محض ایک واہمہ اور خیالی سمجھا جاتا تھا وہ ایک حقیقی خطرے کی صورت میں سامنے آچکا ہے۔ مغرب میں ایک مخصوص ذہن کو مسلمانوں کی ان معاشروں اور ملکوں میں آمد گوارا نہیں۔ مغرب میں ایک بڑی تعداد کو گزشتہ کچھ دہائیوں سے اس بات سے خوف زدہ کر دیا گیا کہ اگر ان ملکوں میں مسلمان تارکین وطن اسی رفتار سے آتے رہے تو جلد ہی مغربی باشندے اپنی ہی سرزمین پر اقلیت بن کررہ جائیں گے اور مسلمان ان ملکوں میں اکثریت حاصل کرکے اپنی حکومتیں اور اپنے نظام اور قوانین لاگو کریں گے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ مغرب سے اس کی تہذیب چھن جائے گی اور مغربی باشندوں کو اپنے معاشرے میں ذمیوں کی حیثیت سے رہنا پڑے گا۔ اپنا کلچر اور تہذیب چھن جانے کا مطلب مغربی معاشروں کیلئے موت سے کم نہیں۔ نائن الیون کے بعد یہودی ذہن نے اس خطرے کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا اور یورپ کو باور کرایا اگر یورپ کی طرف مسلمانوں کی آمد کو روکا نہ گیا تو یورپ بہت جلد ''یوریبیا'' بن کر رہ جائے گا۔ یعنی یورپ پر عرب کلچر اور تہذیب غالب آئے گی۔ مغربی عورتوں کو اپنی وضع قطع چھوڑ کر سکارف اور برقعہ اوڑھنے پر مجبور کیا جائے گا۔ یہ اور اس طرح کے خوف مغربی باشندوں کے ذہنوں میں راسخ کئے گئے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مغرب میں شدید متعصب اور جنونی ذہن پیدا ہوگئے جو مسلمانوں سے نفرت کو مذہب کی حد تک اختیار کئے ہوئے ہیں۔ برینٹن ٹیرنٹ اسی ذہن اور نسل کا نمائندہ تھا۔ اس طرح نیوزی لینڈ کے واقعے نے اسلامی دنیا کیلئے خطرے کی ایک گھنٹی بجا دی ہے۔ او آئی سی مسلمان ملکوں کی تنظیم ہے مگر اس کی حیثیت کٹی ہوئی پتنگ سے زیادہ نہیں۔ یوں لگ رہا تھا کہ او آئی سی کی قیادت کے لبوں پر تالے چڑھا دئیے گئے ہیں۔ گوانتاناموبے، ابوغریب اور دشت لیلیٰ کے قید خانوں میں مسلمانوں پر انسانیت سوز مظالم ڈھانے کے علاوہ مسلمانوںکے کلچر اور مذہب پر قرآن کی توہین کرکے رکیک حملے کئے گئے۔ اسی عرصے میں مسلمانوں کو مزید ذہنی اذیت پہنچانے کیلئے گستاخانہ خاکے بنانے کا عمل شروع ہوا۔ اس پورے عرصے میں او آئی سی کا وجود ''ہر چند کہیں کہ نہیں ہے'' کے مخمصے کی دھند میں لپٹا رہا۔ یوں لگ رہا تھا کہ اب نیوزی لینڈ واقعہ نے شاید پانی سر سے گزر جانے کا احساس پیدا کیا ہوگا مگر یہ خیال بھی خام ہی ثابت ہوا۔ او آئی سی کے اس اجلاس سے وابستہ توقعات بھی پوری نہ ہوئیں۔ او آئی سی جب تک ناٹو کی طرح ایک فعال اور متحرک اتحاد کی شکل میں سامنے آتی اس کا وجود یونہی کٹی ہوئی پتنگ رہے گا۔ او آئی سی اگر واقعی مسلمانوں کے کاز کیلئے کچھ کرنا چاہتی ہے تو اسے اپنی موجود سست روی ترک کرنا ہوگا۔ مسلمان دنیا کے سلگتے ہوئے مسائل پر جاندارانہ موقف اپنانا ہوگا۔ اجلاس تو پہلے ہی منعقد ہوتے رہے ہیں اور اس کا ''غور وفکر'' اور اظہار تشویش بھی مدتوں سے جاری ہے اس سے کچھ بھی نہیں بدلا۔ اب بھی وہی روش جاری رہی تو اس کا مطلب کبوتر کی طرح بلی کو دیکھ کر آنکھیں موند لینا ہوگا۔ استنبول اجلاس بھی اصل خطرے کی نشاندہی اور احتجاج کی رسم سے زیادہ کچھ اور نتیجہ نہ دے سکا۔ اس اجلاس میں شرکاء نے یہ کہہ کر اپنی ذمہ داریاں اقوام متحدہ کے کندھے پر ڈال دیں کہ عالمی ادارہ ''اسلاموفوبیا'' کے حوالے سے ایک خصوصی سیشن منعقد کرے۔ او آئی سی کے باخبر وزرائے خارجہ کو معلوم ہونا چاہئے تھا کہ یہ وہی ہیں جو ''اسلاموفوبیا'' کا ایفل ٹاور تعمیر کر چکے ہیں۔ او آئی سی کو خود کیا کرنا ہے؟ اصل سوال تو یہ ہے۔ وسائل کی ان کے پاس کمی نہیں، بہترین دماغ ان کے پاس موجود ہیں ذرائع ابلاغ اب کمرشل ہوچکے ہیں جنہیں پیسے دیکر استعمال میں لانا آسان ہوگیا ہے۔ اس ماحول میں مسلمان دنیا کو اسلاموفوبیا کے خاتمے کیلئے فنڈ قائم کرنا چاہئے تھا اور پھر اسلام دشمن ذہنیت کے فروغ کو روکنے کیلئے ان وسائل کو بروئے کار لانا چاہئے تھا۔ اس بار تو او آئی سی کے اجلاس میں کچھ غیر متوقع اور ماضی سے مختلف ہونے کی امید تھی مگر اس بار بھی پہاڑ کھودا تو تشویش اور مذمت کا مرا ہوا چوہا ہی برآمد ہوا۔ ایسے ہی وقتوں کے بارے میں مرزا غالب نے کہا ہوگا

تھی خبر گرم کہ غالب کے اڑیں گے پرزے

دیکھنے ہم بھی گئے تھے پہ تماشا نہ ہوا

متعلقہ خبریں