Daily Mashriq


سی پیک کے علاقائی اثرات

سی پیک کے علاقائی اثرات

سی پیک کے علاقائی اثرات

 

13 نومبر 2016ء کو پاکستان کی سول اور عسکری قیادت گوادر پورٹ کی آپریشنلائزیشن کی تقریب اور چائنہ پاکستان اکنامک کاریڈور (سی پیک) کے مغربی روٹ کی ٹیسٹنگ کے موقع پر ایک ہی صفحے پر نظر آئی۔ اس موقع پر سڑکوں کی تعمیر، ریلوے ٹریک، گوادر میں پورٹ ائیر پورٹ کی تعمیراور توانائی سمیت دیگر بہت سے منصوبوں کا اعلان کیا گیا۔ اس کے علاوہ مستقبل قریب میں مزید ترقیاتی منصوبوں کا اعلان بھی متوقع ہے۔ چند حلقوں کے علاوہ زیادہ تر سیاسی جماعتوں اور صوبائی انتظامیہ نے سی پیک اور اس سے متعلقہ منصوبوں کا خیر مقدم کیا اور ان منصوبوں کو صوبے کے عوام کی فلاح و بہبود کے لئے خوش آئند قرار دیا۔لیکن جہاں تک قومی اور صوبائی سطح پر کاروباری افراد اور عام لوگوں کو اس پراجیکٹ کے متعلق آگاہی دینے اور اس سے منسلک کرنے کی بات کی جائے تو اس حوالے سے منصوبہ بندی کا فقدان نظر آتا ہے۔ اگرچہ سی پیک کے ذریعے ہونے والی تجارت اور اس کے فوائدکے بارے میں نہایت پر جوش انداز میں بات کی جارہی ہے لیکن سی پیک کے جغرافیائی اور علاقائی لحاظ سے مرتب ہونے والے اثرات پر کوئی بات نہیں کی جارہی۔ سی پیک کی وجہ سے شہروں، دیہاتوں اور قصبوں پر پڑنے والے اثرات ایک ایسا ایشو ہے جس کو سنجیدگی سے لیا جانا نہایت ضروری ہے۔ اس حوالے سے سب سے پہلا مسئلہ ان علاقوں میں زمین کی قیمت میں بے تحاشہ اضافہ ہے جہاں سے سی پیک روٹس کو گزرنا ہے۔ رئیل اسٹیٹ اور زمین کی خرید و فروخت کا کام کرنے والے افراد اور ادارے اس حوالے سے بہت فعال نظر آ رہے ہیں کیونکہ ان لوگوں کی نظر کسی بھی بڑی سڑک کے قریب واقع ایسے مقامات پر ہوتی ہے جو تجارتی حوالے اہم ہوں۔ اس حوالے سے کراچی اور حیدر آباد کے درمیان واقع سپر ہائی وے پر ہونے والی تعمیراتی ترقی سب کے سامنے ہے۔ سی پیک روٹ پر واقع علاقوں کے اہم مقامات پر زمین خریدنے کے لئے رئیل اسٹیٹ مگر مچھ میدان میں آچکے ہیں ۔ ان علاقوں میں زمین کی خریداری کے بعد یہاں کے مقامی مزدور طبقے کو ان علاقوں سے باہر نکال دیا جائے گا۔ اسی طرح مقامی کاروبار بھی بڑے تجارتی مگرمچھو ں کا لقمہ بن جائیں گے۔ گوادر کے مقامی مچھیرے اس وقت فش ہاربر کی نئی جگہ پر منتقلی سے پریشان دکھائی دیتے ہیں جبکہ دوسری طرف گلگت۔بلتستان کے کسان قابلِ کاشت زمین کو سی پیک روٹ کے لئے استعمال کئے جانے سے خائف ہیں۔ سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت سے ایسے بہت سے مسائل کا بہتر حل تلاش کیا جانانہایت ضروری ہے۔ سی پیک کی وجہ سے سندھ، پنجاب، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے اندر ورکنگ کلاس کی نقل مکانی پر بھی کچھ سیاسی حلقوں کی جانب سے خدشات کا اظہار کیا گیا ہے۔ تربت، پنجگور، گوادر اور قلات کی آبادی کو دیکھا جائے تو یہ علاقے ملک کی دیگر علاقوں کے مقابلے میں بہت کم گنجان آباد ہیں اور ان علاقوں کے مکین سی پیک کی تعمیر اور اس کے بعد بڑے پیمانے پر ہونے والی تجارتی سرگرمیوں کے لئے مطلوب تعلیم، تجربے اور تربیت سے بھی محروم ہیں۔ اس لئے ان علاقے کے مکینوں کے دل میں پسماندگی کا شکار ہونے کا خوف بے جا نہیں ہے لیکن سیاسی مصلحت اور دانشمندانہ پالیسیوں کے ذریعے ان مسائل پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ باغی بلوچ نوجوانوں کوعام معافی، سکلز ڈیویلپمنٹ اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے میں سبسڈی اور سرمایہ کاروں اور مقامی افراد کے درمیان تجارتی معاہدے وہ چند اقدامات ہیں جن سے مذکورہ مسائل پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ اسٹیبلشمنٹ کی معاونت سے سیاسی حکمتِ عملی وضع کرکے یہ اقدامات اُٹھائے جاسکتے ہیں۔ اگر سی پیک کے ذریعے ایک مستحکم بلوچ مڈل کلاس وجود میں لائی جاسکے تو یہ اس پسماندہ صوبے کی بہت بڑی خدمت ہوگی۔ سی پیک کے تحت ہونے والی تجارت کے پہلے قافلے کو اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے مکمل سیکورٹی فراہم کی گئی تھی لیکن مستقبل میں تجارتی ادارے اور ٹرانسپورٹرز اپنی سہولت کو دیکھتے ہوئے اپنی راہ خود متعین کریں گے ۔ کراچی۔ پشاور موٹر وے کی تکمیل اور کراچی۔لاہور ریلوے ٹریک کی مرمت کے بعد کراچی کو سی پیک کی تجارتی سرگرمیوں کے حوالے سے بہت زیادہ اہمیت حاصل ہو جائے گی ۔ اس کے علاوہ جنوبی اور وسطی سندھ کے ان علاقوں کی اہمیت میں بھی اضافہ ہوگا جو سی پیک روٹ کے قریب واقع ہیں۔ سی پیک اور اس کے ذیلی روٹس پر تجارتی سرگرمیوں کے لئے سہولیات فراہم کرنے کے لئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان کوآرڈینیشن کی ضرورت پہلے سے بہت بڑھ جائے گی۔ پلاننگ کمیشن کو سی پیک کی وجہ سے ملک کے شہری علاقوں اور دیہاتوں میںپیدا ہونے والے مسائل سے نمٹنے کے لئے ایک قومی جفرافیائی پلا ننگ ایکسرسائز کا آغاز کرنا ہوگا۔اس کے ساتھ ساتھ سی پیک سے متعلقہ تعمیر و ترقی کے منصوبوں کے لئے اداروں کے درمیان کوآرڈینیشن کو بہتر بنانے کے لئے بھی جامع منصوبہ بندی کی سخت ضرورت ہے۔سی پیک منصوبے کے جغرافیائی اثرات کا جائزہ لینے اور مسائل سے نمٹنے کے لئے سی پیک لینڈ اور ٹرانسپورٹ اتھارٹی کا قیام ضروری ہے جو مذکورہ مسائل سے نمٹنے کے لئے جامع منصوبہ بندی وضع کرنے کے ساتھ ساتھ اس پر عمل درآمد کو بھی یقینی بنائے۔ 

(بشکریہ: ڈان،ترجمہ: اکرام الاحد)

متعلقہ خبریں