Daily Mashriq


عوام کی جیب پر ڈاکہ

عوام کی جیب پر ڈاکہ

قومی اسمبلی کی پبلک اکائونٹس کمیٹی کے چیئرمین کا اس امر کا اعتراف کہ سولہ فیصد لائن لاسز کے دوسو ارب روپے صارفین سے وصول کئے جاتے ہیں اعتراف جرم کے زمرے میں آتا ہے جس کے بعد ان کے خلاف صارفین کو عدالت سے رجوع کرنے کی ضرورت ہے۔ سرکار کے زیر انتظام کارپوریشنوں‘ خود مختار کمپنیوں اور محکموں میں عجیب ریت یہ ہے کہ ان کا خسارہ یا تو سرکاری خزانے سے پورا کیا جاتا ہے یا پھر صارفین سے نقصان کی وصولی کی جاتی ہے۔ ستم بالائے ستم یہ کہ کوئی ایک ادارہ ہو تو بھی۔ سرکاری نگرانی میں جو بھی ادارہ چلایا جاتا ہے خسارے پر خسارے میں جا رہا ہوتا ہے۔ سٹیل ملز کی مثال دی جائے یا پی آئی اے کا تذکرہ کیاجائے۔ واپڈا اور پیسکو کو کوسا جائے کو نسا ایسا ادارہ ہے جو عوام اور سرکاری خزانے پر بوجھ نہ بنتا ہو۔ پی آئی اے اس کے باوجود خسارہ میں جا رہا ہے کہ ایک مسافر سے پشاور سے کراچی کے ریٹرن ٹکٹ پر نو ہزار روپے ٹیکس وصول کیا جاتا ہے۔ سٹیل ملز کو حکومت کروڑوں روپے کی گرانٹ دیتی ہے اور واپڈا صارفین کی چمڑی ادھیڑتا ہے اس کے سوائے اس کی کوئی اور وجہ نہیں کہ ان اداروں میں رشوت و بدعنوانی اور نااہل ترین افراد کی بھرتی کا جادو سر چڑھ کر بولتا ہے۔ ان اداروں کی نجکاری بھی مسئلے کا حل نہیں کہ ریاست کے پاس چند ادارے بھی نہ ہوں تو ریاست سرمایہ داروں کے ہاتھوں مزید کھلونا بننے کا خدشہ ہے۔ اگر واپڈا اپنے منافع میں سے عوام کو حصہ نہیں دیتی بلکہ بجلی کے صرف شدہ یونٹوں سے کہیں زیادہ وصولی دیگر مدات میں ہوتی ہے مگر اس کے باوجود خسارے کا بوجھ صارفین پر ڈالا جاتا ہے۔ نیلم جہلم کی تعمیر کیلئے باقاعدہ بجلی بلوں میں سرچارج لگایاگیا مگر اب جبکہ یہ منصوبہ بن گیا ہے تو عوام کے ادا کردہ اربوں روپے کی واپسی اور ان کو بلوں میں تخفیف دینے کی کوئی صورت نہیں۔ خیبر پختونخوا میں آبی بجلی پیدا ہوتی ہے مگر یہاں کے مکینوں سے وصولی اس کے برعکس ہوتی ہے۔ اس کے باوجود عوام پر الزام لگتا ہے کہ یہاں کے بعض علاقوں میں ننانوے فیصد عوام بل ادا نہیں کرتے۔ واپڈا حکام سے استفساریہ کرنا ہے کہ وہ ان علاقوں میں بجلی کتنی دیتے ہیں جب بجلی کی سپلائی واجبی ہوتی ہے تو پھر دو سو ارب روپے کے لائن لاسز کہاں سے آگئے۔ واپڈا حکام نے محولہ علاقوں سے بلوں کی وصولی کی کتنی سنجیدہ زحمت کی ہے۔ چیئر مین نیپرا کے اس اعتراف پر قومی اسمبلی کی پبلک اکائونٹس کمیٹی کیا اقدامات کرتی ہے وہ اپنی جگہ بجلی کے صارفین کو اضافی رقم کی ادائیگی سے انکار کردینا چاہئے اور سپریم کورٹ و ہائی کورٹس کے معزز جسٹس صاحبان کو اس اعتراف کی روشنی میں عوام پر ہونے والے ظلم کا از خود نوٹس لینا چاہئے۔

دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے

محکمہ محنت خیبر پختونخوا کی تمام صنعتی مالکان کو کارکنوں کو کم سے کم اجرت پندرہ ہزار روپے ماہوار ادائیگی یقینی بنانے کیلئے بینکوں کے ذریعے تنخواہوں کی ادائیگی کی ہدایت دل خوش کن ضرور ہے لیکن جب تک باقاعدہ مانیٹرنگ کے ذریعے مالکان کو کم سے کم اجرت کی ادائیگی کی باقاعدہ پابندی نہیں کرائی جاتی اس طرح کے ہدایت نامہ کے اجراء کا کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ محکمہ محنت کے حکام کے علم میں یہ بات بخوبی طور پر ہوگی کہ صنعتی اداروں سمیت نجی اداروں میں کارکنوں کو کم سے کم اجرت کی ادائیگی کی سرے سے پابندی نہیں ہو رہی ہے۔ متعلقہ محکمے کے حکام چاہیں تو قانون نے اس کے ہاتھ باندھے نہیں بلکہ ان کو اختیار دیا ہے مگر اس پر عملدرآمد کی ذرا بھی زحمت دیکھنے میں نہیں آئی اور اگر کہیں محکمہ محنت کا عمل دخل ہے بھی تو چھوٹے چھوٹے ایسے کاروباری مالکان جو بمشکل کرایہ و بجلی و ٹیلیفون بل اور دیگر مصارف کے بعد اپنا گزارہ چلا رہے ہوں۔ محکمہ محنت کے کھاتے میں کوئی ایسی کارروائی موجود ہی نہیں ہوگی کہ ان کے عملے نے کبھی کسی بڑے ادارے کادورہ کرکے ان کے مالکان اور انتظامیہ کیخلاف کارروائی کی ہوگی باوجود اس کے توقع کی جانی چاہئے کہ محکمہ محنت کا تازہ اقدام کارکنوں کیلئے ہوا کا جھونکا ثابت ہوگا اور محکمہ محنت کے حکام وقتاً فوقتاً ملازمین کے تنخواہوں کے اکائونٹ کی تفصیلات سے آگاہی کے ذریعے مالکان اور انتظامیہ کو کارکنوں کی حق تلفی روکنے اور ان کو مقررہ اجرت کی فراہمی کا پابند بنانے کی سنجیدہ سعی ضرور کریں گے۔

متعلقہ خبریں