Daily Mashriq


آئینے بیچتا ہوں میں اندھوں کے شہر میں

آئینے بیچتا ہوں میں اندھوں کے شہر میں

ڈاکٹر مہاتیر محمد کی یہ بات سونے کے الفاظ میں لکھنے کے قابل ہے بلکہ بقول احمد فراز

سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں

یہ بات ہے تو چلو بات کرکے دیکھتے ہیں

کہ انہوں نے یہ کہہ کر واقعی اپنے لبوں سے پھول مہکانے کی کوشش کی ہے اور کہا ہے کہ ہمارے وزراء پھولوں کے سوا کوئی تحفہ قبول نہیں کرتے اور پانچ سو ڈالر سے زیادہ کا تحفہ ملائیشیاء میں کرپشن کے زمرے میں آتا ہے۔ یہ گویا انہوں نے دنیا کے کرپٹ ممالک کے سیاسی رہنماؤں کو آئینہ دکھانے کی سعی کی ہے جو یقینا آئینہ ان کو دکھایا تو برا مان گئے کی تفسیر بن کر اپنے ردعمل کا اظہار کرسکتے ہیں اور ممکن ہے کہ اس آئینے ہی کو توڑ ڈالیں جو ان کے مکروہ چہروں کو دکھانے کی جرأت کر بیٹھتا ہے۔ اس موقع پر اس مغل شہزادی اور اس کی کنیز کے درمیان ہوا مکالمہ یاد آنا بھی قدرتی بات ہے کہ جب کنیز کے ہاتھوں سے آئینہ گر کر ٹوٹ گیا تو اس نے ڈرتے ڈرتے اپنی شہزادی کو مخاطب کرتے ہوئے مصرعہ باندھا

ازخطا آئینۂ چینی شکست

جواب میں مغل شہزادی نے بھی کیا خوب مصرعہ بطور گرہ لگایا کہ

خوب شد' اسباب خود بینی شکست

آئینہ حالانکہ کبھی جھوٹ نہیں بولتا مگر یہ جو بعض لوگ خود نمائی کیلئے چہروں پر غازہ مل کر خود کو دنیا پر خوبصورت ظاہر کرتے ہیں وہ آئینے کا سامنا کرتے ہوئے اندر ہی اندر ضرور سوچتے ہیں کہ دیکھو میری اصلی حالت تو بہت قابل رحم ہے۔ مگر دنیا کو جھوٹ کہہ کر اپنا مصنوعی چہرہ دکھا رہا ہوں۔ ڈاکٹر مہاتیر محمد نے ایسے ہی لوگوں کو ان کا اصل چہرہ دکھانے میں ذرا تامل نہیں کیا اور ملائیشیاء میں صرف پھولوں کے بطور تحفہ قبول کرنے کی بات کرکے سرکاری توشہ خانے کی بندر بانٹ کی جانب توجہ دلا دی ہے۔ دنیا بھر کے رہنماء جب بھی دیگر ممالک کے دوروں پر جاتے ہیں تو انہیں وہاں سرکاری طور پر تحفے تحائف پیش کئے جاتے ہیں جو دراصل اس ملک کے سرکاری توشہ خانہ میں جمع ہونے چاہئیں جہاں سے ان کا تعلق ہوتا ہے مگر بعض ممالک کے یہ اہم سرکاری اہلکار اور حکمران اس قدر ''ندیدے'' ہوتے ہیں کہ یہ سرکاری تحائف اپنے ذاتی استعمال میں لانے کیلئے طرح طرح کے بہانے ڈھونڈتے ہیں۔ اس کا حل یوں ڈھونڈا گیا کہ جو بھی تحفہ کسی باہر کے ملک سے ملا اس کو ہتھیانے کیلئے ایک طریق کار یوں طے کیا گیا کہ اس کی اصل قیمت کا تعین کرکے یعنی مارکیٹ ویلیو کے مطابق (پوری قیمت نہیں) رعایتی قیمت (غالباً 20سے30فیصد؟) سرکاری خزانے میں جمع کرا کے وہ تحفہ اپنے تصرف میں لانے کا راستہ ڈھونڈا گیا۔ ایسا آج سے نہیں گزشتہ کئی دہائیوں سے ہو رہا ہے اور مختلف ادوار میں صدور مملکت' وزرائے اعظم اور وزراء وبیوروکریٹس نے اسی سہولت سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے ''سیاسی رشوت'' کے در کھولنے میں اپنا اپنا کردار ادا کیا۔ جون ایلیاء نے کہا تھا

ہے سیاست سے تعلق تو فقط اتنا ہے

کوئی کم ظرف مرے شہر کا سلطان نہ ہو

مگر اسے کیا کہا جائے کہ ایسے کم ظرفوں کی بعض ممالک میں بہتات رہتی ہے۔ ایسے ہی کئی کم ظرفوں کے بارے میں خبریں آتی رہی ہیں جو قیمتی گھڑیاں' ہیروں کی انگوٹھیاں سرکاری توشہ خانے میں جمع کرانے سے پہلے ہی انتہائی کم قیمت دیکر غتر بود کرگئے۔ ایک تو وہ بھی ہیں جن کی بیگم کو ایک انتہائی قیمتی ہار بیرونی دورے کے موقع پر تحفے میں ملا تو اس کا اندراج تک توشہ خانہ کے رجسٹر میں کرانے کی زحمت نہیں کی گئی اور جب بات کھلی تو انہیں پکارنے کیلئے سرکاری عمال کو چاہ یوسف میں صدائیں دینی پڑیں جبکہ وہ ہار کی موجودگی سے پہلے منکر ہوگئے مگر جب کوئی چارہ نہ رہا تو مجبوراً بلکہ بادل ناخواستہ ان کی بیگم کے گلے سے وہ ہار اُتار کر واپس کرنا پڑا۔ ایسے ہی لوگوں کے بارے میں شاعر نے کہا ہے

ہزار طعنے سنے گا خجل نہیں ہوگا

یہ وہ ہجوم ہے جو مشتعل نہیں ہوگا

یہ جو ڈاکٹر مہاتیر محمد نے ہمیں تحفے اور کرپشن کے بیچ فرق بتایا ہے اس کا اطلاق اب ہمیں بھی اپنے ملک میں کرنے کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا پڑے گا اور قومی اسمبلی میں ایک مسودہ قانون لا کر اس بات کا فیصلہ کرنا پڑے گا کہ آج کے بعد بیرون ملک کے دوروں کے دوران یہ جو ''خیرسگالی'' کے نام پر تحفے وصول کئے جاتے ہیں ان کو یا تو کلی طور پر سرکاری توشہ خانے کا حصہ بنا کر سرکاری ملکیت قرار دیا جائے گا یا پھر کسی کو بہت ہی شوق ہو تو اس کی عالمی مارکیٹ میں قیمت کا تعین کرکے پوری قیمت وصول کرنے کے بعد ہی اسے ''شوقین'' کے حوالے کیا جائے گا۔ یہ جو صرف 20'30 فیصد رقم ادا کرکے قیمتی تحائف ہتھیانے کا ''کاروبار'' ایک عرصے سے جاری ہے اسے اب مکمل طور پر بند ہونا چاہئے بلکہ قانون سازی کرتے ہوئے اس بات کی پابندی بھی ضرور قرار دی جائے کہ جیسے ہی کوئی تحفہ باہرکے دوروں کے دوران وصول ہوتا ہے اس کی پوری معلومات سرکاری سطح پر ایوان کے سامنے پیش کی جائیں تاکہ اس کو توشہ خانے کے ریکارڈ پر لا کر عوامی نمائندوں کو اعتماد میں لیا جاسکے۔ اس کے بعد اگر جس بھی شخص کو یہ سرکاری تحفہ ملا ہے وہ اسے حاصل کرنے کا خواہشمند ہو تو پوری قیمت ادا کرکے اپنی ملکیت بنالے' بصورت دیگر اسے سیاسی رشوت سے تشبیہہ دے کر اسے خزانہ عامرہ میں محفوظ کرلیا جائے۔

کیا پوچھتے ہو حال مرے کاروبار کا

آئینے بیچتا ہوں میں اندھوں کے شہر میں

متعلقہ خبریں