ہر معاملے پر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کی روایت بد

ہر معاملے پر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کی روایت بد

سپریم کورٹ کی جانب سے اس امر کا بار بار اظہار کیا جا چکاہے کہ سیاسی و آئینی مقدمات کی بھرمار کے باعث عوامی مقدمات کے لئے عدالت کے پاس وقت کم ہی بچتا ہے۔ فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کے لئے پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین کا عدالت سے رجوع ان کا آئینی و قانونی حق ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ خود عمران خان کو مہینے میں کئی مرتبہ اپنے مقدمات کے لئے عدالت حاضری دینی پڑتی ہے یا پھر ان کے وکیل الیکشن کمیشن اور اعلیٰ عدالتوں میں پیش ہوتے ہیں۔ میڈیا کو بھی عمران خان کے مقدمات کی کوریج سے خبری مواد میسر آتا ہے۔ عدالت عظمیٰ میں سیاسی مقدمات یا سیاسی وجوہات کی بناء پر قائم مقدمات کی سماعتوں کے لئے بنچوں کی تشکیل اور جو وقت دینا پڑتا ہے اس کے بعد نہ تو کسی بنچ کی تشکیل کے لئے منصفین دستیاب ہوتے ہیں اور نہ ہی معزز جسٹس صاحبان کے پاس اتنا وقت اور اتنی توانائی بچتی ہے کہ وہ کسی اور کیس کو سنیں۔ جملہ سیاسی مقدمات اور سیاسی معاملات یہاں تک کہ اب انتظامی معاملات کو بھی عدالتی راہداریوں ہی میں لانے کا رواج بن چکا ہے۔ لبیک والوں کے دھرنے کے خاتمے کے لئے بھی عدالت سے رجوع ہوا۔ عدالت کے احکامات کی جب انتظامیہ پیروی نہ کراسکی تو عدالت عظمیٰ کو تحریک لبیک پاکستان کے د ھرنے کا از خود نوٹس لینا پڑا۔ یوں عدالت عظمیٰ سے لے کراعلیٰ حکام کا بہت سارا وقت اس مسئلے کا جائزہ لینے میں گزر گیا مگر عدالت سے اس کا حل نہ آسکا۔ جو حل عدالت نے تجویز کیا اس پر عملدرآمد کے لئے انتظامیہ نے ہمت نہ کی۔ کیا اس سارے عمل میں ملک میں قانون کی حکمرانی اور عدلیہ کی بالادستی دونوں کو دائو پر دیکھنا غلط ہوگا۔ کیا اس میں توہین عدالت اور تضحیک ریاست کا پہلو نہیں نکلتا۔ کیا یہ عدالتوں کاوقت ضائع کرنے کی دانستہ و نادانستہ کوشش نہیں‘ آخر کب تک عدالتوں کو اس طرح کے جھمیلوں میں الجھایا جائے گا۔ ان کو اس امر کا موقع کب دیا جائے گا کہ وہ التوا در التواء کاشکار عوامی مقدمات کی سماعت کرکے سپریم کورٹ کے کندھوں کابوجھ کم کرسکیں گے اور عوام کوعدالتوں سے ریلیف ملنے کی توقع ہوسکے گی۔ ہر معاملے پر براہ است سپریم کورٹ سے رجوع کے باعث عدالت عالیہ اور اسلام آباد ہائیکورٹ کی توقیر بھی متاثر ہونے لگی ہے۔ آخر ہر معاملے کا عدالتی حل ہی کیوں مطلوب ہے۔ کیا سیاسی معاملات کا حل سیاسی طور طریقوں سے ممکن نہیں یاپھر عدالت عظمیٰ سے کم کسی عدالت سے خدانخواستہ حصول انصاف کی توقع نہیں یا پھر ممکن نہیں سمجھا جاتا۔ عمران خان نے خاص طور پر عدالت عظمیٰ سے رجوع کو عدالت ثانیہ بنا لیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ان کے سیاسی مشیروں پر ان کے قانون دان حواری غالب آگئے ہیں۔ یہ ناداں دوستوں کے زمرے میں آتے ہیں یا پھر وہ زیادہ سے زیادہ وقت کپتان کے ساتھ بتانے کے لئے جان بوجھ کر ان کو عدالتی معاملات کی طرف راغب کرتے ہیں۔ سیاسی و قانونی معاملات میں عدم احتیاط اور ان کو گڈ مڈ کرنے کے باعث عوام میں خود تحریک انصاف کے قائد کی شخصیت کا تاثر مجروح ہو رہا ہے جس کی طرف ان کو توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ عمران خان کو اس معاملے کو بخوبی طور پر سمجھنے کی ضرورت ہے کہ سیاسی معاملات کا سیاسی فورمز پر حل نکالنے والا ہی اچھا سیاستدان کہلاتا ہے۔ سیاسی دنیا کے لوگ صرف سیاسی معاملات ہی نہیں دیگر عوامی معاملات مقدمات اور دشمنیوں جیسے سنگین معاملات کا حل بھی جرگہ اور مفاہمت سے نکالنے کا تجربہ اور شہرت رکھتے ہیں۔ تھانہ کچہری کے معاملات میں مہارت کے گرد مقامی سیاست گھومتی ہے اور سیاسی عناصر اس کا بھرپور فائدہ اٹھانے کے عادی ہیں۔ بہر حال اس سطح پر کیا مناسب اور موزوں سیاست ہے اور کیا نہیں یہ تحریک انصاف کا اپنا فیصلہ اور اس کی اپنی سوچ کی بات ہے لیکن سیاسی طور پر اس کے اثرات کا اگرجائزہ لیا جائے تو مقامی سطح پر اس کی افادیت اور فریقین معاملہ کے لئے عدالت اور تھانے کچہری سے باہر مفاہمت سے فیصلہ سستا موزوں اور وقت کے ضیاع کے بغیر ہی ہونا مشاہدے کی بات ہے جسے سیاست کے ساتھ خدمت کے زمرے میں دیکھنا غلط نہ ہوگا۔ اس طرح کے معاملات سے کارکنوں کی تربیت اور صورتحال سے آگاہی کا بھی موقع ملتا ہے۔ بہر حال ان تمام معاملات سے قطع نظر اگر دیکھا جائے تو تحریک انصاف کے قائد نے ایک ایسے وقت میں عدالت عظمیٰ سے ایسے معاملے کے حوالے سے رجوع کیا ہے جس کے فیصلے کے لئے شاید عدالت مناسب فورم ہی نہیں اگر عدالت مناسب فورم ہے بھی تو جہاں حلقہ بندیوں کا بنیادی معاملہ حل طلب ہے اور اس پر ڈیڈ لاک کی صورت میں عدالت سے رجوع کو ایک امکان کے طور پر لیا جا رہا ہے تاکہ بروقت انتخابات کے انعقاد کی راہ ہموار ہوسکے اس مختصر مدت میں کیا اس آئینی درخواست پر کارروائی اور عدالت کا حکم اور پھر اس پر حکومت کے لئے عملدرآمد کا مناسب وقت ہے۔ ہمارے تئیں اس کا بالکل امکان نہیں۔ اس سے نہ تو تحریک انصاف کے چیئر مین لا علم ہوں گے اور نہ ہی ان کی قانونی ٹیم لاعلم ہوگی اور اس مقدمے کی سیاسی افادیت و اثرات بھی مشکوک ہیں اس اور دیگر کئی وجوہات کی بناء پر یہ کار لاحاصل ہی ٹھہرے گا۔ تحریک انصاف کی قیادت اگر سارے معاملات کو ایک طرف رکھ کر 2018ء کے انتخابات کی تیاریوں میں دن رات صرف کرکے حکومت سازی کی دوڑ میں قابل توجہ نشستیں حاصل کرنے کی سعی میں لگ جائے تو یہی سیاست کے تقاضوں کو سمجھنا اور وقت پر کام آنے والی حکمت عملی قرار پائے گی۔ اگر ادھر ادھر کے معاملات میں مزید وقت صرف ہوتا رہا تو عین وقت پر یاراں تیز گام منزل کو پا لیں گے اور صرف کاروان کی جرس ہی حصے میں آسکے گی۔ کیا یہ قابل قبول اور نافع ہوگا اور سیاست میں کامیابی ٹھہرے گی اور کسی سیاسی جماعت کی منزل یہی ہونی چاہئے۔ اس پر غور و خوض کرنے اور اپنی سمت درست کرکے عوام کی حمایت میں مزید اضافے اور مزید کامیابی کے امکانات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔ فاٹا کے انضمام کا فیصلہ ہوچکا اس میں تاخیر ہوتی ہے یا تقدیم اگر تمام سیاسی جماعتیں اس پر سیاست کرنے کی بجائے اس معاملے کا حقیقت پسندانہ حل نکالنے کا فیصلہ کریں تو یہی قبائلی عوام کے حق میں بہتر اور موزوں فیصلہ ہوگا۔

اداریہ