Daily Mashriq

ایک کالم زمین زادوں کے لئے

ایک کالم زمین زادوں کے لئے

اصل موضوع پر بات کرنے سے قبل یہ عرض کرنا بہت ضروری ہے کہ اپنی فہم اور فکری اُٹھان کی بنا پر یہ طالب علم بھی قوم پرست ہے۔ قوم پرستی ریت کے گھروندے ہوتے ہیں نا زور زبردستی کی شناخت۔ صدیوں کے سفر کے ساتھ تہذیبی، ثقافتی، لسانی اور دیگر اجزاء سے مل کر ایک قوم بنتی ہے۔ انگنت صدیوں پر محیط قومی شناخت رکھنے والے کسی طبقے کی حقیقی شناخت سے انکار مثبت سوچ ہرگز نہیں۔ ایک اچھا اور اُجلا قوم پرست وہی ہوتا ہے جو دوسری اقوام کی شناختوں، ان کی تاریخ اور علم وادب کے ساتھ ان کے حقوق کا بھی احترام کر ے۔ اچھے بُرے لوگ ہر قوم، طبقے اور رنگ ونسل کے ساتھ مذاہب میں بھی پائے جاتے ہیں۔ ایک دو چند افراد یا طبقات کے انسانیت، امن، جمہوریت اور آزادی دشمن رویوں کی بنا پر کسی بھی قوم کو من حیث القوم مطعون نہیں کیا جا سکتا۔ جن لوگوں کو فرد، ادارے یا طبقے کے اعمال پر اقوام کو گالی دینے کی عادت ورثے میں ملی ہے ان کیلئے ہمزاد دیرینہ فقیر راحموں نے مفت مشورہ دیا ہے۔ ’’کسی قوم وطبقے یا کسی کے عقیدے میں سے کیڑے نکالنے سے قبل کبھی ٹھنڈے دل سے اپنی پچھلی نسلوں کی غلطیوں کا تجزیہ کیجئے کلیجہ منہ کو آنے لگے گا‘‘۔ یہی سچ ہے۔ ایک بات اور کسی ریاست کے ایک یا چند اداروں میں آبادی کے تناسب سے اونچ نیچ ہوتی ہے مگر بحیثیت مجموعی اکثریتی نمائندگی رکھنے والی قوم کو مجرم قرار دینے سے قبل اداروں کے اندر ساجھے داری کی فہم پر طائرانہ نگاہ ڈال لینا ازحد ضروری ہے تاکہ تنقید کرتے وقت فرد یا طبقے کی عوام دشمن سوچ اور پالیسیوں کو زمین زادوں کے سامنے لایا جائے تاکہ پوری قوم پر چڑھ دوڑا جائے۔ اقوام کی جدوجہد آزادی ہو یا کسی جغرافیائی حدود کے اندر مساوات کے قیام کیلئے جدوجہد اس میں دو طبقے نمایاں ہو کر سامنے آتے ہیں۔ ایک ظالموں کا، دوسرا مظلوموں کا۔ اب دونوں طبقات کی معنوں پر ٹھنڈے دل اور فہم کی روشنی سے نگاہ ڈال کر دیکھ لیجئے آپ کو دونوں طرف ہر طبقے، ذات، نسل اور قومی شناخت رکھنے والے لوگ ملیں گے۔ یہاں ایک سوال آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔ ’’جب دونوں طبقات میں ہمہ قسم کی نمائندگی موجود ہے تو پھر کسی ایک قومی شناخت کو ولن یا استعمار عصر کے طور پر پیش کر کے نفرتیں بونے کی کیا ضرورت ہے؟‘‘۔ آخری بات یہ کہ کیا جس شدت کیساتھ ہم چند استحصالیوں کی شناخت کو لے کر ان کی پوری قوم کو مجرم قرار دیتے ہیں کبھی اسی شدت اور جذبہ کیساتھ اپنی قوم کے ان استحصالیوں کیخلاف بھی آواز بلند کرتے ہیں جو دوسرے استحصالی طبقات کیساتھ مل کر نظام جبر کو 70سال سے مسلط کئے ہوئے ہیں؟۔ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ پنجاب کے استحصالی طبقات کی خدمت کرتے وقت ہم سب کو اپنی اپنی قومیت کے ان بالادستوں بارے بھی کھل کر بات کرنا ہوگی جو 70سالوں سے پنجاب کے استحصالی طبقات کیساتھ کاروبار ی اشتراک قائم رکھے ہوئے ہیں۔بات قدرے طویل ہوگئی لیکن جس طرح کا ماحول بن رہا ہے اور جیسے قومی شناختوں اور حقوق کے نام پر شعوری ارتقا کو بڑھاوا دینے کی بجائے دشنام طرازی اور گالم گلوچ کی حوصلہ افزائی کیلئے تالیاں بجائی جارہی ہیں یہ درست رویہ ہے نہ کوئی شعوری عمل۔ ہمیں یعنی تمام قوم پرستوں کو اپنی شخصی فہم کیساتھ سیاسی نظریات اور قومی شعور کی اساس پر بنائے موقف کا ازسرنو جائزہ لینا ہوگا وجہ یہی ہے کہ قومی جدوجہد ہو یا مساوات پر مبنی نظام کے قیام کیلئے عملی جدوجہد طبقے دو ہی ہوتے ہیں، اولاً مظلوموں کا طبقہ اور ثانیاً ظالموں کا۔ یہ ملک ہم سب کا ہے اس کے نظام کی اصلاح، بالادستوں کو شکست، عدل وانصاف اور مساوات کا قیام ہی اجتماعی مفاد میں ہے۔ دیکھنا یہ ہوگا کہ صاف ستھرے سیاسی مؤقف اور جائز مطالبات کو گالیوں کے تیل میں پکا کر اس پر نفرتوں کی مرچیں چھڑکنے والوں کے مقاصد کیا ہیں۔ہم سارے زمین زادے اپنے اپنے خوابوں کی تعبیر پا سکتے ہیں شرط یہ ہے کہ جو آزادی اور مساوات ہم اپنی اپنی قوم کیلئے ضروری سمجھتے ہیں اس پر دوسروں کا حق بھی تسلیم کریں اور عملی زندگی میں اس امر کو یقینی بنائیں دیگر مظلوم طبقات ان کا تعلق چاہے کسی بھی قوم سے ہو کیساتھ ملکر ایسا ہمہ گیر اتحاد تشکیل دیں جو استحصالی طبقات اور ان کے نظام کی بساط اُلٹ دے۔ اس کیلئے شرط اول یہی ہے کہ میٹھا میٹھا ہپ ہپ اور کڑوا کڑوا تھو تھو کی بجائے ہر قومیت کے ذی شعور قوم پرست سیاسی کارکن، ادیب، دانشور، سماج سدھار اور دوسرے پرعزم لوگ وطبقات اپنی اپنی قوم کے بالادستوں، ظالموں، منافع خوروں، موت کے سوداگروں اور قانون ونظام کو لونڈی سمجھنے والوں سے برأت کا اظہار کرتے ہوئے مظلوموں کے اتحاد کے قیام کی ضرورت کو اولیت دیں۔ آئندہ انتخابات جولائی میں ہوتے ہیں یا اکتوبر نومبر میں، مظلوموں کو ایک دوسرے کا کاندھے کیساتھ کاندھا ملا کر فکری استقامت سے ڈٹ کر کھڑا ہونا ہوگا تبھی اس ملک سے نظام جبر اور عدم مساوات کو دائمی رخصت ملے گی لیکن اگر ہم نے اپنے اپنے ظالموں کو ہیرو اور دوسروں کو کوسنے کی روش اپنائے رکھی تو اندر کھاتے ملے ہوئے یہ سارے ظالم کسی نہ کسی شکل میں اس نظام جبر کو مسلط رکھنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔پس نوشت جناب نواز شریف کے عدالتی بیان پر کچھ معروضات اور تجزیہ عرض کرنا تھا انشاء اللہ زندگی رہی تو اگلے کالم میں عرض کروں گا۔

اداریہ