Daily Mashriq


پاک بھارت وزارت خارجہ کی غیر رسمی ملاقات

پاک بھارت وزارت خارجہ کی غیر رسمی ملاقات

بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس کے موقع پر پاک بھارت وزرائے خارجہ کی ملاقات غیررسمی اور اتفاقیہ تھی۔ علاوہ ازیں اس موقع پر میڈیا سے بھارتی وزیرخارجہ سشما سوراج کی بات چیت بھی غیررسمی اور سطحی ہی تھی جس سے کوئی امید وابستہ کرنا قبل ازوقت اور غلطی ہوگی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان چند جملوں کا تبادلہ بے معنی اس لئے ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات اور معاملات کی صورتحال اتنی پیچیدہ اور نازک ہے کہ بات چیت کے ادوار کا نتیجہ صفر نکلتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان کبھی اصل وجہ تنازعہ اور اہم معاملات پر بات چیت کی نوبت ہی نہیں آئی یا پھر بھارتی حکومت اپنے ملک کے انتہا پسندوں کے خوف سے پاکستان سے معاملات کو آگے بڑھانے پر آمادہ ہی نہ ہوسکی، صرف یہی نہیں بھارت کو پاکستان کے حوالے سے جو خدشات اور معاملات ہیں وہ بھی اپنی جگہ مشکلات کا سبب ہیں تاہم پاکستان نے حالیہ دنوں میں جو اقدامات اٹھائے ہیں اگر بھارتی نیت میں فتور نہ ہو تو یہ خاصے معقول اور قابل قبول اقدامات ہیں۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ فضائی جھڑپ بلکہ دو روز کے جھڑپوں کے بعد صورتحال جنگ کی کیفیت میں تبدیل ہوگئی تھی۔ بھارتی حکمران جماعت کی انتخابی ضرورت پوری ہونے کے بعد اب صورتحال کو معمول پر آنا چاہئے اور پاک بھارت تعلقات کو کم ازکم عوامی واقتصادی دونوں لحاظ سے نافع بنانے پر توجہ دی جانی چاہئے اور اس ضمن میں ٹھوس پیشرفت ہونی چاہئے۔

کرپشن فری چترال موومنٹ کے الزامات کی تحقیقات کی جائے

حکمران جماعت پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کا چترال سے کرپشن کا خاتمہ کرنے کیلئے ’’کرپشن فری چترال موومنٹ‘‘ کے آغاز سے ان کی حقیقت پسندی اور چترال میں ہر دور میں ہونے والی بدعنوانی کی درست نشاندہی اور اس کی روک تھام بارے سنجیدہ قدم ہے۔ ان کی اس نشاندہی میں وزن ہے کہ ضلع بھر کی 100یونین کونسلوں میں ڈسٹ بن اور شاپنگ بیگز کی خریداری میں قواعد وضوابط کی صریح خلاف ورزی کا ارتکاب کیوں کیا گیا؟ نوجوانوں نے جن الزامات کا پریس کانفرنس میں اعادہ کیا ہے اور جس خلاف ضابطہ ٹھیکے اور اس کی مالیت وفراہمی ساز وسامان کی نشاندہی کی ہے یہ کوئی ایسا پیچیدہ مسئلہ نہیں جسے سمجھنے اور پرکھنے میں مشکل پیش آئے۔ اس صورتحال کا وزیربلدیات اور قواعد وضوابط لاگو کرنے والے ادارے دونوں کو فوری نوٹس لینا چاہئے اور اس معاملے کی تحقیقات کرائی جائے۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کو بھی خود اپنے ہی جماعت کے کارکنوں کی نشاندہی کا سختی سے نوٹس لینے کی ضرورت ہے۔

لوڈشیڈنگ پر احتجاج کی نوبت کیوں؟

باڑہ میں لوڈشیڈنگ کیخلاف انجمن تاجران باڑہ کا احتجاجی مظاہرہ ان حکومتی دعوؤں کی نفی ہے جس کا اظہار وہ روزانہ کی بنیاد پر ٹویٹر پر کرتے ہیں جن کے مطابق بجلی کی پیداوار طلب سے زیادہ ہے۔ حکام کا دعویٰ اگر درست ہے تو پھر اتنی لوڈشیڈنگ کیوں کی جا رہی ہے کہ تاجر احتجاج پر اُتر آئیں۔ باڑہ میں بقایاجات کی وصولی پر توجہ دینے کی ضرورت ہے نہ کہ بجلی بند کر کے تاجروں کا کاروبار متاثر کیا جائے۔ باڑہ میں بقایاجات اور بلوں کی وصولی کی جو بھی صورتحال ہو اس سے قطع نظر رمضان المبارک کے اس مقدس ماہ میں اس قدر لوڈشیڈنگ کہ لوگوں کو وضو کا پانی تک میسر نہ آئے افسوسناک اور بلاجواز ہے۔ جن علاقوں میں بجلی بلوں کی وصولی کی شرح بہتر نہیں اُن علاقوں کیلئے بھی لوڈشیڈنگ کا ایک اصول وضع کیا گیا ہے جس کی باڑہ اور ملحقہ علاقوں میں پابندی نہیں کی جارہی جس کیخلاف تاجروں کا احتجاج پر مجبور ہونا فطری امر ہے۔ بجلی کی تقسیم کار کمپنی کے حکام بجائے اس کے کہ وصولی کا نظام بہتر بنائیں بجلی کی طویل بندش کو وتیرہ بنا لیا ہے جس کی کوئی گنجائش نہیں۔ توقع کی جانی چاہئے کہ حکام کو عوام اور تاجروں کی مشکلات کا احساس ہوگا اور باڑہ میں بجلی کی سپلائی بہتر بنائی جائے گی۔

متعلقہ خبریں