Daily Mashriq

بکھری معاشی ٹیم سے معیشت سدھر نہیں سکے گی

بکھری معاشی ٹیم سے معیشت سدھر نہیں سکے گی

وطن عزیز کی معیشت کو سہار دینے کیلئے صرف حکومتی اقدامات کافی نہیں بلکہ کاروباری طبقہ، تاجر حضرات اور عام شہریوں کا کردار بھی اس میں برابر کی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ حکومتی اقدامات کی حقیقت کیا ہوتی ہے اور اب تک کی حکومتیں جس طرح معیشت کو مصنوعی اکسیجن دیکر بحال رکھنے کی سعی کرتے رہے یا واقعی ان کے اقدامات بہتر تھے ان سوالات سے قطع نظر دیکھا جائے تو من حیث المجموع ہر حکومت آئی ایم ایف اور بینکوں سے حصول قرض کا آسان راستہ اختیار کرکے معاملات چلاتے رہے جس سے ملک قرضوں میں اتنا جکڑا جا چکا ہے کہ اب آئی ایم ایف سے تین سالوں میں موصول ہونے والے پیکج کا نصف حصہ قرضوں کی ادائیگی میں صرف ہوگا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جہاں حکومتوں نے سبسڈی کے ذریعے قیمتوں کو قابو میں رکھنے کی سعی کی وہ اپنی جگہ لیکن خود بطور پاکستانی اور عوام ہم نے بھی تو اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں۔ بعض عاقبت نااندیش عناصر تو سٹاک ایکسچینج میں سٹہ بازی ڈالر ذخیرہ کر کے ناجائز دولت سمیٹنے سے بھی باز نہ آئے، اس طرح کے اقدامات سے معیشت پر منفی اثرات کوئی پوشیدہ امر نہیں۔ اس ضمن میں سامنے آنے والی یہ رپورٹ چشم کشا ہے کہ ڈالر کی قیمتوں کو پر لگانے والوں نے کس طرح منصوبہ بندی کیساتھ کام کیا، اس سے بھی زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ اس کے پیچھے سیاسی عناصر کا ہاتھ بھی کارفرما تھا۔ دو اہم اداروں کی مرتب کردہ رپورٹ کے مطابق بحران پیدا کرنے میں 51ٹاپ مافیا، 72منی ایکس چینجر، 18بک میکر اور 9لینڈ مافیا ملوث نکلے، پراپیگنڈا کرنیوالے380سوشل میڈیا اکاؤنٹس میں بیشتر کا تعلق تین سیاسی جماعتوں سے تھا۔ تمام تر حکومتی اقدامات کے باوجود بھی ڈالر کس طرح بے قابو ہوا اور پاکستانی معیشت کو کس طرح ڈالر مہنگا اور ذخیرہ کر کے نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی اس رپورٹ میں51ایسے ٹاپ مافیا کے نام سامنے آئے ہیں جن کا بزنس کمیونٹی سے بڑا گہرا تعلق ہے اور ان میں سے کئی ایسے بھی لوگ شامل ہیں جو ڈالر کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے حوالے سے حکومتی سطح پر ہونے والی میٹنگز میں بھی شامل رہتے ہیں۔ سابقہ بینکرز اور کچھ حاضر سروس بینکر بھی اس بحران میں جو ڈالر کی مانگ کے حوالے سے مختلف مافیا کے افراد کو اطلاع دیتے رہے اور ڈالر تیزی سے غائب ہونے لگا۔ ذرائع نے بتایا کہ کئی بڑے بک میکرز جن کے بھارتی بک میکرز سے رابطے ہیں، ان کی بھی ایک بڑی سرمایہ کاری اس ذخیرہ اندوزی میں شامل ہے۔ 72ایسے منی ایکس چینجر ز کے نام بھی سامنے آئے ہیں جو مصنوعی بحران میں مافیا کیلئے باقاعدہ استعمال ہوتے رہے اور مختلف جگہوں سے ڈالرز اکٹھے کر کے مافیاز کو پہنچاتے رہے اور ان منی ایکس چینجرز نے بھی افواہوں اور مصنوعی بحران اور ڈالر کو مہنگا کرنے میں اپنا اہم کردار ادا کیا۔ اس سارے واقعے میں سیاسی جماعتوں کے حامی یا پھر ان جماعتوں سے تعلق رکھنے والے کاروباری لوگ سیاسی طور پر شاید ملوث نہ ہوں بلکہ کاروباری مفادات اور منافع خوری ان کا مقصد ہو اس کا تعین ابھی باقی ہے البتہ یہ پہلی مرتبہ نہیں ہوا بلکہ گزشتہ حکومتوں میں بھی ڈالر مافیا کے اس طرح کے اقدامات بارے ایف آئی اے کو متحرک کرنے کے بعد صورتحال معمول پر آگئی لیکن دو تین دنوں کے اندر اس قسم کے عناصر سرگرم رہ کر پھر زیرزمین چلے جاتے ہیں، اس ضمن میں بیرون ملک سے واپس آکر ووٹرلسٹ میں نام لکھوا کر وزیراعظم بننے والے کا دور خاص طور پر قابل ذکر رہا ہے۔ حکومت کو جہاں دیگر معاملات کا مقابلہ کرنا ہے وہاں اس منظم مافیا کو دو تین دنوں کے اندر واردات کے مواقع کا بھی سامنا ہوتا ہے۔ یہ مافیا اس قدر طاقتور اور غیرمرئی ہے کہ ماضی میں ان کیخلاف کسی ٹھوس کارروائی کی مثال نہیں، دیکھنا یہ ہے کہ موجودہ حکومت اس ضمن میں کس حد تک سنجیدگی کا مظاہرہ کرتی ہے۔ جن عناصر کیخلاف دو اداروں کی مفصل رپورٹ موجود ہے ان کیخلاف حکومت کو کارروائی میں مشکل نہیں ہونی چاہئے اور نہ ہی حکومت کو مصلحت پسندی اور دباؤ کا شکار ہونے کی ضرورت ہے۔ کاروباری طبقہ کی جانب سے ملکی معیشت کو سہارا دینے کا ریکارڈ بھی کچھ زیادہ بہتر نہیں، چیئرمین ایف بی آر کے مطابق تین لاکھ اکتالیس ہزار رجسٹرڈ صنعتی صارفین سیلز ٹیکس دیتے ہیں جو بہت بڑا فرق ہے اور اتنے صنعتی صارفین کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے میں غفلت کا مظاہرہ کیوں ہوا اس کے ذمہ داروں کا تعین اور مناسب کارروائی بھی ہونی چاہئیں، علاوہ ازیں یہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ سیکورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان میں ایک لاکھ رجسٹرڈ کمپنیوں میں سے پچاس ہزار کمپنیاں ہی فائلر کیوں ہیں۔ صنعتی صارفین اور سیکورٹی ایکسچینج میں رجسٹرڈ کمپنیوں کے حوالے سے معاملات کی اصلاح کر کے ٹیکس نیٹ میں معمول اضافہ فطری امر ہوگا جس پر توجہ کی ضرورت ہے۔ ملکی معیشت کو سرمایہ کاری سے سہارا بھی ملتا ہے اور ترقی بھی ملتی ہے لیکن اس ضمن میں حکومتی ترجیحات اختلافات اور تضادات کے باعث کبھی بھی ہدف کا حصول ممکن نہیں ہوا، اس ضمن میں مستعفی ہونے والے چیئرمین سرمایہ کاری بورڈ کے یہ انکشافات تشویشناک ہیں کہ ایک جانب معاشی واقتصادی صورتحال کی یہ حالت ہے اور دوسری جانب معیشت واقتصادیات کے شعبوں کی مختلف ٹیموں اور اداروں کے درمیان ہم آہنگی کا فقدان ہوتا ہے اور اختلافات کے باعث اہم عہدیداروں کو عہدوں سے ہٹا دیا جاتا ہے یا پھر وہ مستعفی ہو جاتے ہیں۔ حکومت کو درپیش معاشی واقتصادی صورتحال اس امر کا متقاضی ہے کہ معاشی ٹیم ہم آہنگی سے کام کرے اور ترجیحات کا تعین کرنے کے بعد اہداف کے حصول کی مشترکہ سعی کی جائے تاکہ مثبت نتائج سامنے آئیں۔

متعلقہ خبریں