Daily Mashriq

مریض کے زخم ازخود ٹھیک کرنے والا روبوٹک لباس

مریض کے زخم ازخود ٹھیک کرنے والا روبوٹک لباس

واشنگٹن: امریکی محکمہ دفاع نے ایک انقلابی روبوٹک لباس بنانے کا دعویٰ کیا ہے جو جنگ کے موقع پر اگر زخمی سپاہی کو پہنادیا جائے تو وہ جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ازخود اس کا علاج کرسکے گا۔ اسے’ بیگ می بند ٹراما کیئر‘ کا نام دیا گیا ہے۔

اس کے لیے یونیورسٹی آف پٹسبرگ اسکول آف میڈیسن (یوپی ایم سی) اور کارنیگی میلون یونیورسٹی (سی ایم یو) کو 72 لاکھ ڈالر کی رقم جاری کی گئی ہے جس کے تحت اگلے چار برس میں وہ ایسا لباس تیار کریں گی۔ اس خودکار اور خودمختار نظام کو ٹراما کیئر ان رک سیک (ٹی آر اے سی آئی آر) کا نام دیا گیا ہے ۔ اس میں جدید ترین سینسر، روبوٹک اجزا اورمصنوعی ذہانت موجود ہوگی۔ یہ سب مل کر جنگ میں حادثات کے شکار سپاہیوں کو فوری اور آزادانہ طور پر طبی مدد فراہم کریں گے۔

یاد رہے کہ بعض حادثات میں بروقت طبی امداد ہی سب سے اہم کردار ادا کرتی ہے۔ بعض چوٹوں اور حادثات کے بعد وقت کی اہمیت کو ’گولڈن آور‘ بھی قرار دیا جاتا ہے اور اگر اس میں علاج ہوجائے تو زخمی کی زندگی بچانا ممکن ہوجاتا ہے۔

 یہی وجہ ہے کہ دونوں اداروں میں مختلف شعبوں کے ماہرین ، ڈاکٹروں اور ہنگامی طبی مدد فراہم کرنے والوں کے تعاون سے اس منصوبے پر کام کررہے ہیں۔ اس روبوٹک لباس میں ہنگامی دوا، سرجری، سانس لینے کے عمل اور انتہائی نگہداشت کے تمام پہلوؤں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ ان کا مقصد ہے کہ سخت اور نرم دونوں طرح کے روبوٹک لباس ہی بنائے جائیں جس کے اندر مریض کو لیٹایا جاسکے۔

سوٹ کے اندر کئی طرح کے سینسر نصب کئے جائیں گے جن کا ڈیٹا کمپیوٹر الگورتھم میں جائے گا اور روبوٹک نظام خون میں انجیکشن اور ڈرپ کے ساتھ ساتھ دوائیں اور زخم پر مرہم لگانے کا کام بھی کرے گا۔ واضح رہے کہ روبوٹ سپاہی کو بڑے ہسپتال لے جاتے دوران تمام طبی امداد فراہم کرے گا۔

ماہرین کی کوشش ہے کہ روبوٹک لباس کو تہہ کرکے کمر پر باندھے جانے والے ایک بیگ میں سمویا جاسکے تو یہ مہم جو افراد، ہائیکنگ کرنے والوں اور کوہ پیماؤں کے کام بھی آسکے گا۔ لباس کچھ ایسا بنایا گیا ہے کہ یہ ازخود پھول جاتا ہے اور ایک طرح کی اسٹریچر کا کام بھی دیتا ہے۔ روبوٹک لباس میں رگ میں ڈرپ لگانے اور سانس کی نالی میں پائپ لگانے کی سہولت بھی ہوگی اور یہ کام ازخود انداز میں ہوگا۔

اس کے لیے پہلے سے موجود حادثے کے شکار 5000 مریضوں کی تصاویر اور ڈیٹا سے بھی مدد لی جائے گا اور کمپیوٹر نظام ان کی بنا پر دوا یا مدد دینے کا فیصلہ کرے گا۔

متعلقہ خبریں