Daily Mashriq


اک اشک میرے صبر کی توہین کرگیا

اک اشک میرے صبر کی توہین کرگیا

نہ ہم صوبائی گلڈ ایوارڈ تقسیم کرنے کی تقریب منعقد کراسکے، نہ کسی کو اس تقریب کی صدارت کیلئے بلوا سکے، نہ کسی کے گلے میں مہمان خصوصی کی مالا پہنا سکے، بس کچھ یوں کیا کہ پاکستان رائٹرز گلڈ ٹرسٹ لاہور نے مبلغ پندرہ ہزار کی جو رقم بھیجی تھی اس میں سے ڈاک کا خرچہ اور سرٹیفکیٹ تیار کرنے پر اٹھنے والے اخراجات منہا کرکے باقی بچنے والی رقم سال2017 کے دوران شائع ہوکر گلڈ کے صوبائی ایوارڈ کیلئے بھیجی گئی۔ پشتو اور ہندکو کی منتخب ہونیوالی کتابوں کے مصنفین میں تین ہزار روپے فی مصنف برابر برابر تقسیم کرکے حقوق بہ حقدار رسید کے مصداق اپنے آپ کو اس ذمہ داری سے فارغ سمجھنے لگے۔ رقم ہی کتنی تھی جو ہم تقریب تقسیم ایوارڈ برپا کرنے کا ہنگامہ کرتے، ایوارڈ یافتگان مسافتیں طے کرتے، راستے کی تکان برداشت کرتے، زاد راہ خرچ کرکے ہمارے دوارے پہنچتے اور ہم تقریب منعقد کرکے صرف تین ہزار روپے کا چیک ان کی جھولی میں ڈال کر لات مار دیتے حاتم طائی کی قبر پر جس کے صلے میں فوٹو سیشن برپا کرنے کے علاوہ

بازیچۂ اطفال ہے دنیا میرے آگے

ہوتا ہے شب وروز تماشا مرے آگے

ہمیں جب کسی تقریب میں تالیاں پٹوانے تالیاں مارنے یا تالیاں بجانے والوں کی حیثیت سے بلاوا آتا ہے تو بڑے ادب اور احترام سے معذرت کرتے ہوئے کہہ دیتے ہیں کہ پار کرچکے ہم عمر کی وہ حد جب خالو خلیل فاختائیں اڑایا کرتے تھے۔ بہت کٹھن ہوگیا ہے دور پار سے چل کر کسی محفل میں شرکت کرنا

ہوگئے مضمحل قویٰ غالب

اب عناصر میں اعتدال کہاں

لیکن اکادمی ادبیات پاکستان اور ادارہ فروغ ہندکو کے اشتراک سے منعقد ہونے والی سردار فاروق احمد جان بابر آزاد کی شام پذیرائی کا بلاوا پاتے ہی ہم وہاں سر اور آنکھوں کے بل چل کر پہنچ گئے کہ وہاں پہنچنا اور ان کی شان میں اپنے چند ٹوٹے پھوٹے الفاظ کی مالا پروکر ان کے گلے میں ڈالنا ہمارے لئے باعث عزت وافتخار تھا۔ ہم نے ان پر مضمون پڑھنے کے علاوہ اپنی ایک ہندکو نظم میں ان کے علمی اور ادبی قد کاٹھ کا ذکر کرتے ہوئے جب یہ بات کہی کہ ''پولیس کی نوکری بھی ان کا کچھ نہ بگاڑ سکی اور سچی بات تو یہ ہے کہ وہ اتنے شریف النفس بھولے باچھا اور دیالو ثابت ہوئے ہیں جیسے اللہ میاں کی گائے ہو'' ہمارا اتنا عرض کرنا تھا کہ ساری محفل زعفران زار بن کر تالیاں پیٹنے کی بجائے تالیاں بجانے لگی۔ اس دوران سامعین میں تشریف فرما ممتاز شاعر ڈاکٹر اویس قرنی سے نہ رہا گیا، آپ دوڑتے ہوئے ڈائس پر پہنچے اور راقم السطور کو دادستائش کے علاوہ اس کی جھولی میں سو روپے ضرب پاکستانی جس کا نصف پچاس روپے ہوتے ہیں بطور انعام ڈال گئے۔ یہ فارغ بخاری کا جلیل حشمی کو دیا جانے والا سو روپے کا نوٹ تھوڑا تھا، جس کی کچھ قدر وقیمت ہوتی، سو میں نے ڈاکٹر اویس قرنی کے سو روپے کے نوٹ کی قدر بڑھانے کیلئے اس نوٹ پر ان کا آٹوگراف لے لیا۔ یاد نہیں پڑتا ہم نے اپنے ہوش کی طرح اس نوٹ کو کہاں ٹھکانے لگا دیا۔ اللہ نہ کرے کہیں وہ میری شریک جیب کے ہاتھ چڑھ کر کسی لون مرچ یا نانبائی حلوائی کی دکان پر نہ پہنچ گیا ہو۔

قدرت اللہ شہاب، جمیل الدین عالی، قتیل شفائی، قرة العین حیدر، محمد طفیل نقوش، فارغ بخاری، امیر حمزہ شنواری، محمد اعظم اعظم، سردار خان فنا، غلام محمد قاصر اور ان جیسے آسمان علم وادب کے کتنے دمکتے ستارے تھے جو اس تاریخ ساز تنظیم سے وابستہ رہے، جب سے ہم اس تنظیم سے وابستہ ہوئے ہر سال پشتو اور ہندکو زبان میں شائع ہونے والی بہترین کتابوں کو صوبائی گلڈ ایوارڈ دینے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں، جس کیلئے ہماری درخواست پر تخت لاہور کی گلڈٹرسٹ کی جانب سے اونٹ کے منہ میں زیرہ کے مصداق ہمیں پیسے بھیج کر اس دھن کو سفید کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جو لاہور میں پاکستان رائٹرز گلڈ کی کروڑہا روپے مالیت کی جائیداد سے حاصل ہورہی ہے۔ ہم گلڈ کے صوبائی سیکرٹری ہیں، تخت لاہور والوں نے ہمیں کبھی بھی گلڈ کی جائیداد سے ہونے والی آمدن اور اس کے خرچ سے آگاہ کرنا ضروری نہیں سمجھا کیونکہ ایک مدت سے ہمیں بہلا دیا جاتا اس لالی پاپ سے جس کا ذکر ہم نے گلڈ صوبائی ایوارڈ کی روداد سنا کر آپ سے کیا، ہم پاکستان رائٹرز گلڈ کی جائیداد پر لاہور والوں کے قبضہ کو جائز قرار دیتے اگر وہ گلڈ کے منشور کی پاسداری کرتے ہوئے اس کی جنرل باڈی کا اجلاس منعقد کروا کر ہر صوبہ سے باری باری اس کے سیکرٹری جنرل کا انتخاب کرواتے رہتے، لیکن افسوس کہ ہماری بار بار کی درخواست گزاری کے باوجود گلڈ اور گلڈ کی جائیداد کے قابضین ایسا نہ کر سکے،سچ پوچھیں تو صوبائی گلڈ ایوارڈ کیلئے نام نہاد رقم بھیج کر ان مصنفین کی توہین کا جرم کررہے ہیں جو اپنی جمع پونجی اور خون جگر صرف کرنے کے بعد کوئی کتاب شائع کرکے ناموس قلم کا مان رکھتے ہیں، تخت لاہورکے قبضہ مافیا کی جانب سے روا رکھے جانے والے اس توہین آمیزظلم کیخلاف صدائے احتجاج بلند کرتے ہوئے سردست صرف اتنا عرض کئے دیتے ہیں کہ

پلکوں کی حد کو توڑ کر دامن پہ آگرا

اک اشک میرے صبر کی توہین کر گیا

متعلقہ خبریں