پاک بھارت تعلقات میں بہتری ، سنجیدہ کوششوں کی ضرورت

پاک بھارت تعلقات میں بہتری ، سنجیدہ کوششوں کی ضرورت

ماہ صیام کے ان چند دنوں کے اندر بھارت کی طرف سے کنٹرول لائن پر سیز فائر معاہدے کی دوسری مرتبہ خلاف ورزی مارٹر گولوں اور بھاری ہتھیاروں کا استعمال بلا وجہ اشتعال انگیزی کے زمرے میں ہی نہیں آتا بلکہ بھارت کی اس مسلسل چھیڑ چھاڑ کے پس پردہ کوئی منصوبہ بھی کار فرما نظر آتا ہے۔ معلوم نہیں کہ بھارت دوسری قوتوں کی شہ پر خطے کا امن خطرے میں ڈالنے کے درپے کیوں ہے۔ اب تو عالم یہ ہے کہ کوئی دن نہیں جاتا جب بھارت کنٹرول لائن پر کوئی نہ کوئی شرارت نہ کرے۔ ایک اندازے کے مطابق امسال بھارت چار سو سے زائد مرتبہ سرحدی خلاف ورزی کا ارتکاب کر چکا ہے جس میں درجنوں شہری شہید ‘ مویشی ہلاک اور املاک کو نقصان پہنچا۔ بھارت کی ان شر انگیز کارروائیوں کے تسلسل کا مقصد یہی نظر آتا ہے کہ پاک فوج کی جانب سے کسی بڑے جواب کا مظاہرہ کیا جائے اور بھارت کے تیز طرار سفراء اسے پاکستانی جارحیت کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کرکے پاکستان کو بدنام کیا جائے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ بھارت نے دونوں ملکوں کے مابین سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کو معمول بنا لیا ہے اور بھارتی فوج بد مستی کے عالم میں جب چاہے اندھا دھند فائر کھول کر نہ صرف سرحدی آبادی کو نشانہ بناتی ہے بلکہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں استحکام اور اعتماد پر بھی توپ کے گولے داغ کر ملیا میٹ کرتی ہے جس سے نہ صرف پاکستانی عوام میں بے چینی اور غم و غصہ کی لہر دوڑ جاتی ہے بلکہ خود بھارت کے عوام کو بھی اپنی فوج کی اس حرکت سے شدید اختلاف ہوگا اور ہونا بھی چاہئے۔ خاص طور پر سرحدی علاقے کے عوام کو اس لئے زیادہ مشکلات پیش آتی ہیں کہ پاکستان کی طرف سے جوابی اقدامات پر ان کا بھی متاثر ہونا فطری امر ہوتاہے۔ سمجھ سے بالا تر امر یہ ہے کہ بھارت اس قسم کی صورتحال کیوں پیداکرنا چاہتا ہے۔بھارت کی طرف سے ہی بار بار سرحدی خلاف ورزی ہوتی ہے جس کا مسکت جواب دینا پاکستان کی مجبوری اور دفاع کا تقاضا ہوتا ہے۔ بھارت ہر بار جنگ کی صورتحال پیدا کرکے خطے کا امن خطرے میں ڈالنے کا باعث بنتا ہے۔ مگر ہر بار پاکستان کی جانب سے تحمل کا مظاہرہ ہی سامنے آتا ہے۔ پاکستان نے رسمی احتجاجی مراسلہ دینے اور بھارتی ہائی کمشنر کی طلبی اور احتجاج کا روایتی راستہ ہی اختیار کیا ہے لیکن بھارت کے اقدامات اس قدر گمبھیر اور نا قابل برداشت ہیں کہ محض رسمی احتجاجی مراسلوں سے بھارت اپنی حرکتوں سے باز آنے والا نظر نہیں آتا بلکہ بھارت سرحدی کشیدگی میں کمی کی بجائے اضافے کا خواہاں ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ جہاں سرحدوں پر پاکستانی شہریوں کے تحفظ کے لئے دفاعی اقدامات پر توجہ دے وہاں اس معاملے کو بھارت کے ساتھ مختلف فورمز پر اٹھانے کے علاوہ اقوام متحدہ کی سطح پر بھی اس مسئلے کو اٹھا یا جائے او ر عالمی ضمیر کو جھنجھوڑا جائے۔ عالمی برادری کو اس امر کا ادراک ہونا چاہئے کہ اس طرح کی صورتحال سے خطے کا امن خطرے میں پڑ سکتا ہے جس کا ذمہ دار بھارت ہوگا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کو شہریوں کو بلا جواز نشانہ بنانے، ان کے مویشیوں اور املاک کی بلا وجہ تباہی کے بھارتی اقدامات کی نہ صرف مذمت کرنی چاہئے بلکہ بھارت پر دبائو ڈالا جائے کہ وہ جارحانہ حرکتوں سے باز آجائے۔ خطے کا امن جنوبی ایشیاء میں استحکام کے لئے ضروری ہے اس لئے خطے کے دیگر ممالک کو بھارت کو اس قسم کی احمقانہ حرکتوں سے باز رکھنے میں اپنا کردار اداکرنے کے لئے پوری طرح آگے آنے کی ضرورت ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ اس طرح کی صورتحال میں قیام امن مشکل ضرور ہے لیکن نا ممکن نہیں کوشش کرکے اسے حاصل کیاجاسکتا ہے۔ اس صورتحال کے حوالے سے دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات کے ذریعے کشیدگی کا خاتمہ کرنا ہی بہتر حل ہوگا جب تک اس کے لئے راہ ہموار نہیں ہوتی تب تک دونوں ملکوں کے حق میں بہتر یہ ہوگا کہ وہ تعلقات میں بہتری لانے کے لئے دونوں ممالک کے شہریوں کی ایک دوسرے کے ملک آنے جانے میں سہولیات دینے پر توجہ دیں، ویزے کی شرائط میں نرمی کی جائے اور ایک دوسرے کے ملک آنے جانے والے شہریوں کی بلا وجہ نگرانی اور ہراساں کرنے کا سلسلہ ترک کیا جائے۔ دونوں ملکوں کے درمیان سفری سہولیات میں اضافہ کیا جائے دونوں ملکوں کے درمیان ثقافتی و ادبی وفود کے تبادلوں میں اضافے پر توجہ دی جائے اور دونوں ملکوں کے درمیان کھیلوں کے روابط کے فروغ اور خاص طور پر کرکٹ کے روابط کی فوری بحالی پر توجہ دی جائے۔دونوں ممالک کے درمیان بہتر تعلقات خطے کے امن کے لئے نہایت ضروری ہیں۔ باہم تعلقات میں کشیدگی کا عنصر خطے میں کشیدگی اور عدم استحکام کا باعث بن رہا ہے جس کا جتنا جلد احساس و ادراک ہوگا اتنا ہی بہتر ہوگا۔توقع کی جانی چاہئے کہ بھارت سرحدی کشیدگی میں بلا وجہ اضافہ سے باز آئے گا اور کشیدگی کے ماحول کا جلد خاتمہ ہوگا۔

اداریہ