Daily Mashriq


سیاسی افطار پارٹی اور سیاسی وعدے

سیاسی افطار پارٹی اور سیاسی وعدے

نیتوں کا حال اللہ جانتا ہے‘ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں اعمال کا دار ومدار نیت پر ہے اور یہی بات صحیح بخاری کی پہلی حدیث میں بیان ہوئی ہے۔ پچھلے دنوں اسلام آباد میں بلاول بھٹو زرداری کی طرف سے اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کی شان میں جو افطار پارٹی منعقد ہوئی اس کا بھی بلاول صاحب کو ثواب ملا ہوگا، اگر نیت حصول ثواب کا تھا ہم اپنے مستقبل کے نوجوان سیاستدان سے حسن ظن رکھتے ہیں لیکن خدشہ یہ ہے کہ اس افطار پارٹی میں عمران خان پر تنقید تو خوب خوب ہوئی ہوگی۔ اب یہ سوال تو مفتیان کرام سے ہی بنتا ہے کہ رمضان المبارک میں کوئی بھی تنقید کس زمرے میں آتا ہے۔ ویسے ہماری دعا ہے کہ اس افطار پارٹی میں کوئی ایسی بات نہ ہوئی ہو جس سے ان بزرگ رہنماؤں کے دن بھر کے روزے پر کوئی اثربد پڑا ہو لیکن اتنی بات تو یقینا میڈیا وغیرہ کے ذریعے باہر آگئی تھی کہ افطار کے بعد سب نے مل کر اور کھل کر عمران خان کی حکومت پر تنقید کی اور سب کا اس بات پر اتفاق تھا کہ اس شخص کو پاکستان پر مزید مسلط رہنے دینا ملکی سلامتی کو خطرات سے دوچار کرنے کے مترادف ہے۔ ایک بزرگ سیاستدان (جن کا تعلق سندھ سے ہے) یہ بھی کہتے سنے گئے کہ ’’پاکستان پر عمران خان ہمارے اعمال کی سزا ہے‘ گویا انہوں نے تسلیم کر لیا کہ گزشتہ تیس چالیس برسوں میں اپنے دورہائے اقتدار میں پاکستان کی ان دو بڑی سیاسی جماعتوں کے بعض رہنماؤں سے ضرور ایسے کام سرزد ہوئے ہیں جن کی پاداش میں عمران خان ان کے بقول ان پر بطور عذاب مسلط ہوا ہے۔ ایسی صورت میں علماء سے سنا ہے کہ توبہ استغفار کی ضرورت ہوتی ہے لیکن توبہ وہ عام سا نہیں بلکہ توبۃ النصوح کی ضرورت ہوگی۔ اب جہاں تک اس سیاسی افطار پارٹی کے نتائج اور ارادوں وفیصلوں کا تعلق ہے تو اس حوالے سے متفقہ بات تو یہ سامنے آئی ہے کہ عیدالفطر کی خوشیاں منانے کے بعد حکومت کیخلاف احتجاجی تحریک شروع کی جائیگی لیکن یہ تحریک سیاسی جماعتیں الگ الگ اپنے اپنے جھنڈے‘ کارکنوں اور پلیٹ فارم کے تحت چلائیں گی۔ پس یہاں ذرا ہمارے کان کھڑے سے ہوئے ہیں اور وہ یہ کہ گویا یہ ساری پارٹیاں حب علیؓ کے بجائے بغض معاویہؓ میں اکٹھی ہوئی ہیں اور یہی وہ نکتہ ہے جس نے ہماری سیاسی تاریخ کو داغدار بنا کر رکھا ہے۔ حکومت یا حزب اقتدار پر تنقید حزب اختلاف کا بنیادی حق ہے اور ان کو یہ حق عوام کے حقوق کے دفاع وحفاظت کیلئے استعمال کرتے رہنا چاہئے‘ لیکن افسوس کی بات ہے کہ ہمارے ہاں کے حزب اختلاف کو اپنا یہ حق یعنی حق تنقید تب یاد آتا ہے جب ان کے بڑے بڑے ذاتی مفادات پر زد پڑنے لگتی ہے۔ ہمارے ہاں برطانیہ وغیرہ کی طرح اپوزیشن جماعتیں ہوتیں تو عوام کے حقوق بھی محفوظ رہتے‘ حزب اقتدار پھونک پھونک کر حکومت بھی چلاتی اور سیاسی جماعتوں کے درمیان سرعام یوں سر پٹھول بھی نہ ہوتی۔ ہمارے ہاں جو پارٹی حزب اختلاف میں ہے اور حکومت پر جن کاموں کی وجہ سے تنقید کے کلہاڑے اور تبر و تبرا برساتی رہتی ہے وہ کل کو ا قتدار میں آنے کے بعد وہی کام کرتی ہے اور کل کی حزب اقتدار حزب اختلاف کی جگہ آکر وہی کردار اختیار کر لیتی ہے ورنہ دیکھئے نا‘ آج کل تحریک انصاف کی حکومت پر آئی ایم ایف سے قرضہ لینے پر اپوزیشن کی طرف سے سخت تنقید اور لے دے ہو رہی ہے حالانکہ ن لیگ اور پی پی پی دونوں نے اپنے ادوار میں آئی ایم ایف سے قرضہ لیتے ہوئے یہ اعلان بھی کئے تھے‘ پاکستان کا آئی ایم ایف کے پاس یہ آخری بار ہوگا اور آج کی تحریک انصاف ان پر سخت تنقید کر رہی تھی کہ یہ لوگ اپنی عیاشیوں کیلئے قوم کو مقروض بنا رہے ہیں اور کچھ زیادہ غلط بھی شاید نہیں تھا کیونکہ منی لانڈرنگ اور پانامہ کے معاملات یہی کہانیاں سنا رہے ہیں۔ ڈالر بھی پی پی پی کے دور حکومت میں 32% اور ن لیگ کے دور میں 26% بڑھا تھا اور اب بھی یہی پچیس تیس فیصد ہی بڑھا ہوگا اور شاید آنے والی حکومت خواہ کسی کی بھی ہو اگر ہمارے لچھن یہی رہے تو ایک ڈالر دو سو روپیہ یا اس سے بھی کچھ زیادہ ہی کا ہوگا۔یہ کسی نے ایسے تو نہیں کہا تھا کہ ’’تیری یاد آئی تیرے جانے کے بعد‘‘ ۔ البتہ عمران خان سے ہمیں یہ گلہ ہے کہ کاش! حکومت میں آنے اور اس کے بگڑے معاملات کو دیکھنے اور سمجھنے سے پہلے اتنے بلند وبانگ دعوے عوام سے نہ کرتے کہ اب جان کے لالے پڑ رہے ہیں اور یار لوگ مفتیوں اور علماء سے یوٹرن کی شرعی حیثیت اس ملک میں پوچھ رہے ہیں جہاں کب کا اعلان ہوا ہے کہ ’’وعدے (سیاسی وعدے) قرآن وحدیث نہیں ہوتے‘‘ لاحول ولا قوۃ، حالانکہ وعدہ ہر حال میں وعدہ ہوتا ہے اور کوشش کرنی چاہئے کہ پورا کیا جائے لیکن برصغیر کے اردو ادب میں تو ’’وہ وعدہ ہی کیا جو ایفا ہو جائے‘‘ اور شاید سیاستدانوں کے وعدوں کو زیادہ سنجیدہ لینے کی ضرورت نہیں۔ البتہ پاکستان کے بارے میں سنجیدگی سے غور وفکر کی ضرورت ہے کیونکہ اردگرد کے حالات کے تیور اچھے نہیں دکھتے۔

متعلقہ خبریں