Daily Mashriq


سہ دانے لمدے۔۔۔۔

سہ دانے لمدے۔۔۔۔

وفاقی وزیر داخلہ پچھلے دنوں برطانیہ تشریف لے گئے ہیں۔ وہاں انہوں نے اپنی وزارت سے متعلق کچھ امور بھی نمٹائے اور اپنا میڈیکل چیک اپ بھی کرایا جس کے دوران ان کے ہرنیا میں کوئی بیماری بھی تشخیص ہوئی اور پھر انہیں فوری طور پر آپریشن کے عمل سے گزرنا پڑا۔ اب خبر آئی ہے کہ اس آپریشن میں کچھ پیچیدگیاں پیدا ہوگئی ہیں جس پر ا نہیں ایک بار پھر ہسپتال میں داخل ہونے کا مشورہ دیاگیا ہے۔ ضرورت پڑنے پر ان کا دوبارہ آپریشن بھی ہوسکتا ہے۔ ہم وزیر صاحب کی جلد صحت یابی کے لئے دست بہ دعا ہیں ۔ اخبارات میں جب چودھری کی بیماری اور ان کے آپریشن کی خبر لگی تو ہمارے د وست اور معروف معالج ڈاکٹر صفی اللہ نے اس کے بارے میں اپنے نقطہ نظر سے تبصرہ کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک ایسا ترقی یافتہ ملک جہاں طبی سائنس اپنے عروج پر ہے طب کے شعبے میں جہاں آئے دن نت نئی تحقیقات کا سلسلہ جاری رہتا ہے وہاں پر بھی جدید سہولتوں سے آراستہ ہسپتال میں ایک نہایت ہی سادہ سرجری کے دوران کوئی پیچیدگی پیدا ہوسکتی ہے۔ ان کے خیال میں یہ ایک عمومی قسم کا آپریشن ہوتا ہے جو ہسپتالوں میں ہائوس آفیسر یا زیر تربیت ڈاکٹر بھی کرسکتے ہیں۔ لیکن عمومی جراحت کے عمل میں بھی کسی وقت کوئی بھی پیچیدگی پیدا ہونے کے امکان کو رد نہیں کیاجاسکتا۔ جس کی مثال چودھری نثار کے آپریشن میں ہمارے سامنے آئی۔ ہمارے ملک کے کسی ہسپتال میں اس نوع کا کوئی واقعہ ہو جائے تو مریض کے لواحقین مارنے مرنے پر تیار ہو جاتے ہیں۔ معالج کو ہی مورد الزام ٹھہرایا جاتا ہے۔ موقع پر ہی اسے گربیان سے پکڑ لیا جاتا ہے اور اسے تشدد کا نشانہ بھی بنا دیاجاتا ہے جیسے کہ کچھ روز پہلے ایسا ہی ایک واقعہ مردان کے بڑے ہسپتال میں پیش آیا۔ کسی شخص نے خودکشی کی کوشش میں خود پر گولی چلائی تھی' فوری طور پر اسے ہسپتال میں آپریشن تھیٹر پہنچایا گیا لیکن وہ آپریشن کے دوران ہی جاں بحق ہوگیا۔ اس پر اس کے لواحقین نے طیش میں آکر ہنگامہ برپا کردیا۔ توڑ پھوڑ کی اور متعلقہ سرجن کو زد و کوب کیا۔ چونکہ طبی عملے کی بروقت داد رسی نہ ہوئی تو انہوں نے احتجاج کے طور پر او پی ڈی بند کردی۔ ان کا مطالبہ تھا کہ انہیں دوران کار باقاعدہ تحفظ فراہم کیا جائے۔ ہمیں معلوم نہ ہوسکا کہ مقامی انتظامیہ نے اس مسئلے کا کیا حل نکالا۔ ہڑتال اب بھی جاری ہے یا ختم ہوچکی ہے۔ ہمیں اپنے دوست ڈاکٹر کی رائے سے اس حد تک تو ضرور اتفاق ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں طبی عملے کو اپنے فرائض کی ادائیگی میں مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔ انہیں روزانہ او پی ڈی میں مریضوں کے بے قابو ہجوم سے واسطہ پڑتا ہے۔ آپریشن تھیٹروں میں بنیادی سہولتوں کا فقدان ہے۔ کم و بیش ہر وارڈ میں گنجائش سے زیادہ مریضوں کی آمد کی وجہ سے بیڈز کم پڑ جاتے ہیں یہاں تک کہ مریضوں کو بازار سے کرائے پر چار پائیاں لانا پڑتی ہیں۔ ہم نے ایک بیڈ پر دو مریضوں کو پڑا دیکھا ہے بلکہ بعض اوقات تو برآمدوں میں بھی مریض زمین پر پڑے کراہتے نظر آتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر کسی مریض کو ہسپتال میں معالج سے کوئی شکایت پیدا ہوتی ہے تو اس میں ان کا زیادہ قصور نہیں ہوتا۔ اس کی بڑی وجہ سرکار کی طب کے شعبے کو عدم توجہی ہے' پھر بھی ہم یہ ضرور کہیں گے کہ لندن کے ہسپتال میں پاکستان کے ایک وفاقی وزیر کے ہرنیا کے آپریشن میں پیچیدگی ہونے کو ہمارے ہسپتالوں میں روزانہ اس نوع کے واقعات کو جواز کے طور پر پیش نہیں کیاجاسکتا۔ برطانیہ میں کوئی ڈاکٹر کسی فارما سیوٹیکل کمپنی کے ایجنٹ کے طور پر کام نہیں کرتا۔ ادویات اور وہ بھی دو نمبر کی' پروموشن کے لئے کسی ڈاکٹر کی خدمات حاصل کرنے کا واقعہ رپورٹ نہیں ہوا۔ہم نے آج تک نہیں سنا کہ برطانیہ میں کسی ڈاکٹر نے اپنے سرکاری فرائض کے دوران مریض پر صرف اس لئے توجہ نہیں دی کہ وہ زیادہ توجہ کے لئے اس کے ذاتی کلینک میں آنے پر مجبور ہو جائے۔ ہم نے آج تک برطانیہ کے کسی ہسپتال میں ینگ ڈاکٹرز کا وہاں کے مال روڈ پر دھرنا دیتے نہیں سنا۔ اپنے جائز مطالبات کے لئے کسی بھی سرکاری ملازم کو پر امن احتجاج کے حق سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن ہم اس حق کے استعمال کے لئے ڈاکٹروں کو اس حد تک اجازت نہیں دے سکتے کہ ان کی ہڑتال کی وجہ سے مریض علاج نہ ملنے کی وجہ سے ہسپتال کے برآمدوں میں مرنے لگیں اور حاملہ خواتین وہاں کہیں سیڑھیوں پر ہی زچگی کے عمل سے گزر جائیں۔ دکھی انسانیت کے خدمت گزاروں کو اپنے ہڑتال کے حق کو استعمال کرنے کے لئے زیادہ محتاط ہونا چاہئے کیونکہ ان کا واسطہ بے جان کاغذ' لکڑی یا پتھر سے نہیں جیتے جاگتے انسانوں سے ہوتا ہے۔ ہمیں یہ کہنے کی بھی اجازت دیجئے کہ سرکار اگر ملک کے طبی شعبے کو اپنی ترجیحات میں شامل کرلے تو ملک کے ہسپتالوں میں طبی سہولتوں کے نہ ہونے کی وجہ سے ہمارے کسی وفاقی وزیر کو اپنے ہرنیا کے آپریشن کے لئے برطانیہ جانے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی اور نہ مریضوں کو سرکاری ہسپتالوں میں معالجین سے کبھی کوئی شکایت پیدا ہوگی۔ ہم تو صرف یہی کہہ سکتے ہیں ''سہ دانے لمدے' سہ جرندہ ورانہ'' غلہ بھی گیلا ہے اور پن چکی بھی کارآمد نہیں رہی' تو اب کیا کیا جائے۔

متعلقہ خبریں