Daily Mashriq


ڈالر کو پر کیسے لگے؟

ڈالر کو پر کیسے لگے؟

چیئرمین سرمایہ کاری بورڈ ہارون شریف نے بھی اپنے عہدے سے استعفیٰ دیدیا، استعفیٰ کے بارے میں انہوں نے وہی الفاظ دہرائے ہیں جو عموماً ایسے مواقع پر اعلیٰ عہدوں پر فائز ہونے والے ادا کرتے ہیںکہ ذاتی وجوہ کی بناء پر مستعفی ہوئے ہیں، ہارون شریف ستمبر2018 میں سرمایہ کاری بورڈ کے چیئرمین مقرر ہوئے تھے وہ اقتصادی پالیسی، بین الاقوامی ترقی، اقتصادی ڈپلومیسی اور فنانشل مارکیٹ کے عالمی ماہر تسلیم کئے جاتے ہیں جو جنوبی اور وسطی ایشیا میں اقتصادی تعاون کے فروغ کیلئے عالمی بینک گروپ کے ریجنل مشیر کی حیثیت سے بھی فرائض انجام دیتے رہے ہیں۔ کچھ روز قبل انہوں نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کر کے ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری اور ملکی سرمایہ کاری کے بارے میں نکات سے آگاہ کیا تھا۔ یہاں یہ واضح رہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت جس کے پاس ملک کی اقتصادی پالیسیوں کے بارے میں کوئی ویژن نہیں ہے اور برسراقتدار آتے ہی پی ٹی آئی کی حکومت نے جن سیاسی، انتقامی اور اقتصادی پالیسیوں پر کام شروع کیا اس کی وجہ سے نہ صرف اقتصادی ترقی کا پہیہ تھم گیا بلکہ ایسی غیریقینی حالات پیدا ہوئے کہ حکومتی دعوؤں اور پالیسیوں پر سے اعتبار ہی اُٹھ گیا جس کے نتیجے میں جو غیرملکی سر مایہ کاری پاکستان میں جاری تھی اس میں سے ایک اندازے کے مطابق ٰباون فیصد غیرملکی سرمایہ کاری واپس پلٹ گئی۔ ان سے بڑھ کر وزیراعظم نے سیاسی اہداف حاصل کرنے کیلئے جس انداز میں اندرونی ملک اور بیرونی ملک پاکستان کے اقتصادی حالات کا چرچا کیا اس سے پاکستان کے بارے میں سرمایہ کاری کیلئے اعتماد ختم ہوتا چلا گیا۔ پھر آئی ایم ایف سے معاہدہ ہونے کا اعلان کیا گیا جو ہنوز ہونا باقی ہے اس کیساتھ ہی ڈالر کی اُڑان کے بارے میں جس انداز میں خبروں کو اُچھالا گیا اس سے لامحالہ ایسی صورتحال پیدا ہونا تھی، جہاں تک ڈالر کی قیمت کا تعلق ہے تو اس کی قیمت میں گھٹا یا اضافہ دو طرح سے ہوتا ہے، ایک یہ کہ جب رسد اور طلب میں فرق پیدا ہو جائے یہ اقتصادی اصول ہے کہ جب رسد کم ہو اور طلب زیادہ ہو تو قیمتیں بڑھ جاتی ہیں، جب رسد زیادہ ہو جائے تو قیمتیں خودبخود گر جایا کرتی ہیں۔ دوم ڈالر کی قیمت اسٹیٹ بینک مقرر کرتا ہے جس کی پشت پر حکومت سرگرم ہوا کرتی ہے۔ اس وقت پاکستان میں ڈالر کی قیمت رسد اور طلب کے جھنجھٹ میں نہیں ہے بلکہ آئی ایم ایف پروگرام کی زد میں ہے جب ڈالر کی قیمت انٹر بینک میں 143روپے فی ڈالر کو پہنچی تو اس وقت کہا گیا کہ حکومت نے ریٹس نہیں بڑھائیں ہیں اس کی ذمہ داری اسٹیٹ بنیک پر عائد ہوتی ہے لیکن اسٹیٹ بینک کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا کہ ڈالر کی قیمت میں اضافہ کیوں کیا گیا جبکہ حکومت کے حلقے اور پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے دھوم دھڑلے سے کہنا شروع کیا کہ ڈالر میں اضافہ ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کی وجہ سے ہوا ہے، جمعرات 23مئی کو جب کاروبار شروع ہوا تو اس وقت انٹر بینک ریٹ فی ڈالر 154روپے کا تھا اور کھلی مارکیٹ میں بھی لگ بھگ اتنا ہی تھا، منی ایکسچینج کمپنیوں کے نمائندے ملک بوستان کا کہنا ہے کہ مارکیٹ میں ڈالر کی طلب نہیں رہی ہے، اس لئے یہ کہنا کہ ڈالر خرید کر ذخیرہ کیا جا رہا ہے درست نہیںہے، ڈالر کی مانگ میں کمی ہوئی ہے کیونکہ کاروبار میں مندی کا رجحان بڑھ رہا ہے چنانچہ کھلی مارکیٹ میں ڈالر کی قیمتوں میں جو چڑھاؤ پیدا ہوا ہے وہ سرکاری طور پر انٹر بینک ریٹس میں اضافہ کرنے کی وجہ سے ہے۔ جب حکومت ڈالر کی قیمت بڑھائے گی تو لازمی طور پر اس کے اثرات کھلی مارکیٹ پر بھی پڑیں گے، ادھر حکومت یہ تاثر دے رہی ہے کہ منافع خور ڈالر کو اونچی اُڑان پر لے جا رہے ہیں جبکہ خود حکومت تسلسل سے ڈالر اُڑا رہی ہے۔ اس اُڑان کے اقتصادی اثرات کیا رونما ہوئے ہیں اس کا اندازہ یوں لگایا جا سکتا ہے کہ آئی ایم ایف نے یہ مطالبہ کیا ہے کہ ریونیو میں اضافہ کیلئے گیس اور بجلی دونوں میں اضافہ ضروری ہے۔ حکومت کاشتکاروں کی پیداواری لاگت میں کمی کرکے انہیں ریلیف پہنچانے کیلئے کوشاں ہے تو دوسری طرف کھاد کی قیمتوں میں تسلسل سے اضافہ کر رہے ہیں۔ انڈسٹری ذرائع کے مطابق کھاد کے کارخانوں نے پچھلے سال جولائی سے اب تک یوریا کی فی بوری قیمت میں420روپے کا اضافہ کیا ہے۔ مارکیٹ لیدر کھاد کارخانے‘ فوجی فرٹیلائزر کمپنی (ایف ایف سی) نے زیرتبصرہ عرصے میں یوریا کی قیمت میں تین مرتبہ اضافہ کیا ہے۔ انڈسٹری کے اعداد وشمار کے مطابق جولائی2018 میں یوریا کھاد کی قیمت 200روپے اضافے سے 1617روپے فی بوری ہوگئی تھی۔ دوسرا اضافہ اکتوبر2018 میں 123روپے کیا گیا تھا جس سے یوریا کی قیمت بڑھ کے1740روپے فی بوری ہوگئی تھی۔ ایف ایف سی نے حال ہی میں یوریا کی قیمت80روپے بڑھا کر 1820روپے بوری کردی ہے۔ مارکیٹ ذرائع نے بتایا کہ ایف ایف سی نے ایک ایسے وقت میں یوریا کی فی بوری قیمت میں 80روپے کا اضافہ کیا ہے جبکہ وزیراعظم نے کسانوں کا نفع بڑھانے کیلئے 278ارب روپے کے قومی زرعی ہنگامی پروگرام کی منظوری دی ہے۔ ربیع کا سیزن اختتام کے قریب پہنچ گیا ہے اور اب یوریا کی فروخت میں غیرمعمولی کمی ہوئی ہے۔ کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ وہ یوریا کی قیمت1400روپے سے بڑھ کر 1820روپے فی بوری ہونے سے اضافی15ارب روپے سے زائد کھاد کارخانوں کو دے چکے ہیں اور آئندہ دوتین ماہ میں یہ اضافی رقم25ارب روپے سے تجاوز کر جائے گی، صرف اس ایک تصویر سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ حکومت کی اقتصادی پالیسی کیا ہے۔ جہاں تک ڈالر کا سوال ہے تو اس کی خریداری میں دلچسپی کم ہوگئی ہے لیکن انٹر بینک میں بلند قیمت اوپن مارکیٹ میں ڈالر سستا ہونے کی راہ میں رکاوٹ بن گئی۔ (باقی صفحہ 7)

متعلقہ خبریں