Daily Mashriq


حقیقت کیا ہے ؟

حقیقت کیا ہے ؟

پاکستان کی سیاست میںجھوٹ اس قدر ہوچکا ہے کہ ایک عام آدمی نے اس میں سے سچ تلاش کرنے کی کوشش کرنا ہی ترک کردی ہے ۔ ہم جانتے ہیں کہ سب سے زیادہ خطرناک جھوٹ وہ ہوتا ہے جسے سچ کی آمیزش کے ساتھ بولا جائے کیونکہ اس میں اکثر فہم اور تجزیہ گمراہ ہو جاتے ہیں اور اس قوم کے لوگوں کو بھر پور آگاہی ہے کہ یہ سچ اورجھوٹ کی آمیز ش ہی ہمارے اکثر سیاست دانوں کا طرہ امتیاز ہے لیکن اس کے باوجود ہم یہ کوشش ہی کرنا چھوڑ چکے ہیں کہ ان کی باتوں کو کسی کسوٹی پر پرکھا جائے ۔ وہ بولتے رہتے ہیں اور ہم اپنی اپنی زندگی کے مسائل سے نبرد آزما رہتے ہیں ۔ ہاں جب وہ جلسوں میں بلاتے ہیں تو کبھی ایک سیاسی جماعت کے ساتھ برس ہا برس کے تعلق کی عادت کے باعث ، کبھی کسی لالچ کے زیر سایہ ہم ان جلسوں میں بھی جاتے ہیں ہم اسی طرح ووٹ بھی ڈالتے ہیں ۔ کوئی قوم کبھی اپنے مستقبل سے ایسی مایوس نہیں رہی کہ اسے پرواہ ہی نہ ہو وہ کس کو ووٹ ڈال رہی ہے ۔ اسے یہ احساس تک نہ ہو کہ اس کے کسی بھی اقدام کا خود اس کے مستقبل پر کیااثر پڑ سکتا ہے ۔ اس کے بچوں پر اس کے کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں ۔ شاید یہ مایوسی کی آخری حد ہے ۔ وہ حد جس کے بعد انسان کو یہ یقین کامل ہوجاتا ہے کہ سیاست دان نامی نسل کو عوام کی بھلائی کے مفہوم کا بھی ادارک نہیں ۔ وہ ذاتی مفادات کو ہی عوام کا فائدہ سمجھتے ہیں ۔ جیسے میاں نواز شریف اور اہالیان کو سڑکیں بنانے میں خاص الخاص دلچسپی ہے جبکہ ایسے ترقیاتی کاموں کو بھی و ہ قطعی برا نہیں سمجھتے جس میں ان کے لیے ایک نئے کاروبار کے مواقع موجود ہوں ۔ جیسے سی پیک کے تحت انہوں نے ملک میں تیرہ بجلی کے کارخانے لگانے کو قوم کے مفاد سے محمول کیا ، کیونکہ یہ سیاست دان بجلی بنانے کی صنعت میں شمولیت چاہتے تھے اس لیے کوئلہ کاایندھن بھی برا نہ سمجھا گیا ۔ اگر ماحولیاتی آلودگی کے باعث قوم کے صحت کے اخراجات میں اضافہ ہو جائے توا نہیں اس کی کیا پرواہ وہ تو انہی لوگوں کو بجلی کی فراہمی ممکن بنانے کی جدوجہد میں مصروف ہیں ۔ ایسے میں اگر کسی کا کاروباری فائدہ ہوتا ہے تو اس میں کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیئے ۔ ان کی فہم کے حساب سے بات بالکل درت ہے ارو کوئی انہیں یہ نہیں سمجھا سکتا کہ جب قوموں کے مستقبل کے حوالے سے حکمت عملی تیار کی جاتی ہے تو اس میں کاروبار کے مواقع ڈھونڈنے کے بجائے عوام کے وسیع تر مفاد کو ہر حالت میں مد نظر رکھا جاتا ہے ۔ کوشش کی جاتی ہے کہ کسی بھی فیصلے سے وابستہ نقصانات کی شرح کو کم سے کم کرنے کی کوشش کی جائے ۔ اس کاوش میں تو نیت کا حساب ہو جاتا ہے ۔ آج میاں نواز شریف کا احتساب ہورہا ہے اور انہیں سمجھ نہیں آتی کہ آخر ان کا جرم کیا ہے ۔ ان کا ان کے ساتھیوں کا جرم بس یہی نیت ہی تو ہے ۔ اورا ن کے نیت کے اس فتور کو وہ کاروبار سمجھتے ہیں۔ عمران خان نے حکومت میںآجانے کے بعد سودن کا پلان عوام کے سامنے رکھا ہے اور سیاسی حلقوں میں ایک ہا ہا کار مچ گئی ہے ۔ کوئی اس پر کیا اعتراض کررہا ہے ، کوئی اس سے کیا نقطے نکال رہا ہے ۔ کوئی کیسے مضحکہ اڑاتا ہے ، کوئی اسے اپنے خیال کا چربہ کہتا ہے ۔ جناب احسن اقبال کو چونکہ اپنے صاحب بصیرت اور عالم فاضل ہونے کا گمان ہے اور بے شک ان کی جانب سے پیش کیا گیا ’’ویژن 2025ایک نہایت دستاویز تھا لیکن بات پھر وہیں آکرٹکتی ہے کہ قوم کے مفاد سے جوڑ کر کاروبار نہیں کئے جاتے ۔ اور جب مستقبل کے حوالے سے فیصلے کرنے ہوں تو ان کے حقائق کی چھان پھٹک بھی پورے طور ہونی چاہیئے، تحقیق ہونی چاہیئے ۔ مختلف نتائج اور حتمی صورت کا تقابلی جائزہ ہونا چاہیئے اس کے بعد فیصلے ہونے چاہئیں ۔ صرف ایک شخص کیعلمیت پر قومیں آنکھیں بند کر کے یقین نہیں کر سکتیں کیونکہ بہر حال اجتماعی بصیرت فیصلوں کے لیے ہر حال میں بہتر ہوتی ہے ۔ عمران خان کا ایجنڈا کس قدر قابل عمل ہے ۔ اس میں خواب کتنا ہے ، حقیقت کتنی ، اس کا فیصلہ کرنے کی گھڑی توتب آئے گی جب حکومت ان کے ہاتھ میںہوگی اور مکمل حکومت ان کے ہاتھ میں ہونے کے امکانات تو بہت زیادہ واضح دکھائی نہیں دیتے ۔ نیتوں کے فیصلے بھی اس وقت ہوسکتے ہیں جب ہاتھ میں فیصلہ کرنے کی طاقت ہو اور اس وقت اپنے پورے فہم کو بروئے کار لا کر ، اجتماعی بصیرت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ، قوم کے مفاد کو مطمح نظر بنا کر فیصلے کئے جائیں ۔ لیکن یہ ایک پڑھے لکھے معاشرے میں تو ممکن ہے ، پاکستان میں فی الحال ممکن نہیں جہاں لوگ پیپلز پارٹی کو اس لئے ووٹ دیتے ہیں کیونکہ ان کے آبا بھی یہی کرتے تھے اور میاں نواز شریف کی بد عنوانی کو تاسف سے دیکھنے کے باوجود وہ کسی اور کی جانب دیکھتے ہی نہیں ۔ میں نہیں سمجھتی کہ عمران خان کی صفوں میں بھی ایسے قابل لوگ موجود ہیں جو اس ملک کے ساتھ انتہائی مخلص ہیں ۔ اور جس قدر اخلاص عمران خان کی صفوں میں ہے اس قدر تو ہر سیاسی جماعت میں پایا جاتا ہے لیکن عمران خان اپنی شخصیت کی تمام ترکجیوں سمیت ، اس ملک وقوم کے وفادار محسوس ہوتے ہیں ۔ الیکڑانک میڈیا بھی ہرقسم کی رائے اور معلومات عوام تک پہنچارہا ہے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس سے عوام کی بصیرت میں اضافہ ہورہا ہے یا پھر ذہن کی اُلجھن بڑھ رہی ہیں ۔

متعلقہ خبریں