Daily Mashriq

’’مرگ بر امریکہ‘‘

’’مرگ بر امریکہ‘‘

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سخت الفاظ میں ایران کو متنبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان لڑائی ہوئی تو ایران تباہ ہو جائے گا۔ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں امریکی صدر نے کہا کہ امریکہ کو دوبارہ دھمکانے سے گریز کیا جائے اور ’’اگر ایران جنگ چاہتا ہے تو یہ باقاعدہ طور پر ایران کا خاتمہ ہوگا۔‘‘

امریکی صدر ٹرمپ کو ٹویٹر پر ہی جواب دیتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے کہا کہ ’’ٹیم بی کی جانب سے اکسائے جانے پر ڈونلڈ ٹرمپ کو امید ہے کہ جو الیگزینڈر اور چنگیز خان سمیت دیگر ظالم حکمراں حاصل کرنے میں ناکام رہے، وہ اسے حاصل کر لیں گے، ایران تمام ظالموں کیخلاف ہزار سالوں سے کھڑا ہے جبکہ تمام ظلم کرنے والے ختم ہوچکے ہیں‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ’’معاشی دہشتگردی اور قتل وغارت کی دھمکیوں سے ایران کا خاتمہ نہیں کیا جاسکتا‘‘۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ’’کبھی کسی ایرانی کو دھمکی نہیں دینا بلکہ عزت دینا، یہ کام کرتی ہے‘‘۔

امریکہ ایران کشیدگی 68سال پرانی ہے۔ اس کا آغاز 28اپریل1951ء کو اس وقت ہوا جب آزادانہ انتخابات کے نتیجے میں محمد مصدق ایران کے وزیراعظم منتخب ہوئے۔ ایرانی دولت کا منبع 1908ء میں خوزستان صوبے کے مقام مسجد سلیمان سے دریافت ہونے والا تیل تھا۔ تیل وگیس کا سارا کاروبار اینگلو پرشین آئل کمپنی (APOC) کے ہاتھ میں تھا جو پہلے تو برطانوی حکومت کی ملکیت تھی، لیکن ایران کی آزادی کے بعد APOC کے کچھ حصے امریکی صنعتکاروں نے بھی خرید لئے۔ برسراقتدار آتے ہی ایرانی وزیراعظم نے APOC سے تیل کی برآمد اور فروخت کی تفصیلات طلب کیں۔ کمپنی نے وزیراعظم کی درخواست مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ APOC برطانیہ اور امریکہ کی کمپنی ہے جو ایران کی آزادی سے پہلے قائم ہوئی اور اس کا حکومتِ ایران سے کوئی تعلق نہیں۔ اس جواب پر ایران کی مجلس (پارلیمنٹ) نے شدید ردعمل کا مظاہرہ کیا اور ایرانی شاہ سے مطالبہ کیا کہ وہ ایک فرمان کے ذریعے APOC کو معقولیت کی طرف مائل کریں، لیکن شاہ ایران خود ہی وزیراعظم اور پارلیمنٹ کے بڑھتے ہوئے اختیارات سے خوفزدہ تھے چنانچہ انہوں نے نہ صرف اس معاملے پر خاموشی اختیار کئے رکھی بلکہ وہ اندرون خانہ برطانیہ اور امریکہ کو اپنی حمایت کا یقین بھی دلاتے رہے۔

مجبور ہوکر وزیراعظم مصدق نے APOC کو قومی تحویل میں لے لیا۔ اس جسارت پر امریکہ اور برطانیہ دونوں ہی سخت مشتعل ہوئے۔ سی آئی اے اور برطانیہ کی خفیہ ایجنسی MI6 نے فوجی انقلاب کے ذریعے مصدق حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ مصدق پہلے جیل اور اس کے بعد گھر پر نظربند کردیئے گئے۔ فوجی انقلاب کی قیادت کرنے والے جنرل فضل اللہ زاہدی نے جمہوریت کی بساط لپیٹنے کے بعد تمام اختیارات شاہ ایران کے حوالے کر دیئے اور ایران ایک آئینی بادشاہت سے مطلق العنان شہنشاہیت میں تبدیل ہوگیا۔ قارئین کی دلچسپی کیلئے عرض ہے کہ 2013ء میں امریکہ نے مصدق کیخلاف بغاوت میں سی آئی اے کے ملوث ہونے کا اعتراف کر لیا ہے۔

ایران میں امریکہ کیخلاف شدید نفرت کا آغاز جنوری1978ء سے ہوا جب تقریباً ساری ایرانی قوم شاہ ایران کیخلاف اُٹھ کھڑی ہوئی۔ شاہ ایران کی غیرضروری امریکی حمایت کی بنا پر یہ تحریک ’’مرگ بر امریکہ‘‘ میں تبدیل ہوگئی۔ سی آئی اے کی حمایت سے شاہ ایران نے حکومت مخالف تحریک کو کچلنے کیلئے اپنے ترکش کا ہر تیر استعمال کیا۔ حتیٰ کہ مذہبی لوگوں کو بدنام کرنے کیلئے تماشائیوں سے بھرے سنیما گھروں میں بم دھماکے بھی کئے گئے جس میں سینکڑوں لوگ ہلاک ہوئے، مظاہرین پر فوجی ٹینک چڑھا دیئے گئے لیکن عوامی تحریک جاری رہی اور آخرِکار 16جنوری 1979ء کو شہنشاہ ایران ملک سے فرار ہوگئے، جس کے دو ہفتے بعد آیت اللہ خمینی اپنی جلاوطنی ترک کرکے فاتحانہ انداز میں تہران ایئرپورٹ پر اُترے اور یکم اپریل 1979ء کو ملک گیر ریفرنڈم کے بعد ایران کو اسلامی ری پبلک قرار دے دیا گیا۔

نومبر 1979ء کو ایرانی طلبہ نے تہران میں امریکی سفارت خانے پر قبضہ کرکے سفارت کاروں کو یرغمال بنا لیا۔ 444 دن جاری رہنے والے اس قبضے کے دوران کئی بار ایران اور امریکہ کے درمیان مسلح تصادم کے آثار پیدا ہوئے۔ 24اپریل 1980ء کو امریکی فوج نے اپنے یرغمالیوں کو چھڑانے کیلئے پنجہِ عقاب کے نام سے چھاپہ مار حملہ کیا جو مکمل ناکامی سے ہمکنار ہوا۔ 8امریکی فوجی ایرانی صحرا میں مارے گئے، ایک دیوقامت ٹرانسپورٹ جہاز اور جدید ترین فوجی ہیلی کاپٹر تباہ ہوگئے جبکہ 5 ہیلی کاپٹروں پر ایرانیوں نے قبضہ کرلیا۔ اس ہزیمت کے بعد ایران پر امریکی حملے کی افواہیں دم توڑ گئیں۔آپریشن پنجہِ عقاب میں ناکامی کے بعد امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے اکسانے پر 22ستمبر1980ء کو عراق نے ایران پر حملہ کر دیا۔ اس جنگ کے دوران ایران امریکہ کشیدگی اپنے عروج پر رہی کیونکہ ایرانیوں کا خیال تھا کہ صدام حسین امریکہ کی جنگ لڑرہے ہیں اور امریکی بحریہ نے آبنائے ہرمز میں کئی بار ان جہازوں سے ’’چھیڑخانی‘‘ کی جو اسلحہ لیکر ایران آرہے تھے۔ تقریباً 8سال جاری رہنے والی اس جنگ میں ایران وعراق کے لاکھوں لوگ مارے گئے اور مجموعی نقصان کا تخمینہ 15سوارب ڈالر لگایا گیا۔ (جاری ہے)

متعلقہ خبریں