Daily Mashriq

خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا

خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا

خواب دیکھنا یا سپنے بننا بری بات نہیں۔ خواب یا سپنوں کی دو بڑی قسمیں گنوائی جاتی ہیں۔ ایک قسم بند آنکھوں کے خوابوں کی ہے جب کہ دوسری قسم کھلی آنکھوں کے خواب یا سپنے کہلاتے ہیں۔ بند آنکھوں کے خواب ہر کس و ناکس نیند کے دوران دیکھتا رہتا ہے۔نیند میں ڈرجانا۔ ہوا میں اڑنا۔ سانپ دیکھنا۔ سانپ کو مارنا۔ خوشی دیکھنا۔ مر جانا۔ مر کے جی اٹھنا۔ ہنسنا۔ رونا۔ ملنا۔ بچھڑنا۔ غرض زندگی کے جتنے معمولات ہیں ان کو آپ نیند کے دوران لاشعوری طور پر دیکھ سکتے ہیں۔ ماہرین نفسیات و مابعد از نفسیات ایسے سپنوں کی توجیہات پیش کرتے وقت اسے لاشعور کی کارستانی بتاتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ جب انسان سو رہا ہوتا ہے اس کا لاشعور بیدار ہوتا ہے۔ اور نیند کے دوران وہ جودیکھتا اور سنتا ہے وہ ساری کی ساری لاشعوری حرکات و سکنات یا محسوسات کی ذیل میں آتی ہیں اور انہیں بند آنکھوں کے خواب کہا جاتا ہے۔ نفسیات کے ماہرین یہ بھی بتاتے ہیں کہ خواب دیکھنے والا جیسی سوچ کا مالک ہوگا یا اس کے دل میں جو تمنا آرزو یا خواہش ہوگی اسی قسم یا اس سے ملتی جلتی قسم کے خواب اس کو نیند کے دوران دیکھنے کو ملیں گے۔ آپ نے بلی کے خواب میں چیچھڑے والا محاورہ تو سن رکھا ہوگا۔جیسی روح ویسے فرشتے ، جیسا موڈ ویسی سوچ، اسی بات کو عزیز اعجاز نے بڑے دل پذیر انداز میں بیان کرتے ہوئے آسان لفظوں میں کہدیا کہ
جیسا موڈ ہو ویسا منظر ہوتا ہے
موسم تو انسان کے اندر ہوتا ہے
عزیز اعجاز نے یہ بات کرتے ہوئے کبھی بھی کھلی آنکھوں یا بند آنکھوں کے خواب کی بات نہیں کی موڈ یا طبیعت کا ذکر کیا ہے جسے ہم شعوری اور لاشعوری حالت کہہ سکتے ہیں۔ عرض کرچکا ہوں کہ انسان نیند کی حالت میں جو دیکھتا ہے اس کا تعلق لاشعوری محسوسات سے ہوتا ہے۔ لیکن خواب میں نظر آنے والے یہی مناظر اپنے اندر معنی و مفہوم کا بحر بے کراں رکھتے ہیں اور خواب و تعبیر کا علم جاننے والے بتا سکتے ہیں کہ اگر کوئی بندہ خواب میں جو کچھ دیکھتا ہے اس کا تعلق آنے والے دنوں میں رونما ہونے والے کسی واقعے سے ہوتا ہے۔ یعنی کسی چیز کا خواب میں نظر آنا خواب دیکھنے والے کے لئے ایک اطلاع تنبیہہ یا بشارت کا درجہ رکھتی ہے۔ مثلاً اگر آپ نے خواب میں کسی سانپ کو کچل دیا تو تعبیر بتانے والے کہتے ہیں کہ آپ اپنے دشمن کو کچل دیں گے یا اس کو زیر کرلیں گے۔ کچھ لوگ بند آنکھوں کے خوابوں کو خوابوں کے سوا کچھ نہیں سمجھتے اور کچھ لوگ ان کی تعبیر جاننے کے لئے تعبیر بتانے والوں سے رجوع کرتے ہیں خوابوں کی تعبیر بتانا اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ اور حسن سراپا پیغمبر حضرت یوسف ؑ کی سنت ہے۔ اس لئے خوابوں پر یقین رکھنا اور ان کی تعبیر تلاش کرنا ہماری دینی تعلیمات میں شامل ہے۔ جس پر کسی تاویل کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ بند آنکھوں کے خواب دیکھنے سے نہ کوئی کسی کو روک سکتا ہے نہ اب تک کسی نے ایسا کرنے کی کوشش کی ہے۔ البتہ جاگتی آنکھوں کے خواب ہر وہ ذی ہوش بندہ دیکھتا ہے جس کے دل میں زندگی کو بہتر بنانے کی آرزو جنم لیتی ہے یا زندگی میں کچھ کر گزرنے کی خواہش پیدا ہوتی ہے۔ اس حوالے سے ہم جاگتی آنکھوں کے خواب کو آرزو ، تمنا یا خواہش کا نام بھی دے سکتے ہیں
ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاں
اب دیکھئے کہ ٹھہرتی ہے جاکر نظر کہاں
ہمارے ہاں جاگتی آنکھوں سے دیکھے جانے والے خوابوں کو خیالی پلاؤ یا خیالی محل تعمیر کرنے سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے۔ خیالی پلاؤ پکانے پر کسی قسم کی محنت یا خرچہ کرنا نہیں پڑتا خیالی محل تعمیر کرنے کے لٰئے بھی قیمتی تعمیراتی مواد کی ضرورت نہیں پڑتی ہینگ لگے نہ پھٹکڑی اور رنگ چوکھا آئے کے مصداق خیال ہی خیال میں ایسا کرنا ممکن ہوجاتا ہے۔ لیکن جاگتی آنکھوں کے خواب دیکھنے والے ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں جو اپنی آدرش کے حصول کے لیئے جان دھڑ کی بازی لگالیتے ہیں۔ منزل کا تعین کرنے کے بعد جہد مسلسل سے منزل مراد کو حاصل کرنے کے لئے اپنی تمام تر توانائیاں بروئے کار لانے لگتے ہیں ۔ خواب دیکھنا یا سپنے بننا بری بات نہیں ہے۔ جس وقت ملک میں سیاسی رسہ کشی یا پہلوانان سیاست کے درمیان زور آزمائی شروع ہوتی ہے تو سیاسی لوگ اپنے حریفوں کو پچھاڑنے کے لئے خواب دیکھنے والوں کو خواب دکھانا شروع کر دیتے ہیں۔ نظر آنے والے خوابوں اور دکھائے جانے والے خوابوں کے درمیان واضح فرق اس وقت نظر آتا ہے جب لوگ دکھائے جانے والے خوابوں کو سبز باغ کے نام سے یاد کرنے لگتے ہیں۔ ہر سیاست دان اپنے ووٹرز کو سبز باغ دکھانے کی رسم ضرور ادا کرتا ہے۔ حال ہی میں عمران خان نے اپنے ووٹرز کو سو روزہ پلان نامی سبز باغ دکھا کر اپنے تئیں اپنے ووٹ بینک کا بیلنس بڑھانے کی جو کوشش کی ہے وہ اپنی جگہ لاکھ مستحسن سہی لیکن اس خواب کی تعبیر کب ہاتھ آتی ہے یہ سب آنے والا وقت ہی بتائے گا، فی الحال تو اہالیان پشاور زیر تکمیل بی آر ٹی منصوبہ کے خواب کی تعبیر کے سچ ہونے کے انتظار میں پتھرا رہے ہیں۔ اپریل تک مکمل ہونا تھا جسے ، جانے اور کتنی تاخیر کا شکار ہوتا ہے۔ کچھ بھی تو معلوم نہیں۔ اس منصوبہ کی تکمیل کے لئے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کا جلدی کرو کا شور سن کر ڈر لگتا ہے کہیں چکنا چور ہوکر نہ رہ جائے اہالیان شہر پشاور کو دکھایا جانے والا یہ خواب۔ اور ہم کہتے رہ جائیں
وائے نادانی کہ وقت مرگ یہ ثابت ہوا
خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا جو سنا افسانہ تھا

اداریہ