اہل ِ سیاست کی مصروفیات اور عوام کی توقعات

اہل ِ سیاست کی مصروفیات اور عوام کی توقعات

سیاسی بحث جس قدر سنجیدہ ہونی چاہیے اسی قدر اس میں غیر سنجیدگی کا پہلو نمایاں ہے۔ اس بحث میں شامل ہونے کے لیے کیونکہ اہلیت کی کسی سند کی ضرورت نہیں سمجھی جاتی اس لیے یہ بحث ملک کے طول و عرض میں جاری ہے۔ کیوں کہ ملک بھر کے اہل ووٹروں کی اہلیت کا پنچ سالہ امتحان قریب آ رہا ہے اس لیے اس بحث میں انتخابی ماحول کی گہما گہمی کی وجہ سے گرما گرمی کا عنصر غالب آتا جارہا۔ لگتا ہے اس موقع کو یار لوگ ایک دوسرے کو طعنے دینے ‘ پھبتیاں کسنے سے دل پشوری کر رہے ہیں۔ حالانکہ سیاسی بحث سنجیدہ فکر کا تقاضا کرتی ہے۔ لیکن جس غیر سنجیدہ انداز میں یہ بحث چل رہی ہے اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ سبھی کے ذہنوں کے کسی کونے میں یہ خیال موجود ہے کہ اگر بحث کی سنجیدگی کو تسلیم کر لیا گیا تو کسی کے پاس کہنے کے لیے کچھ نہیں رہے گا۔ آج کی حقیقتوں کو دیکھا جائے تو مایوس کن صورت حال نظر آتی ہے۔
اسے نظر بھر کر دیکھنے کا حوصلہ کسی کسی میں ہو تو ہو۔ لگتا ہے سب کے دل میں کہیں نہ کہیں یہ خوف ہے کہ اگر صحیح صورت حال سامنے آ گئی تو کہنے کو کچھ نہیں رہے گا۔ اس لیے ہم سب ایک دوسرے سے مختلف سوچ رکھنے والوں کو اس صورت حال اور اس میں مضمر خطرات کا ذمہ دار قرار دے رہے ہیں۔ اہل سیاست جن سے قوم کو رہنمائی کی توقع ہونی چاہیے ایک ہی بلی کے بچوں کی طرح ایک دوسرے پر گھات لگانے‘ حملہ کرنے کے کھیل میں مصروف نظرآتے ہیں۔ کہیں کوئی چھوٹی سی گیند مل جائے تو یہ کھیل زیادہ تیز رفتار ہو جاتا ہے۔ تحریک انصاف کے عمران خان نے بڑی ہوشیاری سے سیاسی میدان میں اس حکومت کے پہلے سو دن کا پروگرام کی گیند پھینک دی ہے ، جس حکومت کا قیام تو درکنار اس کے قیام کے لیے ابھی عام انتخابات بھی نہیں ہوئے۔ انتخابات کب ہوتے ہیں اس کا ابھی کچھ پتہ نہیں۔ انتخابات تک ووٹروں کے بدلتے ہوئے موڈ کیا ہوتے ہیں اس کے بارے میں ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ سبھی جماعتیں زور لگا رہی ہیں اور زور سے زیادہ شور مچا رہی ہیں کہ حکومت پر ان کا قبضہ ہو گا ۔ اس شور میں انتخابات ہوں گے تو نتیجے میں کسی ایک جماعت کی حکومت قائم بھی ہو سکے گی یا نہیں یہ بھی کوئی یقین سے نہیں کہہ سکتا۔ لیکن عمران خان نے نہایت چابکدستی سے ایک شوشہ اپنی حکومت کے پہلے سو دن کی کارکردگی کا چھوڑ دیا ہے۔ اور اس طرح سیاسی او رمعاشی حقیقتوں کو نظر انداز کر کے ایک تصوراتی منظر کشی پر سیاسی کھیل میں تیزی آ گئی ہے۔ شاید سب کو معلوم ہے کہ اگر حقیقتوں کاسامنا ہو گیا تو ساری زباندانیاں اورکلیلیں بھول جائیں گی۔ یہ سو دن کا پروگرام ایسے ہی ہے جیسے بلی کے بچوں کے درمیان پلاسٹک کا گیند۔ کوئی کہہ رہا ہے یہ قابل عمل نہیں، کوئی کہہ رہا ہے یہ تو ہمارے اسی پروگرام کا چربہ ہے جو چند سال پہلے ہم نے دیا تھا۔ کہنے والے جو منہ میں آئے کہتے ہیں۔ کوئی پوچھے کہ آپ نے جو چند سال پہلے پروگرام دیا تھا کیا اس پر عمل درآمد ہوگیا تھا؟ اگر نہیں ہوا تھا تو اس کی وجہ کیا تھی؟ کیا یہ پروگرام قابلِ عمل نہ تھا؟ اگر عمران خان کا سودن کا پروگرام اسی پروگرام کاچربہ ہے جو چند سال پہلے دیاگیاتھا اور جو ناقابلِ عمل ہونے کے باعث ناکام ہو گیا تھا تو پھر غم کس بات کا ہے عمران خان کا پروگرام بھی فیل ہوجائے گا۔
یہ سوال تو سب کے سامنے ہیں کہ آیاانتخابات وقت پر ہوتے ہیں یا نہیں۔ اگر ہوتے ہیں تو اس میں کون سی جماعت کی حکومت بنے گی ۔ وہ حکومت دوسری پارٹیوں کے تعاون کی محتاج ہو گی یا نہیں۔ ان سارے سوالوں کے عام ہونے کے باوجود عمران خان نے سو دن کے پروگرام کا اعلان کر کے اس تاثرکو قوی کر دیا ہے کہ ان کی پارٹی کی حکومت بننے والی ہے ۔ لہٰذا الیکٹیبل ٹکٹ کٹا لیں او رپی ٹی آئی کے گھر آ جائیں اور ایسا ہی ہوا بھی۔ ان کی مدِمقابل پارٹیاں دیکھتی رہ گئیں ‘ ان کے پنچھی پی ٹی آئی کی چھتری کی طرف پرواز کرنے لگے ۔ پی ٹی آئی کا یہ داؤ تو چل گیا لیکن اسی داؤ کے الٹا پڑنے کے امکان پر شاید غور نہیں کیاگیا۔ مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف نے 2013ء کے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی اور ق لیگ کے کم و بیش 126ارکان کو ن لیگ کے ٹکٹ دیے تھے۔ اب وہ کہتے ہیں کہ جو لوگ ن لیگ چھوڑ گئے ہیں ، وہ ن لیگ کے تھے ہی نہیں۔ کہتے تو وہ ٹھیک ہی ہیں، عمران خان کو اس با ت پر غور کرنا چاہیے۔ لیکن ان کم و بیش 126ارکان کے ن لیگ میں آنے سے شاید کوئی اہم مسئلہ پیدا نہیں ہوا تھا جو پی ٹی آئی میں نئے آنے والے تجربہ اہلِ سیاست کے آنے کی وجہ سے پیدا ہونے امکان ہے۔ پی ٹی آئی کے نوجوان سیاسی کارکنوں کو نئے آنے والے معمر تجربہ کار سیاستدانوں کے ساتھ بٹھانا مشکل ہو گا۔ یہ ایک دوسرے سے روٹھے روٹھے نظر آئیں گے۔ آخر کار سو دن یا اٹھارہ سو دن کارکردگی دکھانی پڑے گی جو محض بڑے خواب دیکھنے سے نہیں آتی۔ محنت ‘ لگن اور مستقل مزاجی کے اوصاف قوم کے مزاج میں سرایت کر جائیں تو آتی ہے۔ ایسے اوصاف کی حامل نظر پیدا ہو جائے تو حقائق بھی آشکار ہونا شروع ہو جاتے ہیں ۔ جو پاکستان میں پانی کی متوقع کمی اور دیگر بنیادی مسائل کی صورت میں سامنے آ جانے چاہئیں۔ اس زرعی ملک میں پانی کی اتنی قلت ہونے کے خدشات بڑھ رہے ہیں جسے قحط سالی کہا جاسکتا ہے۔ معیشت کی زبوں حالی ‘ صنعتکار اور سرمایہ ملک سے باہر جا رہا ہے۔ محاصل کی وصولی بس نمائشی ہی سی ہے۔ قرضوں کا بوجھ بڑھتا جا رہا ہے ، ملازتوں کے نئے مواقع بہت کم پیدا ہو رہے ہیں۔نوجوانوں کو اگر مواقع نہیں ملیں گے تو وہ کس طرف جائیں گے ۔ قرضوں پر ملک کب تک چلے گا ، آخر کار آپ کو اپنے قیمتی اثاثوں پر سمجھوتا کرنا پڑے گا۔ جس جس سمت دیکھئے جرأت گویائی سلب ہوتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ عوام اہلِ سیاست کی طرف رہنمائی کیلئے دیکھتے ہیں اور وہ حقائق کی اصل صورت کو جانچنے کی بجائے تصوراتی منظرکشی کے کھیل سے لطف اندوز ہوتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

اداریہ