Daily Mashriq

نگران وزیر اعظم کے تقرر کا معاملہ جلد طے ہونا چاہئے

نگران وزیر اعظم کے تقرر کا معاملہ جلد طے ہونا چاہئے

نگران وزیر اعظم کے نام پر اتفاق رائے کے باوجود ڈیڈ لاک کا عندیہ دیا جا رہا ہے یا واقعی اس کو قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور وزیر اعظم نے لاینحل مسئلہ بنا دیا ہے ۔جو نام میڈیا میں لئے جا رہے ہیں ان میں سے کسی ایک نام پر اتفاق نہ ہونے کی بظاہر کوئی وجہ نہیں۔ سیاست میں بظاہر اور درون خانہ کے معاملات میں فرق ہونا بھی نا ممکن نہیں۔ بہر حال نگران وزیر اعظم کے نام پر تجسس کا اب خاتمہ ہونا چاہئے اور دونوں رہنمائوں کو کسی ایک نام پر بہر صورت متفق ہو کر نگران وزیر اعظم کے نام کا اعلان کردینا چاہئے۔ اس معاملے کو سیاسی زعماء کے درمیان مشاورت ہی سے حل ہونا چاہئے اور تین جون سے قبل معاملہ طے ہونا چاہئے۔ ہمارے تئیں دو افراد یا دو جماعتوں کی قیادت کے درمیان اتفاق رائے نہ ہونے کے بعد اگر معاملہ دوسرے مرحلے میں پارلیمانی کمیٹی میں چلا جائے تو وہاں پر اتفاق رائے میں مزید پیچیدگیاں پیداہوں گی اور بالآخر یہ معاملہ الیکشن کمیشن کے پاس جائے گا جو خود سیاستدانوں کے لئے کوئی اچھی صورت نہ ہوگی۔ گو کہ نگران وزیر اعظم کا کردار اور مدت دونوں محدود اور مختصر ہوتے ہیں لیکن بہر حال اس کا انتخاب متفقہ اور سب کے لئے قابل قبول ہونا احسن ہوگا۔ یا کم از کم جن قائدین کو اس عہدے پر چنائو کا آئینی حق حاصل ہے ان جماعتوں کے درمیان اتفاق رائے تک پہنچا جائے تاکہ نگران وزیر اعظم کا مقررہ وقت پر تقرر ہوسکے اور ملک میں نگران حکومتیں قائم ہو جائیںاور عام انتخابات کے انعقاد کی طرف پیش رفت ہو۔
انکاری نجی تعلیمی اداروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے
خیبر پختونخوا میں نجی تعلیمی اداروں کی ایک تنظیم کی جانب سے فیسوں سے متعلق ریگولیٹری اتھارٹی کے اقدامات کو ناقابل قبول قرار دیکر سکولوں کی بندش پر مجبور ہونے کا عندیہ دیا گیاہے جبکہ دوسری جانب ایک اور تنظیم کے عہدیداروں نے پرائیویٹ سکولز ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئر مین سے ملاقات کرکے پی ایس آر اے ایکٹ اور پشاور ہائیکورٹ کے احکامات پر عملدرآمد کی یقین دہانی کرائی ہے۔ ایک اور تنظیم کی جانب سے فیسوں سے متعلق عدالتی فیصلے سے چھوٹے اور پست درجے کی تعلیمی اداروں کے استثنیٰ کی اپیل دائر کردی ہے جبکہ بعض بڑے سکول ریگولیٹری اتھارٹی سے تعاون پر تیار نہیں حالانکہ اس درجے کے سکولوں کے لئے ان احکامات پر عملدرآمد چنداں مسئلہ نہیں۔ یوں خیبر پختونخوا میں یہ معاملہ کافی گنجلک بنا دیا گیا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ نجی سکولوں کے پاس زیادہ سے زیادہ اپنے معروضات پیش کرنے اور مشکلات سے متعلقہ حکام کو آگاہ کرکے رعایت کے حصول کی گنجائش موجود ہے لیکن جن سکولوں پر اس کا اطلاق ہونا چاہئے ان کے با اثر مالکان استطاعت رکھنے کے باوجود احکامات ماننے پر تیار نہیں ۔ اس قسم کی صورتحال میں طلبہ کے والدین دوہری مشکلات اور مخمصے کاشکار ہیں کیونکہ ان پر سکولوں کی جانب سے برابر اس بات پر دبائو ڈالا جا رہا ہے کہ چھٹیوں کی فیسیں ایڈوانس اور مکمل جمع نہ کرانے پر ان سے فی روز پچاس روپے کے حساب سے لیٹ فیس وصول کی جائے گی۔ ریگولیٹری اتھارٹی کی جانب سے احکامات ماننے سے انکاری جن سکولوں کے بنک اکائونٹس منجمد کئے گئے تھے اس کا کوئی اثر نہیں ہوا اس ضمن میں کئے گئے اقدامات بارے بھی کوئی تفصیل دستیاب نہیں کہ آیا اس پر عملدرآمد کی صورتحال کیا رہی ‘ ریگو لیٹری اتھارٹی کے حکام کا اصل امتحان عملدرآمد کرانے کا ہے جس میں تمام تر کوششوں کے باوجود اب تک ان کامیابی دکھائی نہیں دیتی۔ بہتر ہوگا کہ راست اقدامات کے ذریعے طلبہ اور ان کے والدین کو اس مخمصے سے نکالا جائے اور قوانین پر عملدرآمد بڑے اور نامور سکولوں سے شروع کروایا جائے جو سکول انتظامیہ تعاون نہ کرے ان سکولوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ ان کی بورڈ رجسٹریشن کی منسوخی اور سکول دفاتر کو سیل کیا جائے۔ جب تک ریگولیٹری اتھارٹی کی جانب سے ٹھوس اور سخت اقدامات یقینی نہیں بنائے جاتے ان کے احکامات پر عملدرآمد بھی ممکن نہ ہوگا۔
لشمینیاکی پھیلتی وباء
خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں لشمینیا کی جلدی بیماری کا وبائی صورت اختیار کرنا پریشان کن صورتحال ہے۔ ایک مستند رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقہ جات کے دس ہزار افراد اس بیماری کا شکار ہوچکے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود محکمہ صحت و بلدیات اور دیگر متعلقہ حکام و انتظامیہ کی جانب سے اس بیماری کی روک تھام کے حفاظتی اقدامات نظر نہیں آتے۔ مریضوں کے علاج معالجے کی طرف بھی چنداں توجہ کا مظاہرہ نہیں ہو رہا ۔ مچھروں اور مکھیوں کے ذریعے وباء کی صورت میں پھیلنے والی اس بیماری کی روک تھام کے لئے ضروری ہے کہ فوری طور پر سپرے کرایا جائے اور شہریوں کو نظافت اختیار کرنے کی طرف متوجہ کیا جائے۔

اداریہ