جنرل راحیل شریف ۔۔ایک تاریخ ساز دور

جنرل راحیل شریف ۔۔ایک تاریخ ساز دور

چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف کی الوداعی تقریب کی تیاریاں شروع ہو گئی ہیں اور گزشتہ پیر کے روز سے وہ الوداعی دورے کر رہے ہیں۔ اپنے دور کمان کے بارے میں انہوں نے کہا ہے کہ سویلین حکومت کو سیکورٹی اور تعاون فراہم کرنا ان کی ترجیح رہی ہے تاکہ سویلین حکومت اداروں کو مضبوط کر سکے اور دور دراز علاقوں میں ترقیاتی کام انجام دے سکے۔ اور یہ مشکل کام جس احسن طریقے سے انہوں نے انجام دیا ہے ملک کا بچہ بچہ اس کا گرویدہ ہے۔ ان کی چند دن کے بعد سبکدوشی پر پاکستانی عوام کے ہر طبقے کے دل بوجھل ہیں۔ لوگ نہیں چاہتے کہ جنرل راحیل شریف بطور آرمی چیف ان سے جدا ہوں۔ انہوں نے قوم کو صرف گردابوں سے نکالا ہی نہیں بلکہ ترقی و خوش حالی کے لیے ضروری مکمل امن وسلامتی کی طرف لے جانے والے راستے بھی روشن کر دیے اور ان راستوں کے اہداف اور منزلوں کی بھی نشان دہی کر دی ہے۔ وہ اپنے دور کی تکمیل کے بعد امن و سلامتی کی راہ میں کچھ ذمہ داریاں نئے آرمی چیف کے لیے چھوڑ کر جا رہے ہیںتاہم یہ ذمہ داریاں ان چیلنجز کی نسبت مشکل نہیں جن کا سامنا جنرل راحیل شریف نے کیا اور ان کا ایسا جواب دیا جو پاکستان کی تاریخ میں یاد رکھا جائے گا۔ جب جنرل راحیل شریف نے چیف آف آرمی سٹاف کا عہدہ سنبھالا تو بعض لوگ کہتے تھے کہ انہیں انٹیلی جنس اور آپریشن کا تجربہ نہیں ہے۔ لیکن ان کی کمان میں پاک فوج نے جو آپریشن ضرب عضب انجام دیا ساری دنیا اس کی معترف ہے۔ اس آپریشن نے طالبان کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم تباہ کر دیا۔ طالبان منتشر ہو گئے' کچھ مارے گئے بیشتر بیرون ملک فرار ہو گئے۔ آج پاک افغان سرحدی علاقوں کے لوگ پرامن ماحول میں اپنے گھروں میں دوبارہ آباد ہو رہے ہیں۔ جنرل راحیل شریف نے پاک افغان سرحد کی بارڈر مینجمنٹ کا کام شروع کیا۔ آج افغانستان سے آنے والوں اور پاکستان سے افغانستان جانے والوں کو ویزہ اور سفری دستاویزات کی شرائط نبھانی پڑتی ہیں۔ پاک افغان سرحد بڑی طویل ہے ، اس کی ہمہ وقت نگرانی ایک مشکل کام ہے۔ تاہم جنرل راحیل شریف کے دور میں اس سمت میں ایک موثر آغاز کر دیا گیا ہے۔ان کے بعد آنے والے آرمی چیف کے لیے ضروری ہو گا کہ وہ طالبان کو از سر نو منظم ہو کر پاکستان میں در آنے سے روکنے کے لیے موثر بارڈر مینجمنٹ کو مکمل کریں۔ 

کراچی میں دہشت گردی' بھتہ خوری ' اغواء برائے تاوان ' سنگین جرائم ' کرپشن اس قدر عروج پر تھے کہ انتظامیہ بے بس تھی۔ سپریم کورٹ حالانکہ نشان دہی کر چکی تھی کہ سیاسی پارٹیوں کے پاس متشدد گروپ ہیں لیکن اہل سیاست اور حکومتیں بے بس تھیں۔ بھارتی خفیہ کار ایجنسی را کو مدد کے لیے پکارا جا رہا تھا۔ کراچی کو فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا تھا جس میں مضمر چیلنج واضح طور پر نظر آتا تھا۔ کراچی ہاتھ سے نکلتا نظر آتا تھا۔ جنرل راحیل شریف کے دور قیادت میں رینجرز نے برسرزمین وہ تاریخی کارنامہ انجام دیا ہے کہ آج ہر کوئی کہہ رہا ہے کہ کراچی کی روشنیاں بحال ہو رہی ہیں۔ آج کے کراچی اور تین سال پہلے کے کراچی کو دیکھا جائے تو فرق صاف نظرآ تا ہے۔ کراچی میں تشدد پسندوں کی سرکوبی انٹیلی جنس کے اداروں کے کمال کارکردگی کا مظہر ہے۔ آج تک کراچی میں جگہ جگہ چھپائے ہوئے بھاری اسلحہ کے ذخائر دریافت ہو رہے ہیں۔ ابھی پتہ نہیں اور کتنے اسلحہ کے ذخائر ہیں جن تک رسائی نہیں ہوئی۔ جنرل راحیل شریف کے بعد آنے والے چیف آف آرمی سٹاف کے لیے کراچی کے امن کو ممکن بنانے کی شروعات کے اس عمل کو آگے بڑھانے کا چیلنج ایک اہم چیلنج ہوگا۔ بلوچستان کی صورت حال ساری قوم کے لیے باعث تشویش تھی۔ جنرل راحیل شریف نے خود ایک عرصہ بلوچستان میں گزارا تھا۔ ان کی قیادت میں پاک فوج اور ایف سی نے بلوچستان کے علیحدگی پسندوں اور ان کے فریب میں آنے والے قبائلیوں کے گرد گھیرا اس مہارت سے تنگ کیا ان کے ساتھ رابطوں کے ذریعے انہیں اس خوبصورتی سے قائل کیا کہ وہ لاحاصل اور وطن دشمن کارروائیوں میں شریک ہو رہے ہیں کہ ان میں سے بہت سے لوگوں نے اپنے سرداروں سمیت حکام کے سامنے ہتھیار ڈال دیے اور پرامن زندگی گزارنے کی ترجیح کے اعلانات کیے۔ پاک چین اقتصادی راہداری کا معاہدہ طے ہوا تو بھارت کے ذمہ دار وزیروں تک نے بیان دیے کہ وہ اس منصوبے کو مکمل نہیں ہونے دیں گے۔ اس کے لیے بھارت نے علیحدگی پسندوں کی حوصلہ افزائی کی اور خاص طور پر بلوچستان میں خفیہ کاری کے جال پھیلائے۔ لیکن پاک فوج کے اداروں نے اس قدر مستعدی سے اپنے فرائض انجام دیے کہ کلبھوشن یادیو ایسے بھارت کے حاضر سروس انٹیلی جنس کے سینئر افسر کو گرفتار کیا۔ یہ شاید دنیا میں ایک مثال ہے۔ جنرل راحیل شریف نے سی پیک کی حفاظت کے لیے مکمل انتظامات کا اعلان کیا ۔ بھارت کی ریشہ دوانیوں کے باوجود دنیا نے دیکھا کہ چین سے ایک سو ٹرکوں کا قافلہ سکردو سے بحفاظت گوادر پہنچااور وہاں سے مال بحری جہازوں پر لادا گیا۔ جنرل راحیل شریف کا بطور آرمی چیف دور ایک تاریخ ساز دور کے طور پر جانا جاتا رہے گا۔ انہوں نے فوج کی تنظیم اور مہارت کو بہتر بنانے کے لیے شبانہ روز محنت کی۔ کشمیر میں لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر بھارتی جارحیت کا موثر جواب دیا گیا۔ آج پاکستان کے عوام ان سے محبت کرتے ہیں اور دنیا ان کی صلاحیتوں اور کردار کی عظمت کا اعتراف کر رہی ہے۔ جنرل راحیل شریف کے بعد آنے والے سپہ سالار کو وہ کام آگے بڑھانے کا چیلنج درپیش ہوگا جن کی مضبوط بنیاد جنرل راحیل شریف نے رکھ دی ہے۔ پاکستان کی فوج دنیا کی عظیم فوج ہے اور اس کی قیادت بہترین قیادت ہے۔ امید رکھی جانی چاہیے کہ پاکستان جلد ہی امن و سلامتی کی فضا میں اعتماد کے ساتھ ترقی اور خوشحالی کی طرف اہم منزلوں کی طرف بڑھتا رہے گا۔

اداریہ