Daily Mashriq

کیا ہم خواب کی کیفیت میں ہیں؟

کیا ہم خواب کی کیفیت میں ہیں؟

غالب نے دل کے خوش رکھنے کو جس خیال کی ستائش کی تھی وہ تو جنت کے حوالے سے تھا، اب اللہ جانے غالب نے مرنے کے بعد اپنے اس خیال سے رجوع کرتے ہوئے اس حقیقت کو تسلیم کر لیا ہوگا (اگر وہ جنت مکانی ہوگئے ہوں) تاہم یہ جو خیال محکمۂ بلدیات کے کارپروازان کے ذہن ہائے رسا میں سمایا ہے اس کی ستائش نہ کرنا کفران نعمت سے کم ہرگز نہیں ہے۔ اب اللہ جانے محکمہ کی ایسی کیا کایا کلپ ہوگئی ہے کہ فی زمانہ ایک ’’فضول‘‘ سوچ اُبھر کر محکمے کی فائلوں پر تجویز کی شکل میں آگئی ہے۔ جی ہاں خبر یہ ہے کہ محکمۂ بلدیات نے صوبے کے 12اضلاع میں لائبریریاں، اوپن جم اور کھیلوں کے میدان تعمیر کرنے کیلئے 50کروڑ روپے کا منصوبہ تیار کر لیا ہے۔ اس پر ہمیں اپنے مرحوم دوست اور ایبٹ آباد کے صاحب طرز شاعر نیاز سواتی کا یہ شعر اللہ جانے کیوں یاد آگیا ہے، جسے مزاحیہ شاعری کا ایک نمونہ ہی سمجھ لیا جائے یعنی کوئی اسے سنجیدہ نہ لے تاہم اگر اپنی ذمہ داری پر سنجیدہ لے تو اس کی مرضی، شعر ہے کہ

میرا بیٹا بات سچی ایک بھی کرتا نہیں

میرے بیٹے کو سیاستدان ہونا چاہئے

محولہ خبر میں بہت کچھ ہے یہاں تک کہ 50کروڑ روپوں کی چمک دمک سے ویسے ہی آنکھیں خیرہ ہو جاتی ہیں، تاہم ہمیں تو اس کے صرف ایک حصے سے غرض ہے جس نے ہمیں محکمۂ بلدیات کے کارپردازان کے ذہن ہائے رسا کی ستائش پر مجبور کر دیا ہے چونکہ اوپن جم اور کھیلوں کے میدانوں سے اس عمر میں جب بقول غالب ہمارے قوی مضمحل ہو رہے ہیں (اگر ہو نہیں چکے تو) بھلا ہمارا کیا تعلق واسطہ ہو سکتا ہے البتہ لفظ وکتاب سے تعلق چونکہ زندگی کی آخری سانسوں تک برقرار رکھا جا سکتا ہے اس لئے خبر کے پہلے حصے یعنی لائبریریاں نے موگیمبو کو خوش کردیا لیکن اگلے ہی لمحے ہم نے بھی خود کو ’’غالبیت‘‘ کے حصار میں محسوس کیا اور سوچنے لگے کہ کیا واقعی یہ خبر درست ہے،۔۔ ہے بھی یا نہیں اور اس کیفیت سے باہر آنے کیلئے ہم نے خود کو چٹکی بھری تو منہ سے ایک لمبی’’سی‘‘ کی آواز برآمد ہونے پر پتہ چلا کہ ہاں خبر تو درست ہے اور ہم بہ قائمی ہوش وحواس اسے پڑھ رہے ہیں۔ دراصل وہ جو کہتے ہیں نا کہ دودھ کا جلا چھاچھ کو بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے یا پھر سانپ کا ڈسا ہوا رسی کو دیکھ کر بھی ڈر جاتا ہے توکچھ ایسی ہی صورتحال کا ہمیں اس خبر کے پڑھنے سے سامنا ہوا، اگر کوئی اور نہیں تو کم ازکم ہمارے یار طرحدار اور ہمسایہ کالم نگار حضرت شین شوکت ہماری مشکل کو سمجھ سکتے ہیں کیونکہ وہ ایک طویل عرصے تک پشاور میونسپل کارپوریشن (موجودہ ٹاؤن ون) کی عظیم الشان لائبریری کے پردھان رہے ہیں اور متعلقہ محکمہ پر سیاسی غلبہ پانے والوں نے مختلف اوقات میں جس طرح اس تاریخی لائبریری کو دربدر کئے رکھا اور ساتھ ہی شین شوکت بھی بوریا بستر کندھے پر لادے ایک عمارت سے دوسری، ایک تہہ خانے سے عالم بالا تک کا سفر اختیار کرتے رہے اس سے اہل پشاور خصوصاً اہل قلم وعلم بخوبی واقف ہیں۔ یہ تو اس زمانے میں جب میونسپل لائبریری کو بالکل ہی ناکارہ چیز سمجھتے ہوئے اس کا دھڑن تختہ کرنے کے پلان بنائے جانے لگے تو شین شوکت کی فریاد سن کر ہم نے انہی صفحات پر ایک تلخ کالم تحریر کیا تھا جس کے بعد ناظم ٹاؤن ون شہید ہارون بلور نے وہ فیصلہ واپس لے لیا تھا مگر شین شوکت کی ریٹائرمنٹ کے بعد لائبریری کو ایک نائب قاصد کی نگرانی میں دیدیا گیا تھا۔ (اب پتہ نہیں کیا حال ہے بے چاری کا) اگرچہ ہم نے اس وقت بھی یہ تجویز دی تھی کہ اگر ٹاؤن ون اتنی تاریخی لائبریری کے انتظام وانضمام کیلئے کسی لائبریری سائنس کے گریجویٹ کو ملازمت دینے کیلئے تیار نہیں ہے یعنی اس کے کارپرداز ایک لائبریرین کی تنخواہ برداشت نہیں کرسکتے تو پھر یہ لائبریری کسی یونیورسٹی کو عطیہ کر دے کیونکہ اس میں اتنی قیمتی (قدیم) کتابیں موجود ہیں جو کسی بھی قوم کیلئے اثاثہ ہوسکتی ہے مگر کیا کیا جائے کہ ہماری سیاست نے اور تو بہت کچھ کیا ہے مگر منتخب نمائندوں کیلئے پڑھا لکھا (صاحب علم کی شرط ہے تعلیم کی نہیں) ہونا ضروری قرار نہیں دیا اس لئے اکثر یہ لوگ لائبریریوں اور ریڈنگ رومز کیساتھ لگ بھگ ویسا ہی برتاؤ کرنے کے بارے میں سوچتے ہیں (اگرچہ عمل کی نوبت نہیں آئی) جیسا کہ مسلمانوں کے سپین پر اہل یورپ نے قبضہ کرنے کے بعد وہاں کی لائبریریوں کیساتھ کیا کہ قیمتی خطوطوں کو جلا کر راکھ کر دیا تھا اور آگ کئی کئی ماہ تک بھڑکتی رہی۔ اہل یورپ تو مسلمانوں کے علم کا ذخیرہ جلا کر بھی ان کے اندر سے اسلامی تعلیمات کا چراغ گل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے

وہ مری سوچ سے خائف ہے تو اس سے کہنا

مجھ میں اُڑتے ہوئے طائر کو تہہ دام کرے

بہرحال بات محکمۂ بلدیات کی اس سوچ کی ہورہی ہے کہ لائبریریاں قائم کی جائیں، سوچ تو اچھی ہے اور اللہ کرے کہ اس کو عملی صورت دی جاسکے، تاہم اگر پہلے قدم کے طور پر پشاور میونسپل کارپوریشن کی تاریخی نوعیت کی لائبریری کو کسی مناسب اور مرکزی مقام پر اچھی عمارت میں منتقل کر کے اس کیلئے کسی لائبریری سائنس کے گریجویٹ کو ملازم رکھا جائے اور اسے عوام کیلئے کھول دیا جائے تو یہ اس نیک کام کی ابتداء ہوگی۔ اس لائبریری میں ایسی ایسی نایاب کتب موجود ہیں (اگر دیمک نے چاٹ نہ لی ہوں) تو وہ آنے والی نسلوں کیلئے ریسرچ کے کام میں مددگار ہو سکتی ہیں اس لئے اگر ان 50کروڑ میں سے پانچ کروڑ بھی اس کام کیلئے مختص کر دیئے جائیں تو یہ کام خوش اسلوبی سے کیا جا سکے گا کیونکہ اب لائبریری کیلئے نئی کتابیں بھی خریدنی ہوں گی اور پرانی کتابیں اگر مرمت کے قابل ہیں تو اس پر بھی توجہ دینا ہوگی کیا متعلقہ حکام توجہ دیں گے؟۔

غالب نے دل کے خوش رکھنے کو جس خیال کی ستائش کی تھی وہ تو جنت کے حوالے سے تھا، اب اللہ جانے غالب نے مرنے کے بعد اپنے اس خیال سے رجوع کرتے ہوئے اس حقیقت کو تسلیم کر لیا ہوگا (اگر وہ جنت مکانی ہوگئے ہوں) تاہم یہ جو خیال محکمۂ بلدیات کے کارپروازان کے ذہن ہائے رسا میں سمایا ہے اس کی ستائش نہ کرنا کفران نعمت سے کم ہرگز نہیں ہے۔ اب اللہ جانے محکمہ کی ایسی کیا کایا کلپ ہوگئی ہے کہ فی زمانہ ایک ’’فضول‘‘ سوچ اُبھر کر محکمے کی فائلوں پر تجویز کی شکل میں آگئی ہے۔ جی ہاں خبر یہ ہے کہ محکمۂ بلدیات نے صوبے کے 12اضلاع میں لائبریریاں، اوپن جم اور کھیلوں کے میدان تعمیر کرنے کیلئے 50کروڑ روپے کا منصوبہ تیار کر لیا ہے۔ اس پر ہمیں اپنے مرحوم دوست اور ایبٹ آباد کے صاحب طرز شاعر نیاز سواتی کا یہ شعر اللہ جانے کیوں یاد آگیا ہے، جسے مزاحیہ شاعری کا ایک نمونہ ہی سمجھ لیا جائے یعنی کوئی اسے سنجیدہ نہ لے تاہم اگر اپنی ذمہ داری پر سنجیدہ لے تو اس کی مرضی، شعر ہے کہ

میرا بیٹا بات سچی ایک بھی کرتا نہیں

میرے بیٹے کو سیاستدان ہونا چاہئے

محولہ خبر میں بہت کچھ ہے یہاں تک کہ 50کروڑ روپوں کی چمک دمک سے ویسے ہی آنکھیں خیرہ ہو جاتی ہیں، تاہم ہمیں تو اس کے صرف ایک حصے سے غرض ہے جس نے ہمیں محکمۂ بلدیات کے کارپردازان کے ذہن ہائے رسا کی ستائش پر مجبور کر دیا ہے چونکہ اوپن جم اور کھیلوں کے میدانوں سے اس عمر میں جب بقول غالب ہمارے قوی مضمحل ہو رہے ہیں (اگر ہو نہیں چکے تو) بھلا ہمارا کیا تعلق واسطہ ہو سکتا ہے البتہ لفظ وکتاب سے تعلق چونکہ زندگی کی آخری سانسوں تک برقرار رکھا جا سکتا ہے اس لئے خبر کے پہلے حصے یعنی لائبریریاں نے موگیمبو کو خوش کردیا لیکن اگلے ہی لمحے ہم نے بھی خود کو ’’غالبیت‘‘ کے حصار میں محسوس کیا اور سوچنے لگے کہ کیا واقعی یہ خبر درست ہے،۔۔ ہے بھی یا نہیں اور اس کیفیت سے باہر آنے کیلئے ہم نے خود کو چٹکی بھری تو منہ سے ایک لمبی’’سی‘‘ کی آواز برآمد ہونے پر پتہ چلا کہ ہاں خبر تو درست ہے اور ہم بہ قائمی ہوش وحواس اسے پڑھ رہے ہیں۔ دراصل وہ جو کہتے ہیں نا کہ دودھ کا جلا چھاچھ کو بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے یا پھر سانپ کا ڈسا ہوا رسی کو دیکھ کر بھی ڈر جاتا ہے توکچھ ایسی ہی صورتحال کا ہمیں اس خبر کے پڑھنے سے سامنا ہوا، اگر کوئی اور نہیں تو کم ازکم ہمارے یار طرحدار اور ہمسایہ کالم نگار حضرت شین شوکت ہماری مشکل کو سمجھ سکتے ہیں کیونکہ وہ ایک طویل عرصے تک پشاور میونسپل کارپوریشن (موجودہ ٹاؤن ون) کی عظیم الشان لائبریری کے پردھان رہے ہیں اور متعلقہ محکمہ پر سیاسی غلبہ پانے والوں نے مختلف اوقات میں جس طرح اس تاریخی لائبریری کو دربدر کئے رکھا اور ساتھ ہی شین شوکت بھی بوریا بستر کندھے پر لادے ایک عمارت سے دوسری، ایک تہہ خانے سے عالم بالا تک کا سفر اختیار کرتے رہے اس سے اہل پشاور خصوصاً اہل قلم وعلم بخوبی واقف ہیں۔ یہ تو اس زمانے میں جب میونسپل لائبریری کو بالکل ہی ناکارہ چیز سمجھتے ہوئے اس کا دھڑن تختہ کرنے کے پلان بنائے جانے لگے تو شین شوکت کی فریاد سن کر ہم نے انہی صفحات پر ایک تلخ کالم تحریر کیا تھا جس کے بعد ناظم ٹاؤن ون شہید ہارون بلور نے وہ فیصلہ واپس لے لیا تھا مگر شین شوکت کی ریٹائرمنٹ کے بعد لائبریری کو ایک نائب قاصد کی نگرانی میں دیدیا گیا تھا۔ (اب پتہ نہیں کیا حال ہے بے چاری کا) اگرچہ ہم نے اس وقت بھی یہ تجویز دی تھی کہ اگر ٹاؤن ون اتنی تاریخی لائبریری کے انتظام وانضمام کیلئے کسی لائبریری سائنس کے گریجویٹ کو ملازمت دینے کیلئے تیار نہیں ہے یعنی اس کے کارپرداز ایک لائبریرین کی تنخواہ برداشت نہیں کرسکتے تو پھر یہ لائبریری کسی یونیورسٹی کو عطیہ کر دے کیونکہ اس میں اتنی قیمتی (قدیم) کتابیں موجود ہیں جو کسی بھی قوم کیلئے اثاثہ ہوسکتی ہے مگر کیا کیا جائے کہ ہماری سیاست نے اور تو بہت کچھ کیا ہے مگر منتخب نمائندوں کیلئے پڑھا لکھا (صاحب علم کی شرط ہے تعلیم کی نہیں) ہونا ضروری قرار نہیں دیا اس لئے اکثر یہ لوگ لائبریریوں اور ریڈنگ رومز کیساتھ لگ بھگ ویسا ہی برتاؤ کرنے کے بارے میں سوچتے ہیں (اگرچہ عمل کی نوبت نہیں آئی) جیسا کہ مسلمانوں کے سپین پر اہل یورپ نے قبضہ کرنے کے بعد وہاں کی لائبریریوں کیساتھ کیا کہ قیمتی خطوطوں کو جلا کر راکھ کر دیا تھا اور آگ کئی کئی ماہ تک بھڑکتی رہی۔ اہل یورپ تو مسلمانوں کے علم کا ذخیرہ جلا کر بھی ان کے اندر سے اسلامی تعلیمات کا چراغ گل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے

وہ مری سوچ سے خائف ہے تو اس سے کہنا

مجھ میں اُڑتے ہوئے طائر کو تہہ دام کرے

بہرحال بات محکمۂ بلدیات کی اس سوچ کی ہورہی ہے کہ لائبریریاں قائم کی جائیں، سوچ تو اچھی ہے اور اللہ کرے کہ اس کو عملی صورت دی جاسکے، تاہم اگر پہلے قدم کے طور پر پشاور میونسپل کارپوریشن کی تاریخی نوعیت کی لائبریری کو کسی مناسب اور مرکزی مقام پر اچھی عمارت میں منتقل کر کے اس کیلئے کسی لائبریری سائنس کے گریجویٹ کو ملازم رکھا جائے اور اسے عوام کیلئے کھول دیا جائے تو یہ اس نیک کام کی ابتداء ہوگی۔ اس لائبریری میں ایسی ایسی نایاب کتب موجود ہیں (اگر دیمک نے چاٹ نہ لی ہوں) تو وہ آنے والی نسلوں کیلئے ریسرچ کے کام میں مددگار ہو سکتی ہیں اس لئے اگر ان 50کروڑ میں سے پانچ کروڑ بھی اس کام کیلئے مختص کر دیئے جائیں تو یہ کام خوش اسلوبی سے کیا جا سکے گا کیونکہ اب لائبریری کیلئے نئی کتابیں بھی خریدنی ہوں گی اور پرانی کتابیں اگر مرمت کے قابل ہیں تو اس پر بھی توجہ دینا ہوگی کیا متعلقہ حکام توجہ دیں گے؟۔

متعلقہ خبریں