Daily Mashriq


ایف سی اہلکاروں کو نشانہ بنانے کا واقعہ

ایف سی اہلکاروں کو نشانہ بنانے کا واقعہ

تھانہ فقیر آباد کے علاقہ رشید آباد میں فرنٹیئرکانسٹیبلری کی گاڑی پر ریموٹ کنٹرول بم حملہ میں تین اہلکاروں کی شہادت اور سات کا زخمی ہونا رنج دہ واقعہ ہے۔ تھانہ فقیر آباد کی حدود میں قبل ازیں بھی اس طرح کے کئی واقعات ہو چکے ہیں جس سے اس امر کو تقویت ملتی ہے کہ تھانہ فقیر آباد کی حدود یا پھر اس کے ارد گرد دہشت گردوں کا کوئی ٹھکانہ موجود ہے اور ان کا اس علاقے میں نیٹ ورک فعال ہے ۔ اگر ایسا نہ بھی ہو تو یہ بات پورے وثوق سے کی جاسکتی ہے کہ اس علاقے میں ان کے سہولت کار موجود ہیں اور ان کو اس علاقے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نقل و حرکت کی باقاعدہ اطلاع ملتی ہے۔ اس امر کو اس بناء پر بھی تقویت ملتی ہے کہ نشانہ بنائے گئے ایف سی اہلکار چہلم کی ڈیوٹی پر طلب کئے گئے تھے اور ان کا قیام مختصر تھا۔ ایف سی اہلکاروں کو جس طرح سے نشانہ بنایاگیا اس سے تو اس شبے کو تقویت ملتی ہے کہ دہشت گرد عناصر کسی نزدیک ٹھکانے سے ان کی آمد و رفت اور روانگی کی معلومات حاصل کرکے ان کو نشانہ بنایا۔ بہر حال کیا ہوا تھا اس کا درست اندازہ تو باقاعدہ تحقیقات کے بعد ہی لگایاجا سکتا ہے۔ اس طرح کے واقعتا کی اگرچہ مکمل روک تھام ممکن نہیں اور نہ یہ قانون نافذ کرنے والے اداروں سے اس کی توقع رکھی جاسکتی ہے لیکن حساس ایام میں جس قسم کی نگرانی اور اپنے ارد گرد سے جس طرح ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے اس ضمن میں بہر حال عدم احتیاط کا مظاہرہ دکھائی دیتا ہے لیکن اس کی توقع دوسرے شہر سے آئے ایف سی اہلکاروں سے توقع نہیں رکھی جاسکتی۔ یہ علاقہ پولیس اور نگرانی پر مامور اداروں کی ذمہ داری تھی کہ وہ مشکوک عناصر پر نظر رکھتے۔ گزشتہ روز کے واقع سے دہشت گرد عناصر کی جانب سے شہر میں احساس عدم تحفظ اور تشویش کی لہر دوڑانے کی سازش ضرور کامیاب ہوئی یہ ہمارے سیکورٹی اہلکاروں کے لئے چیلنج بھی تھا کہ وہ ابھی دہشت گردوں کی بیخ کنی میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں۔ ابھی دہشت گرد عناصر کا مذموم نیٹ ورک اس قابل بہر حال ہے کہ وہ چھوٹی موٹی کارروائی کرسکتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ فقیر آباد تھانہ کی حدود اور ارد گرد کے علاقوں میں جہاں خفیہ بنیادوں پر ان عناصر کے سہولت کاروں' ہمدردوں یا پھر ممکنہ طور پر ان کے کارکنوں کا کھوج لگانے کی ضرورت ہے وہاں صورتحال ایک جامع تطہیری آپریشن کی بھی متقاضی ہے تاکہ ان عناصر کی مکمل طور پر بیخ کنی کی جاسکے اور علاقے میں ان کا کوئی سہولت کار اور ہمدرد باقی نہ رہنے پائے تاکہ وہ کسی آئندہ منصوبہ بندی کی ہمت نہ کرسکیں۔ اہل علاقہ کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ صورتحال پر نظر رکھیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تعاون کرکے دہشت گردوں کے خاتمے میں اپنا کردار ادا کریں۔

سڑکیں بند' ٹرانسپورٹ بند' شہری محصور

خیبر پختونخوا حکومت کی خیبر روڈ پر دھرنوں اور احتجاج پر پابندی عائد کرنے کے فیصلے پر عملدرآمد کرنے میںناکامی کے باعث عوام کا عذاب سے گزرنا فطری امر تھا۔ ستم بالائے ستم یہ کہ ٹریفک نظام کو موثر بنانے کیلئے ٹریفک وارڈنز بھی صرف شاہراہوں تک محدود رہ گئے ہیں اور شہر کے ٹریفک نظام اژدھام پر قابو پانے کیلئے متبادل نظام متعارف کرانے میں ناکام رہی ہے ۔ہم سمجھتے ہیں کہ صوبائی اسمبلی کے سامنے شاہراہ بند کرنے کا متبادل موجود وہے مگر پولیس ایسا کرانے کی زحمت نہیں کرتی اور نہ ہی اسے صوبائی حکومت کی ہدایات پر عملدرآمد کرانے کی کوئی پرواہ ہے۔ جیسا یہ عملاً پولیس سٹیٹ ہو وگرنہ صوبائی اسمبلی کے سامنے خیبر روڈ کو کھلا رکھ کر دوسری جانب آدھی سڑک تک مظاہرین کو محدود کرکے ان کو اپنا احتجاج ریکارڈ کرانے کا موقع دینے کی گنجائش اور سہولت موجود ہے مگر اس کے لئے تھوڑی سی جتن کی ضرورت ہوتی ہے جو پولیس حکام کو گوارا نہیں۔ پولیس نہ صرف مظاہرین کو محدود کرکے سڑک کھولنے کے فرض میں ناکام ہے بلکہ گزشتہ روز ٹریفک پولیس اہلکاروں نے مسافر بسوں کو گلبہار کی حدود سے اڈہ واپس کرکے جو نرالہ کام کیا اس پر تو ان کو تمغہ ملنا چاہئے۔ ٹریفک پولیس کا کام رش بننے سے روکنا اور گاڑیوں کے لئے راستہ بنانا ہے اور مسافروں کی سہولت کا خیال رکھنا ہے لیکن یہاں تو نہ رہے بانس نہ بجے بانسری والا معاملہ تھا جس کے باعث ضعیف العمر افراد ' خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد کو ٹرانسپورٹ کی سہولت سے محروم ہونا پڑا۔ اس طرح کی عاجلانہ حرکتوں سے عوام کا صوبائی حکومت سے نالاں ہونا فطری امر ہوگا۔ اس معاملے کا اگر اس بار سختی سے نوٹس نہ لیا گیا تو راستوں کی بندش کے آسان طریقے کے ساتھ ساتھ ٹریفک پولیس ٹریفک بند کرنے کا وتیرہ اپنائے گی اور عوام مزید مشکلات میں گھر جائیں گے۔ صوبائی حکومت کے لئے پولیس سے اپنے احکامات پر عملدرآمد کرانا کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہئے۔ایسا لگتا ہے کہ صوبائی حکومت کو خود ہی اپنے احکامات اور ہدایات کا پاس نہیں اس رویے پر نظر ثانی کی جانی چاہئے اور عوام کے لئے مشکلات کا سبب بننے والے عناصر سے قانون کی پابندی ہر قیمت پر کروانی چاہئے۔

متعلقہ خبریں