Daily Mashriq

کوئٹہ: نمازِِ جمعہ کے وقت مسجد میں دھماکا، 2 افراد جاں بحق 15 زخمی

کوئٹہ: نمازِِ جمعہ کے وقت مسجد میں دھماکا، 2 افراد جاں بحق 15 زخمی

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے نواحی علاقے پشتون آباد میں قائم مسجد میں ہونے والے دھماکے کے نیتجے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ 15 افراد زخمی ہوگئے۔

دھماکا نمازِ جمعہ کے وقت ہوا جس کے بعد لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت زخمیوں کو فوری طور پر کوئٹہ کے سول ہسپتال منتقل کرنا شروع کردیا۔

دھماکا اتنا زوردار تھا کہ پورا علاقہ لرز اٹھا تاہم حکام نے دھماکے کی نوعیت کے بارے میں ابھی تک کچھ نہیں بتایا۔

دھماکے کے فوری بعد ریسکیو اہلکار اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور سیکورٹی اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لےکر شواہد اکٹھے کرلیے۔

مسجد میں ہونے والے دھماکے پر اعلیٰ حکومتی اور سیاسی شخصیات نے سخت مذمت کرتے ہوئے دکھ کا اظہار کیا اور جاں بحق افراد کے اہلِ خانہ سے تعزیت اور زخمیوں کے لیے دعائے صحت کی۔

رمضان المبارک میں دہشت گردی کا پانچواں واقعہ

خیال رہے کہ 6 مئی کو ماہ رمضان کے آغاز سے اب تک ملک میں ہونے والا دہشت گردی کا یہ پانچواں واقعہ ہے۔

اس سے قبل 13 مئی کو کوئٹہ کے علاقے سیٹلائٹ ٹاؤن کی مِنی مارکیٹ میں پولیس موبائل کے قریب دھماکے کے نتیجے میں 4 اہلکار شہید اور 2 اہلکاروں سمیت 9 افراد زخمی ہوئے تھے۔

ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) کوئٹہ عبدالرزاق چیمہ نے جانی نقصان کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا تھا کہ زخمیوں میں 2 پولیس اہلکاروں کے علاوہ 7 شہری بھی شامل ہیں, دھماکے کے لیے ریموٹ کنٹرول ڈیوائس سڑک کنارے نصب موٹر سائیکل میں نصب کی گئی تھی۔

اس سے دو روز قبل بلوچستان کے ساحلی علاقے گوادر میں فائیو اسٹار ہوٹل ’پرل کانٹیننٹل‘ پر دہشت گردوں کے حملے کے نتیجے میں نیوی کا ایک اہلکار اور 4 سیکیورٹی گارڈز شہید جبکہ 6 افراد زخمی ہوئے تھے، تاہم سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی میں 3 دہشت گرد بھی مارے گئے تھے۔

قبل ازیں 8 مئی کو لاہور میں داتا دربار کے باہر خودکش دھماکے میں 4 پولیس اہلکاروں اور ایک سیکیورٹی گارڈ سمیت 10 افراد جاں بحق جبکہ 30 افراد زخمی ہوئے تھے۔

پولیس ذرائع نے بتایا تھا کہ دھماکا داتا دربار کے گیٹ نمبر 2 پر ایلیٹ فورس کی گاڑی کے قریب ہوا جس میں پولیس وین کو نشانہ بنایا گیا۔

اسی روز بلوچستان کے ضلع قلعہ عبداللہ کے شہر چمن میں قبائلی رہنما ولی خان اچکزئی گاڑی کے قریب دھماکے کے نتیجے میں 2 محافظوں سمیت جاں بحق ہوگئے تھے۔

حکام نے کہا تھا کہ ولی خان اچکزئی اپنے دفتر سے گھر جاتے ہوئے نشانہ بنے جبکہ دھماکے میں قبائلی رہنما کی گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔

دہشت گرد تنظیم داعش کی نیوز ایجنسی ’عماق‘ نے ذمہ داری قبول کرنے کی تصدیق کی تھی،عماق نیوز ایجنسی کی جانب سے حملہ آور کی تصویر اور نام بھی جاری کیے تھے۔

26 مارچ کو بلوچستان کے ضلع لورالائی میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران لیویز اہلکاروں پر حملے کے ماسٹرمائنڈ سمیت 4 مبینہ دہشتگردوں نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا تھا۔

اس سے قبل 17 مارچ کو ڈیرہ مراد جمالی میں ریل کی پٹڑی پر ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں جعفرآباد ایکسپریس کی بوگیاں ٹریک سے اترگئی تھیں جس کے نتیجے میں ماں بیٹی سمیت 4 افراد جاں بحق اور 6 زخمی ہو گئے تھے۔

متعلقہ خبریں