نواز شریف کی آصف زرداری کو مصافحہ کی پیش کش

نواز شریف کی آصف زرداری کو مصافحہ کی پیش کش

پارلیمنٹ کی رکنیت کے لیے نااہل شخص کے کسی سیاسی پارٹی کا سربراہ ہونے کے خلاف بل قومی اسمبلی میں ن لیگ اور اتحادیوں کی اکثریت کے باعث پاس نہ ہو سکا۔ اس پر کوئی حیرت نہیں ہونی چاہیے۔ اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈر جو کہتے تھے کہ بہت سے ن لیگی ارکان اجلاس میں نہیں آئیں گے‘ اس کے باوجود کہ چالیس ارکان نہیں آئے، ان کے دعوے پورے نہ ہو سکے۔ ایک تو جب عام انتخابات میں بہت تھوڑا وقت رہ گیا ہے اس میں ن لیگ میں ٹوٹ پھوٹ کی امید انہیں نہیں رکھنی چاہیے تھی۔ سبھی پارٹیوں پر یہ وقت تب آئے گا جب اگلے انتخابات کے لیے پارٹیوں کے ٹکٹ لینے اور پارٹیوں کی طرف سے ٹکٹ تقسیم کرنے کا وقت آئے گا۔ یہ دعوے اپوزیشن پارٹیوں کی نفسیاتی جنگ کے حربے بھی ممکن ہے ہوں ورنہ انہیں یہ معلوم تھا کہ قومی اسمبلی میں ن لیگ کی واضح اکثریت ہے۔ لیکن اس سے پہلے یہ بل سینیٹ میں ناکام ہو چکا تھا۔ جہاں ن لیگ نے یہ سٹریٹجی اختیار کی کہ اکثریتی پیپلز پارٹی کے ارکان کو بار بار اشتعال دلایا ۔ اور وہ واک آؤٹ اور اجلاس کے بائیکاٹ کا طریقہ اختیار کرتے رہے۔ پیپلز پارٹی کی طرف سے کوئی ایسی حکمت عملی نظر نہ آئی کہ اس بل کے پیش ہونے کی صورت میں زیادہ سے زیادہ تعداد میں اس کے ارکان ایوان سینیٹ میں موجود رہیں ۔ نتیجہ یہ سامنے آیا کہ سینیٹ میں کسی نااہل شخص کے پارٹی کا صدر منتخب ہونے کے حق میں فیصلہ ہو گیا۔ یہ ن لیگ کی بڑی فتح تھی۔ اجلاس کے بعد جب سینیٹر اعتزاز احسن سے سوال کیا گیا کہ وہ ایوان میں اپنی پارٹی کے ارکان کی کم تعداد میں موجودگی کے پیشِ نظر بل پیش کرنے کو ملتوی کر سکتے تھے تو انہوں نے کہا کہ اگر سینیٹ میں کامیابی ہو بھی جاتی تو ن لیگ نااہل شخص کے پارٹی کے سربراہ ہونے کے بل کو قومی اسمبلی میں اکثریت کے بل پر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں منظور کروا لیتی۔ مؤخر کرنے کی صورت میں اپوزیشن کو مہلت مل سکتی تھی جس کے دوران میاں نواز شریف پر نااہل ہونے کے باوجود پارٹی کا صدر منتخب ہونے کا طعنہ جاری رہتا۔ لیکن پیپلز پارٹی نے یہ جانتے ہوئے کہ سینیٹ میں اگرچہ اس کی اکثریت کے باوجود ایوان میں اس کے ارکان کی تعداد کم ہے بل پیش کر دیا۔ سینیٹ میں میاں نواز شریف کے پارٹی کے صدر منتخب ہونے کے حق میں فیصلہ پیپلز پارٹی کی کم کوشی یا اس یقین کے باعث ہوا کہ ن لیگ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں تو ان کے حق میں فیصلہ لے ہی لے گی۔ سینیٹ میں پیپلز پارٹی کی میاں نواز شریف کے انتخاب کے خلاف سٹریٹجی اس وقت سامنے آئی جب پیپلز پارٹی کی ساری قیادت میاں نواز شریف کو کڑی تنقید کا نشانہ بنارہی تھی۔ تقاریر اور بیانات میں یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے اور ایسی ہی تقریروں اور بیانات کے شور میں پیپلز پارٹی ہی نے قومی اسمبلی میں پارلیمنٹ کی رکنیت کے لیے نااہل شخص کی پارٹی سربراہی کی اہلیت کے خلاف بل پیش کیا۔ حالانکہ میاں نواز شریف کی پارٹی عہدہ کے لیے اہلیت کے حق میں بل اب منطقی طور پر ن لیگ کی طرف سے آنا چاہیے تھا جس کے حق میں سینیٹ میں فیصلہ آ چکا تھا اور جسے قومی اسمبلی میں واضح اکثریت حاصل تھی۔ اس میں پیپلز پارٹی کی حکمت کیا تھی؟ کیا یہی جس کا نتیجہ قومی اسمبلی میں اس بل کے مسترد ہونے کی صورت میں ساری اپوزیشن کے لیے سبکی کی صورت میں پیش آیا۔ اپوزیشن کی دوسری بڑی جماعت تحریک انصاف نے اگرچہ قومی اسمبلی میں اس بل کے محرک کا ساتھ دیا۔ تاہم یہ جماعت بیک وقت پیپلز پارٹی اور ن لیگ دونوں پر الزامات اور تنقید کے تیر و نشتر برسارہی ہے۔ پیپلز پارٹی بھی ایک طرف ن لیگ کی مخالفت کر رہی ہے ‘ دوسری طرف تحریک انصاف کے بھی لتے لے رہی ہے۔ یہی حال ن لیگ کا ہے جو بیک وقت پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے ساتھ دو محاذوں پر جنگ لڑ رہی ہے۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے حال ہی میں بڑے سخت بیان دیے ہیں ۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے پارٹی کے عہدیداروں کو ہدایت کی کہ وہ اپنی پارٹی کے یومِ تاسیس کے موقع پر اپنے گھروں پر پارٹی پرچم لہرائیں۔ یہ پیپلز پارٹی کے ورکروں کو فعال کرنے کی کوشش کرتے ہوئے ن لیگ سے اظہارِ لاتعلقی کا اعلان تھا یا گلہ شکوہ؟ یہ ابھی دیکھنا ہے۔ اس بیان کے بعد ن لیگ کے صدر میاں نواز شریف کا یہ کہنا کہ وہ آصف زرداری سے غیر مشروط طور پر ہاتھ ملا سکتے ہیں خصوصی اہمیت کا حامل قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہ جو بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ ’’میاں صاحب سے جب بھی ہاتھ ملایا انہوں نے دھوکہ دیا‘‘ شاید کسی پیغام رسانی کا جواب ہو۔ تاہم میاں صاحب نے ایک بار پھر ہاتھ ملانے کی پیش کش کی ہے اور وہ بھی پیپلز پارٹی کے روح رواں آصف زرداری کے ساتھ۔ ماضی میں یہ دیکھا گیا ہے کہ بلاول بھٹو جب بھی پنجاب میں پیپلز پارٹی کو فعال کرنے کے لیے آئے اپنی کوشش مکمل کیے بغیر واپس گئے یا بلائے گئے۔ میاں صاحب کی یہ پیش کش مشترکہ مخالف تحریک انصاف کے خلاف متحدہ محاذ بنانے کی پیش کش دکھائی دیتی ہے۔ میاں نواز شریف اور آصف زرداری کا مصافحہ ہو جائے تو دونوں کو ایک دوسرے کے خلاف محاذ آرائی سے فرصت مل جاتی ہے اور دونوں محض تحریک انصاف سے نبردآزما ہونے پر توجہ دے سکتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کو سندھ میں عمران خان کی سیاسی یورش سے اتنا خطرہ نہیں جتنا پنجاب میں میاں نواز شریف کی ن لیگ کو ہو سکتا ہے۔ سندھ کے دیہی علاقے میں پیپلز پارٹی کے ارکان اور ممکنہ امیدواروں کے اپنے ووٹ بنک ہوتے ہیں اور پیپلز پارٹی سے رومانس اب بھی محسوس کیا جا سکتا ہے۔ اگر میاں صاحب کی آصف زرداری سے ہاتھ ملانے کی پیش کش پر عملدرآمد ہو جاتا ہے تو پنجاب میں ن لیگ کو پیپلز پارٹی پنجاب کے قائدین کی کاٹ دار مخالفت سے نجات مل سکتی ہے۔ اگر ان دنوں میاں صاحب کے خلاف بلاول بھٹو کے بیانات کی تلخی میں کمی آ جاتی ہے تو سمجھا جا سکتا ہے کہ میاں صاحب اور زرداری کے ہاتھ مصافحہ کے لیے نزدیک آ رہے ہیں۔ 

اداریہ