مشرقیات

مشرقیات

امام غزالی علیہ الرحمۃ لکھتے ہیںکہ ایک بادشاہ تھا ۔ اس کا ایک باغ تھا ۔ جس کے کئی حصے تھے ۔ بادشاہ نے ایک آدمی کو حکم دیا کہ میرے لئے اس ٹوکری میں بہترین اور عمدہ قسم کے پھل لے آئو ۔ مگر شرط یہ ہے کہ جس حصے میںجائو اور وہاں تمہیں کوئی پھل پسند نہ آئے تو دوبارہ اس حصے میں نہ آنا ۔ وہ آدمی ٹوکرا لئے باغ کے ایک حصے میں داخل ہوا تو وہاں اسے کوئی پھل پسند نہ آیا ۔ اسی طرح وہ ایک ایک کر کے تمام حصوں میں گیا ، لیکن کوئی ایک بھی پھل اس کے دل کو نہ بھایا ۔ جب وہ آخری حصے میں پہنچا تو حیرت زدہ ہوا، کیونکہ وہاں کچھ بھی نہ تھا اور وہ شرط کے مطابق واپس ان حصوں میں جا بھی نہیں سکتا تھا ،جہاں پھل تھے ۔ مجبوراًوہ خالی ٹوکری لے کر بادشاہ کے سامنے حاضر ہوا ۔ بادشاہ نے پوچھا : میرے لئے کیا لائے ہو؟ اس نے جواب دیا : کچھ بھی نہیں لایا ۔ اس لئے کہ باغ کے کسی حصے کا پھل ایسا نہیں تھا ، جوآپ کی خدمت میںپیش کرتا ، مجھے وہاں کا کوئی پھل پسند ہی نہیں آیا ۔ امام غزالی ؒ فرماتے ہیں کہ بادشاہ سے مراد حق تعالیٰ کی ذات ہے ۔ باغ سے مراد انسان کی زندگی ہے اوران حصوں سے مراد انسا ن کی زندگی کے ایام ہیں ۔ ٹوکری سے مراد انسان کا نامہ اعمال ہے ۔ انسان کہتا ہے کہ میں کل سے نیک اعمال شروع کروں گا اور کل سے نماز پڑھوں گا ، لیکن کل کل کرتے ایک دن موت اسے اپنی آغوش میں لے لیتی ہے اور جو دن گزرجاتے ہیں، وہ واپس نہیں آتے ۔ تو یہ خدا کے پاس خالی دامن چلا جاتا ہے ۔ اس سے معلوم ہو اکہ دنیا دھوکے کا گھر ہے ۔ حضرت امام اصمعیؒ کا واقعہ ہے کہ ایک سفر میں انہوں نے قرآن کریم کی ایک آیت کسی بدو (عرب دیہاتی ) کے سامنے پڑھی ۔ جس کا مفہوم یہ ہے کہ ’’تمہارا رزق اور جو کچھ تم سے وعدہ کیا گیا ہے ، وہ آسمان میں ہے ‘‘۔ بدو نے کہا کہ پھر پڑھو ۔ انہوں نے پھر پڑھ دیا ۔ بدوکہنے لگا کہ حق تعالیٰ تو فرماتا ہے کہ رزق آسمان میں ہے اور ہم لوگ رزق کو زمین میں ڈھونڈ تے ہیں ۔ اس کے پاس ایک ہی اونٹ تھا ، جس سے گزرا وقات کرتاتھا ، اسی وقت اس کو خیرات کر دیا اور جنگل کی طرف نکل گیا ۔ کئی برس بعد اس شخص کو امام اصمعی ؒ نے خانہ کعبہ کا طواف کرتے دیکھا ۔ اس نے خود ان کو سلام کیا ۔ انہوں نے پہچانا نہیں ۔ پوچھا تو اس نے کہا میں وہی شخص ہوں ، جس کوآپ نے یہ آیت سنائی تھی ۔ حق تعالیٰ تمہارا بھلا کرے ، مجھے تمام بکھیڑوں سے نجات دیدی ۔ میں جب سے بڑے اطمینان کی زندگی بسر کر رہا ہوں ، پھر اس نے پوچھا اس آیت کے بعد کچھ اور بھی ہے ؟ امام اصمعیؒ نے اس کے بعد کی آیت پڑھ دی ۔ جس کا مفہوم یہ ہے کہ ’’قسم ہے آسمان اور زمین کے رب کی ، یہ قرآن بالکل برحق ہے ‘‘۔ سن کر ایک چیخ ماری کہ یہ میرے خدا کو کس نے جھٹلا یا تھا کہ اس کو قسم کھا کر جتلانا پڑا کہ میری بات سچی ہے ، ایسا کون ظالم ہوگا جو خدا کو سچا نہ سمجھتا ہوگا ، خدانے جو قسم کھائی تو معلوم ہوتا ہے کہ کوئی ایسا بھی ہے ، جو خداکے کہنے کو بھی بلا قسم کے سچا نہیں سمجھتا ، بس یہ کہہ کر ایک چیخ ماری اور چیخ کیساتھ وہیں جان نکل گئی ۔ (حسن العزیز )

اداریہ