سول حکومت سے حقیقی تعاون کا عملی مظاہرہ

سول حکومت سے حقیقی تعاون کا عملی مظاہرہ

سبکدوش ہونے والے آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کھل کر اس امر کا اظہار کیاہے کہ سول حکومت کی مدد ان کی ترجیح تھی۔ اصولی طور پر ہر سپہ سالار کی یہ آئینی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ دفاع وطن کے ساتھ ساتھ ملک میں قائم حکومت کے استحکام میں بھی اپنا کردار ادا کرے۔ مگر بد قسمتی سے وطن عزیز میں سپہ سالاروں نے استحکام حکومت کی بجائے انتظام حکومت سنبھالنے کی ریت ڈال دی اور کئی مرتبہ فوج نے سویلین حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار سنبھالا جس کی بناء پر ملک میں مستحکم حکومت کی بنیاد نہ پڑسکی۔ پاکستان کی تاریخ میں جنرل عبدالوحید کاکڑ پہلے جرنیل سمجھے جاتے ہیں جنہوں نے خالص پیشہ ورانہ امور ہی پر توجہ دی یہی وجہ ہے کہ ان کا نام تمام حلقوں میں احترام سے لیا جاتا ہے۔ اس کے بعد جنرل راحیل شریف ایک ایسے سپہ سالار کے طور پر یاد کئے جائیں گے جن کا دامن اور ہاتھ دونوں صاف تھے اور انہوں نے کئی مواقع پر سیاسی عناصر کی جانب سے اپنے ہاتھوں مواقع کی فراہمی کے باوجود خود کو پیشہ ورانہ فرائض تک محدود رکھا۔ اگر وہ ایسا نہ کرتے تو آپریشن ضرب عضب اور دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں کامیابی شاید ہی ممکن ہوتی بلکہ خدا نخواستہ ہم ایک بڑی ناکامی کا شکار ہوتے۔ جنرل راحیل شریف کی جانب سے سول حکومت کی معاونت اور اس کو مشکلات میں سہارا دینے کا دعویٰ کسی تردد کا باعث امر نہیں اظہر من الشمس ہے یہاں تک کہ ان کے کردار و عمل میں کبھی شائبہ کا بھی باعث امر سامنے نہیں آیا۔ اگرچہ مختلف حالات میں اور خود سیاسی عناصر کے بیانات اور اشاروں کنایوں سے کئی مواقع شکوک و شبہات کے آئے مگر عملی طور پر سارے شکوک و شبہات لغو ثابت ہوئے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ایک پیشہ ور سپاہی کے پیشہ ورانہ کردار کی ادائیگی سے بڑھ کر ان کے لئے عزت و توقیر کا کوئی موقع نہیں ہوتا۔ جنرل راحیل شریف نے اسلام آباد دھرنا ہو یا پاک بھارت مذاکرات ' سی پیک یا دیگر کوئی اہم موقع تمام تر اندازوں کے باوجود سول حکومت کی معاونت کی۔ انہوں نے اپنے دور ملازمت میں جس کردار و عمل کا مظاہرہ کیا اس کے باعث وہ قومی ہیرو بن گئے ہیں۔ ان کی عوامی مقبولیت بے سبب نہیں اور ان کا دلی احترام بھی کوئی راز کی بات نہیں ان کی خدمات سب کے سامنے ہیں۔ ان کی مقبولیت اور اعلیٰ خدمات کے باعث بعض حلقوں کی جانب سے ان کی بعد از ریٹائرمنٹ دو سال تک سیاست میں حصہ لینے اور عہدہ لینے پر پابندی ہٹانے اور ان کو سیاست میں آنے کے مشورے مل رہے ہیں۔ سپہ سالار کی مقبولیت عزت اور احترام اور ان کی خدمات کے پیش نظر وہ بجا طورپر قومی ہیرو ٹھہرتے ہیں مگر سیاست کا خار مغیلاں ہر سفید دامن پر دھبہ ہی لگانے اور اس کے عناصر کے لئے کامیابی کا باعث نہیں رہا ہے اور نہ ہی اس کی توقع کی جانی چاہئے۔ جو لوگ مشورے دے رہے ہیں اور مطالبات کر رہے ہیں ان کی نیت پر کوئی شبہ نہیں لیکن اس کے باوجود بعد ازریٹائرمنٹ اس طرح کے کسی مشغلے سے اجتناب بہتر ہوگا۔ بہر حال یہ ایک جملہ معترضہ تھا جس کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے۔ البتہ سیاست اور اقتدار کی راہداریوں سے دور رہ کر اگر مجموعی قومی مفاد کی کسی ایسی ذمہ داری کا بیڑا اٹھایا جائے جو عہدہ نہ ہو بلکہ قومی خدمت ہو اور جس کا پلیٹ فارم اور طریقہ کار بھی محولہ امور سے بالا تر ہو کر طے کیاگیا ہو تو پوری قوم کو متحد کرنے اور متفقہ لائحہ عمل مرتب کرنے میں قوم ان کے کردار کا دل سے خیر مقدم کرے گی۔ جنرل راحیل شریف اگر خواہاں ہوتے تو ان کی مدت ملازمت میں توسیع نہ دینے کی کوئی وجہ نہیں تھی۔ اگر دہشت گردی کے خلاف جنگ خطے کے حالات اور دیگر معاملات کو دیکھا جائے تو اس امر کا شبہ ہونے لگتا ہے کہ کہیں ان کے جانے کے بعد خدانخواستہ کوئی خلاء پیدا نہ ہو اور ہم ان ثمرات سے کہیں محروم نہ رہ جائیں جو بڑی قربانیوں اور مشکلوں کے بعد ممکن ہوئیں۔ جنرل راحیل شریف کے بعد جس سپہ سالار کے ہاتھ کمان کی چھڑی آئے گی ان سے قوم کی اس طرح کی توقعات کی وابستگی فطری امر ہوگا۔ اپنے پیشرو کے لئے جو روایات چھوڑ کر جا رہے ہیں اس پر ان کا کار بند ہونا ان روایات کو برقرار رکھنا کوئی آسان کام نہ ہوگا۔ بڑے عہدے کے ساتھ کچھ امتحان کے ایام کچھ آزمائشیں اور کچھ سختیاں بھی ہوتی ہیں۔ بڑے عہدوں کی سب سے بڑی آزمائشیں اپنی ذات کو مفادات سے بچانا ہوتا ہے۔ اس وقت ملکی سیاست میں انتشار اور تلاطم کی جو کیفیت ہے اس کا سبب کچھ اور نہیں۔ دامن اور ہاتھ صاف نہ رکھنے کی آزمائش میں بہک جانے کا ہے جس کے باعث پورے ملک میں عدم اطمینان اور انتشار کی کیفیت ہے۔ جنرل راحیل شریف ایک نڈر اور بہادر سپہ سالار کے طور پر ہی نہیں بلکہ ایک کامیاب جرنیل کے ساتھ ساتھ تاریخ میں دامن بچا کر رکھنے والے جنرل کے طورپر امر رہیں گے

اداریہ