Daily Mashriq


سر تسلیم خم ہے جو مزاج یار میں آئے

سر تسلیم خم ہے جو مزاج یار میں آئے

دوڑ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو ۔ کیا وقت تھا جب ملک میں صرف پی ٹی وی کی اجارہ داری تھی ۔ اگر چہ ٹی وی کی خبروں اور اکا دکا ٹاک شو ز میں حکومت کا پروپیگنڈہ زیادہ جبکہ حالات حاضرہ کے پروگراموں میں اگر غلطی سے حزب اختلاف کا تذکرہ آ بھی جاتا تو اس پر منفی تبصرے ہی کئے جاتے ۔ تاہم پھر بھی سکون کی ایک عمومی سیاسی فضا موجود ہوتی ، عام لوگ پی ٹی وی کے دیگر پروگراموں میں دلچسپی لیتے ، موسیقی ،ڈرامے عروج پر تھے ۔ مزاحیہ پروگراموں کا جواب نہیں تھا ۔ پھر یوں ہوا کہ چینلز کا ایک جمعہ بازار سجتا چلا گیا ، مختلف چینلز نے ابتداء خبروں سے کی۔ ساتھ میں ٹاک شوز اور درمیان ہی میں کچھ وقت ڈراموں کیلئے وقف کیا ، ان رنگ برنگی کھڑکیوں کے ذریعے سرکاری ٹی وی کے مقابلے میں نسبتاً زیا دہ غیر جانبدار انہ خبریں ، تبصرے اور حالات حاضرہ پر مختلف پروگراموں نے عوام کی توجہ اپنی جانب مبذول کرنے میں کامیابی حاصل کی ۔ مگر پھر کیبل کے آنے سے ان چینلز کی نشریات بھی صرف ان لوگوں تک محدود ہوگئیں جنہوں نے مختلف کیبل کمپنیوں سے کرائے پر کیبل حاصل کئے ، بد قسمتی سے ان کمپنیوں کی نسبتاً ناقص مشینری ،آلات اور کار کنوں کی تربیت میں کمی یا نقائص کی وجہ سے اکثر نشریات تعطل کا شکار رہیں ۔ ابتداء ڈیجیٹل کی جانب سفر سے اگرچہ اب نشریات کا معیار تو بہتری کی جانب گامزن ہے مگر اکثر کمپنیوں کا عملہ شکایات کو یا تو سر ے سے درخو راعتناء نہیں سمجھتا ۔ یا بار بار یا ددہانی سے گاہکوں کے ساتھ الجھ پڑتا ہے اور خاص طور پر شام 5بجے کے بعد اگر نیٹ ورک میں کوئی خرابی درآہ آتی ہے تو شکایت سننے اور خرابی دور کرنے کیلئے کوئی بھی موجود نہیں ہوتا ، بعض نیٹ ورکس کے کارندے گھریلو صارفین کے ساتھ سخت زبان بھی استعمال کرتے ہیں جس کی طرف ان چینلز نیٹ ورکس کے مالکان کو توجہ دینی چاہئے ۔ بہرحال پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں اور انہی میں اچھے لوگوں کی بھی کمی نہیں ہے ۔بات کسی اور سمت نکل گئی ، حالانکہ تذکرہ ٹی وی چینلز کے اس جمعہ بازار کا ہو رہا تھا جس کی وجہ سے اگر ایک جانب سرکاری ٹی وی کی اجارہ داری ختم ہوگئی ہے تو دوسری جانب غیر جانبدارانہ خبروں ٹاک شوز اور تبصروں کی گرم بازاری ہے اور ان چینلز کے مابین ریٹنگ کی دوڑ نے بہر حال ایک دوسری قسم کا مقابلہ منعقد کرادیا ہے ۔ خاص طور پر مسابقت میں دوسروں کو پیچھے چھوڑ جانے کے شوق میں ان چینلز کے کرتا دھرتا بسا اوقات شوق گل بوسی میں کانٹوں پہ زبان رکھنے کی غلطی کے بھی مرتکب ہو جاتے ہیں۔ یہ سارے تماشے روز ہمارے سامنے مختلف ٹی وی چینلز پر ہوتے رہتے ہیں ، اور جو گل افشانی گفتار ہم سنتے رہتے ہیں ان کی وجہ سے سکون کی وہ فضا جو لا تعداد ٹی وی چینلز کے منڈپوپرسئیج ہونے والے خود ساختہ ڈرامہ بازی نے تہس نہس کر رکھی ہے ، وہ عنقاہو چکی ہے ، سیاست کی گرم بازاری میں جس قسم کی آتشیں جملے بازی روز سن سن کر کان عاجز آچکے ہیں ۔ اس کو دیکھ کر کانوں کو ہاتھ لگا کر سکون کی دعائوں کے طلبگاروں کے گھروں میں گزشتہ دو روزسے (تادم تحریر ) امن و آتشی کا جو سماں ہے اس نے ذہنی آسودگی میں یقینا اضافہ ہی کر دیا ہے ، اور وہ اس لئے کہ پیمرا کے ایک فیصلے کیخلاف جو ڈی ٹی ایچ کے لائسنس کی نیلامی کے حوالے سے سامنے آیا ہے ، اُس کے خلاف ملک بھر کے کیبل آپریٹر ز نے اچانک پیر کے روز سے اپنے نیٹ ورک بند کر کے نشریات معطل کردیں ۔ یہ تو ایسی ہی صورتحال ہوئی جیسے کہ اچانک کسی شہر میں ہنگامی صورتحال سے اچانک ٹریفک جام ہو جائے ، تاہم کیبل نیٹ ورکس ایسو سی ایشن والوں نے جس طرح نشریات کو جام کردیا ہے اس پر تو ہمیں پشاور کے ٹریفک جام کا گمان ہونے لگا ہے ۔ اور وہ یوں کہ پشاور میں جب بھی کوئی احتجاجی جلوس بر آمد ہوتا ہے تو احتجاج کرنے والوں کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ سورے پل کے پاس آکر سڑکو ں کو بلاک کر دیا جائے ، اس سے ہوتا یہ ہے کہ نصف گھنٹے کے اندر ہی اندر پورا پشاور جام ہو جاتا ہے کیونکہ سورے پل کے مقام پر پورے شہر کی ٹریفک کا نقطئہ اتصال واقع ہے اور صرف وہاں پر مظاہرین پہنچ جائیں تو پورا پشاور سٹینڈ سٹل ہو جاتا ہے ۔ یعنی سورے پل 1962ء کے ایوبی آئین کی طرح ہے جس کو اس زمانے میںلائل پور (موجودہ فیصل آباد)کے گھنٹہ گھر سے تشبیہہ دی گئی تھی ، اور اس دور کے سیاستدان اسمبلی میں آئین پر بحث کے دوران یہی کہتے تھے کہ جس طرح لائل پور کا گھنٹہ گھر شہر کے ایسی مرکزی جگہ پر بنایا گیا ہے جس سے پورے شہر کے مختلف علاقوں تک سڑکیں جاتی ہیں اور شہر میں کہیں بھی گھوم جائو بالآخر گھنٹہ گھرپر ہی آکر ملنا پڑتا ہے ، 1962ء کے آئین کے ہر شق میں صدر ایوب خان ہی کی شخصیت سامنے آجاتی تھی یہی حال پشاور کے سورے پل کا ہے ۔ شہر کی ٹریفک کا کسی نہ کسی طور ادھر ہی سے گزرنا ہوتا ہے اور اس نقطئہ اتصال کو بند کردو تو سارا شہر معلق و معطل ہو جاتا ہے ۔ اب جو پیمرا کے فیصلے کے خلاف کیبل آپریٹر ز نے ہڑتال کر دی تھی تو پورا ملک گویا پوری دنیا سے کٹ کر رہ گیا تھاتاہم شکر ہے کہ ان سطور کے لکھنے تک جس طرح اچانک نشریات بند کر دی گئی تھیں واپس جاری کر دی گئیں جبکہ نہ خبریں تھیں نہ تبصرے اور ٹاک شوز ، مگر سکون بہرحال پرانے دور کا لوٹ آیا تھا اور اگر اس کا کوئی حل بر آمد نہ ہوتا تو دوڑپیچھے کی طرف اے گردش ایام کی تفسیر بن کر لوگ ایک بار پھر ریڈ یوکو کان سے لگا ئے نظر آئے ۔

اگر بخشے رہے قسمت ، نہ بخشے تو شکایت کیا

سر تسلیم خم ہے جو مزاج یار میں آئے

متعلقہ خبریں