Daily Mashriq


بچوں کیساتھ زیادتی کے واقعات اور سدباب

بچوں کیساتھ زیادتی کے واقعات اور سدباب

پچھلے پانچ ماہ سے ملک کے چوٹی کے ماہرین نفسیات ارباب اقتدار کے آگے دہائی دے رہے ہیں کہ بچوں کیساتھ آئے روز ہونے والے ریپ، جنسی تشدد اور قتل کے واقعات کو محض جرم سمجھنے کی بجائے ان کی روک تھام کیلئے مؤثر اقدامات کئے جائیں مگر یہ تمام تر کاوشیں رائیگاں جاتی محسوس ہوتی ہیں۔اس تحریک کا آغاز پچھلے برس اکتوبر میں ذہنی صحت کے عالمی دن کے موقع پر پاکستان ایسوسی ایشن فار مینٹل ہیلتھ کی جانب سے بچوں کیساتھ پیش آنے والے جنسی تشدد کے واقعات کی جانب توجہ مبذول کرنے کیلئے کیا گیا تھا۔ عالمی ادارہ صحت نے بھی اس موضوع کی اہمیت اُجاگر کرنے کیلئے گزشتہ برس یہ دن ''بدلتی دنیا میں نوجوانوں کو درپیش ذہنی مسائل'' کے اہم موضوع کے تحت منایا تھا۔ پاکستان ایسوسی ایشن فار مینٹل ہیلتھ کے اس موضوع کو چننے کی ایک وجہ قصور واقعہ بھی تھی جس میں سات سالہ بچی زینب کو اغوا اور ریپ کے بعد قتل کرنے کے ہولناک واقعے نے پوری قوم کو نو ماہ تک شدید غم وغصے میں مبتلا کئے رکھا تھا۔ یہ واقعہ ایک طویل عرصہ تک خبروں کی شہ سرخی رہا اور پوری قوم کی جانب سے مجرم کیلئے جو اس سے پہلے بھی کئی بچیوں کیساتھ یہ قبیح جرم کر چکا تھا، سزائے موت کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔ اس غم وغصے میں ایک اور مطالبہ جس کی توانا آواز کی بازگشت نے سب کی توجہ حاصل کی وہ آئندہ کسی ایسے واقعے کی روک تھام کیلئے ضروری اقدامات کرنے کا تھا۔ مگر افسوس کہ اس تمام تر احتجاج کے باوجود ایسے واقعات میںکوئی کمی نہیں آسکی۔ بچوں کیساتھ ہونے والے جنسی تشدد اور جرائم پر کام کرنے والے ایک این جی او، ساحل کے مطابق سال2018 کے پہلے حصے میں صرف پنجاب بھر سے 12,332 ایسے کیسز سامنے آئے یعنی یہاں روزانہ تقریباً بارہ بچے جنسی زیادتی کا شکار ہوتے رہے۔پاکستان کا شمار انڈ آف چائلڈہوڈ انڈیکس کی174ممالک پر مشتمل فہرست میں149 ویں نمبر پر ہوتا ہے۔ یہ انڈیکس ان ممالک کی درجہ بندی کرتا ہے جہاں بچوں کیساتھ ایسے واقعات تواتر سے پیش آتے ہیں جو ان سے ان کا بچپن چھین لیتے ہیں۔پاکستان ایسوسی ایشن فار مینٹل ہیلتھ نے ایسے واقعات کے تدارک اور ان کے اسباب کی بیخ کنی کیلئے کئی تجاویز فراہم کی ہیں۔ اس میں سردست ایک ایسی مؤثر آگہی تحریک شامل ہے جس میں ذرائع ابلاغ کے ذریعے ملک میں ان واقعات اور مسائل کی سنجیدگی اور نزاکت کے بارے عوام میں آگہی پھیلائی جائے۔ عوام اور بالخصوص والدین کو بچوں کی جسمانی صحت کیساتھ ساتھ ذہنی اور نفسیاتی صحت کا خیال رکھنے کی بھی تربیت دی جائے جسے ذرا بھی درخور اعتنا نہ سمجھنا یہاںکا معمول ہے۔ معاملے کی نزاکت اور حالت کی سنگینی کو بھانپتے ہوئے ماہرین نفسیات، بچوں کو بھی اپنی حفاظت اور خیال رکھنے کی تربیت اور آگہی دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں اور انہیں ان موضوعات کے بارے میں پرائمری اور سکینڈری سطح پر باقاعدہ تعلیم دینے کے بھی حامی ہیں۔ ماہرین کا کہنا تھا کہ والدین کو بھی ان مسائل کی حساسیت کے بارے آگاہی دینے کیساتھ انہیں اس بات پر بھی قائل کرنا ہوگا کہ وہ اپنے بچوں سے اعتماد کا ایسا رشتہ بنائیں جس میں بچے اپنے ساتھ ایسے کسی واقعے کے رونما ہونے کی صورت میں ماں پاب کو آگاہ کر سکیں۔ ان تمام تجاویز کو عملی جامہ پہنانے کیلئے ماہرین نے ''لائف سکلز'' کے ایک کورس کو بچوں کے نصاب کا حصہ بنانے کی تجویز بھی دی جس میں انہیں اپنی جسمانی اور ذہنی صحت کا خیال رکھنے کی تربیت دی جائے گی۔ رواں برس فروری میں نئی تعلیمی پالیسی کے اجرا سے پہلے بھی وزارت تعلیم کے سامنے یہ تجویز دوبارہ رکھی گئی تھی البتہ اب تک اس پر کان نہیں دھرے گئے۔ سندھ حکومت نے اس تجویز کی روشنی میں ماہرین سے آراء طلب کی تھیں جس کے بعد ایسوسی ایشن نے صوبائی محکمہ تعلیم کیلئے پانچ موضوعات پر مبنی ایک کورس بھی ترتیب دیا تھا جس میں بنیادی صحت اور بیماریوں، منشیات ا ور نفسیاتی رویوں، صحیح اور غلط لمس اور ایسے دیگر بنیادی علوم کے بارے میں آگہی فراہم کی جانا تھی۔ گوکہ سندھ حکومت نے اس مجوزہ کورس کے تحت چند اساتذہ کو تربیت دینے کے ایک پروگرام کا آغاز کیا تاہم اب تک اس پروگرام کو عملی جامہ پہنانے کیلئے کسی مؤثر سیاسی اقدام یا مالی وسائل کی فراہمی کو لیکر سنجیدگی دیکھنے میں نہیں آئی۔ جنسی تشدد، بچوں کے اغوا، ریپ اور قتل کے واقعات کا نہ رکنے والا سلسلہ پاکستان کی آئندہ نسل اور مستقبل کیلئے ایک بڑا خطرہ ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ ایسے واقعات سے بچاؤ اور ان کے اسباب کی بیخ کنی کیلئے ماہرین کی تجاویز اور آراء پر سنجیدگی سے عمل کیا جائے اور صوبائی محکمہ تعلیم کیساتھ ساتھ ملک میں یکساں نصاب رائج کرنے کا عزم رکھنے والی وفاقی حکومت بھی اس ضمن میں اپنی ذمہ داری ادا کرے۔ پی ٹی آئی حکومت کو اپنے محدود مشیروں کے گھیرے سے نکل کر ماہرین کی دانش سے بھی استفادہ کرنا چاہئے وگرنہ ان واقعات سے ہونے والے نقصان کا اندازہ لگانا بھی ناممکن ہے۔

وقت آچکا ہے کہ اب ان موضوعات پر حکومت اور ماہرین کھل کر بات کریں اور ان سے بچاؤ کیلئے ایک لائحہ عمل تشکیل دیا جائے وگرنہ دوسری صورت میں حکومت کا اس جانب سنجیدگی سے توجہ نہ دینا ہمارے بچوں، نوجوان شہریوں اور ملکی مستقبل سے کھلواڑ کرنے کے مترادف ہوگا۔

(بشکریہ ڈان۔ ترجمہ، خزیمہ سلیمان)

متعلقہ خبریں