Daily Mashriq


کنٹرول لائن پر آگ وخون کا کھیل

کنٹرول لائن پر آگ وخون کا کھیل

پاکستان اور بھارت کنٹرول لائن پر ایک خوفناک تصادم کی جانب رینگ نہیں رہے بلکہ سرپٹ دوڑ رہے ہیں۔ فلک بوس پہاڑوں،جنگلوں اور انسانی آبادیوں پر راکٹ ،گولے اور فائر سے برسوں پرانی جنگ بندی کی دھجیاں اُڑ رہی ہیں۔عالمی چھتر چھائے میں ٹریک ٹو ڈپلومیسی کے نام پر جنوبی ایشیا کو امن کا گہوارہ بنانے کے خواب کی تعبیر کھو چکی ہے اور امن حقیقت سے زیادہ سراب بن کر رہ گیا ہے ۔کنٹرول لائن کے گرد رہنے والوں کی بستیاں بھوت نگر بنتی جا رہی ہیں اور خوشی کے شادیانوں کی جگہ ماتمی بین لے چکے ہیں۔جہاں چند ماہ پہلے سیاحوں کے ٹھٹھ کے ٹھٹھ لگتے تھے آج کسی چڑیا کا گزر بھی بھولے سے نہیں ہوتا۔ کچھ تواسلام آباد کے منصوبہ سازوں نے سیکورٹی صورت حال کے پیش نظر آزادکشمیر کو طویل ماہ وسال تک ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کی پہنچ سے دور رکھا اور کچھ انفراسٹرکچرکی عدم موجودگی اورسہولیات کے فقدان نے غیر ملکی سیاحوں کو اس جانب راغب ہونے نہیں دیا۔ ملک میں دہشت گردی کی لہر آنے کے بعد سوات اور گلگت بلتستان جیسے علاقے سیاحوں کی آمدورفت کے لئے بند ہوئے تولوگوںکے شوق ِ سیاحت نے بندشوں ،پابندیوں اور سہولتوں کی عدم دستیابی کی پرواہ کئے بغیر اپنے لئے نئے جہان تلاش کرنا شروع کئے۔آزادکشمیر کے نیلم اور تولی پیر جیسے مقامات اسی ضرورت کی ایجاد اور دریافت ٹھہرے تھے۔ اس دوران پرائیویٹ چینلز کی آمد سے اطلاعات کا ایک سیلاب آگیا۔الیکٹرانک میڈیانے جاد و نگری سمجھے جانے والے آزادکشمیر کے دوردراز علاقوں کا سیاحتی پوٹینشل دنیا کی نگاہوں تک پہنچایااور یوں لاکھوں سیاحوں نے ان علاقوں کا رخ کیا۔ویرانے آباد ہونے لگے ،کاروباری سرگرمیاں عروج پر پہنچ گئیں ملک بھر سے سرمایہ کار ان علاقوں کا رخ کرنے لگے ۔یہی وہ علاقے ہیں جو معدنیات کی قدرتی دولت سے مالامال ہے اور یہاں کا لعل ویمن سمگل ہو کر دوبئی اورلندن کی عالمی منڈیوں میںبھاری قیمت کے ساتھ فروخت ہوتا ہے ۔ بھارتی فوج کی فائرنگ اور گولہ باری سے اب یہ ساری پیش رفت رول بیک ہو چکی ہے ۔ مواقع اور امکانات کے تمام دروازے بند ہوتے جا رہے ہیں۔کنٹرول لائن پر پیدا ہونے والی صورت حال مسلم لیگ ن آزادکشمیر کی نو زائیدہ اور اس کی ممدوح وفاقی حکومت کے لئے ٹیسٹ کیس بنتی جارہی ہے ۔ سماہنی سے کیل تک کشمیر کی کنٹرول لائن گرم ہوگئی اس کے بعد سے مسلسل بھارتی فوج نے چند ماہ سے کنٹرول لائن پر بلااشتعال فائرنگ کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے ۔ پاک فوج کا ادارہ آئی ایس پی آر متعدد بار کہہ چکا ہے کہ بھارتی فوج پہلی بار آبادیوں پر مارٹر گولے داغ رہی ہے اورپاک فوج اس کا مئوثر جواب دے رہی ہے ۔ اب مسافر گاڑیوں پر بھی فائرنگ کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے ۔بھارت جس طرح سری نگر کی گلیوں میں عام کشمیری کے ہاتھوں زچ ہورہا ہے اسے دیکھ کر لگتا ہے کہ خفت مٹانے کے لئے بھارت کوئی بھی خطرناک کھیل کھیل سکتا ہے ۔ سرجیکل سٹرائیکس کا ڈرامہ ناکام ہونے کے بعد بھی بھارت اپنی خفت مٹانے کی کوشش کر رہا ہے ۔برہان وانی کی شہادت کے بعد بھارتی قیادت کا خیال تھا کہ ہفتے بھر میں احتجاج کا سلسلہ ختم ہو جائے گا اور حالات معمول پر آئیں گے مگر یہ خیال خام ثابت ہوا اور کشمیر میں چار ماہ سے کرفیو جاری ہے اور عوام پوری قوت سے بھارتی ظلم وانصافی کا مقابلہ کررہے ہیںمقبوضہ کشمیر کے عوام جہاں جرات اور پامردی کے ساتھ بھارتی فوج کا مقابلہ کررہے ہیں وہیں آزادکشمیر کے عوام بھی کنٹرول لائن پر بھارتی گولہ باری اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے حالات کا مقابلہ کررہے ہیں۔بھارتی گولہ باری کو روکنا گوکہ ایک سٹریٹجک معاملہ ہے جس سے آزادکشمیر حکومت کا کوئی لینا دینا نہیں مگر بھارتی فائرنگ اور گولہ باری سے متاثر ہونے والے عوام کی مشکلات کو کم کرنا انہیں گھروں کی دہلیز ہر سہولیات فراہم کرنا تاکہ بڑے پیمانے پر نقل مکانی کے خدشات کو کم کیا جاسکے ،زخمیوں اور شہدا کے لواحقین کی داد رسی کرنا وفاقی اور آزادکشمیرحکومت کی اولین ترجیح ہونا چاہئے ۔موسم سرماشروع ہوچکاہے ۔لیپا اور نیلم جیسے علاقوں میں برف باری سے زندگی یوں بھی دشوار ہو جاتی ہے اس پر بھارتی گولہ باری ایک اور ہی آفت بن کر ٹوٹ پڑتی ہے ۔لوگ گھروں میں یا تو محصور ہو کر رہ جاتے ہیں یا پھر نقل مکانی کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں ۔ان علاقوں میں اجتماعی نقل مکانی کا رجحان پیدا ہوگیا تو حکومت کے ہاتھ پائوں پھول جائیں گے ۔ایک تو ان علاقوں کے عوام پہلا دفاعی حصار ہیں ۔ان لوگوں کی گھروں میں موجودگی پاک فوج کے لئے ایک اخلاقی سہارا بھی ہے اگر یہی لوگ اپنے گھروں سے نکل آئے تو انہیں شہروں میںسنبھالنا مشکل ہوجائے گا اور اس سے کئی مسائل جنم لیں گے اس لئے حکومت کو اس وقت اپنی ترجیح اول کنٹرول لائن کے متاثرہ علاقوں اورعوام کو بنانا چاہئے۔پہلی فرصت میں وفاقی وزارت امور کشمیر اور حکومت آزادکشمیر کو تمام فنڈز کو فوری طور پر کنٹرول لائن کے متاثرہ عوام کے لئے مختص کرنا چاہئے ۔کنٹرول لائن کے عوام کو راشن کارڈ جاری کرنا چاہئے اور انہیں غلے پر سبسڈی دینا چاہئے ۔حفاظتی دیواروں اور محلوں میں بنکروں کی تعمیر اور بائی پاسزکی مرمت کا کام ہنگامی بنیادوں پر شروع کرنا چاہئے ۔کنٹرول لائن کے عوام کو ہر سہولت گھر کی دہلیز پر میسر ہونی چاہئے تاکہ ان کے دلوں میں محفوظ مقامات اور شہروں کی طرف نقل مکانی کا خیال ہی پیدا نہ ہوسکے۔

متعلقہ خبریں