نئی حلقہ بندیاں اور اگلے انتخابات

نئی حلقہ بندیاں اور اگلے انتخابات

پاکستان کی قومی اسمبلی نے آئینی ترمیم بل 2017ء پاس کر دیا ہے اور سینیٹ سے بھی اُسی دن اس بل کی منظوری دی جانی تھی لیکن کورم پورا نہ ہونے کی وجہ سے ایسا نہیں کیا جاسکا۔اگلے چند دنوں میں سینیٹ سے اس بل کی منظوری بھی متوقع ہے جس کے بعد عام انتخابات 2018ء سے پہلے انتخابی حلقہ بندیوں کی راہ میں حائل آخری رکاوٹ بھی دور ہوجائے گی۔ آئین کی مذکورہ ترمیم نہ صرف مقررہ وقت پر انتخابات کروانے کے حوالے سے انتہائی اہمیت کی حامل ہے بلکہ انتخابی عمل میں بہتری کے حوالے سے بھی نئے سرے سے حلقہ بندیاں انتہائی ضروری ہیں۔1970ء میں ملک میں جمہوریت کے متعارف ہونے کے بعد صرف ایک دفعہ کسی جمہوری دور میں حلقہ بندیاں کی گئی ہیں اور وہ بھی 1977ء کے عام انتخابات سے پہلے ، یاد رہے کہ ان انتخابات کے بعد جنرل ضیاء الحق نے ملک میں مارشل لاء نافذ کردیا تھا۔ دوسرے لفظوںمیںانتخابی مقابلے کے میدان کی تیاری ہمیشہ سے فوجی اسٹیبلشمنٹ کرتی رہی ہے۔

حلقہ بندیوں کا مطلب صرف یہ نہیں کہ قومی قانون سازی کے ادارے میں نشستوں کی تعداد بڑھائی جائے بلکہ یہ حلقہ بندیاں کسی علاقے، صوبے یا ضلعے کی نئی حدود سیاسی ، سماجی، لسانی ، ثقافتی اور مذہبی لحاظ سے وہا ں کے لوگوں کو تقسیم کرنے یا متحد کرنے کا سبب بن سکتی ہے۔اسی طرح کسی خاص گروہ کوکسی ایک حلقے میں شامل کرنے یا نکالنے سے اس حلقے کی انتخابی کارکردگی متاثر ہوسکتی ہے۔1990ء میں محترمہ بینظیر بھٹو کی حکومت کے خاتمے کے بعد قومی اسمبلی کے صرف چار حلقوں کی حدود تبدیل کی گئیںجو ساری نواب شاہ ضلع میں واقع تھیں اور ’’اتفاقیہ طور پر‘‘ اس وقت کے نگران وزیرِ اعظم غلام مصطفٰی جتوئی کا تعلق بھی اسی ضلع سے تھا ۔یہی وجہ ہے کہ ان کی سیاسی جماعت ، آئی جے آئی،1990 ء کے عام انتخابات میں اس ضلع کی دو نشستوں پر پیپلز پارٹی سے جیت گئی حالانکہ آئی جے آئی پورے سندھ میں کوئی اور نشست نہیں جیت پائی تھی۔ ملک میں انتخابی اصلاحات لانے اور پورے انتخابی عمل کو تبدیل کرنے کے لئے جنرل پرویز مشرف کے پاس بے پناہ اختیارات تھے جن سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انہوں نے تمام دستور ساز اسمبلیوں میں نشستوں کی تعداد میں اضافہ کردیا جس سے تمام صوبوں اور اضلاع کی نشستوں میں بھی اضافہ ہواتھا۔یہ حلقہ بندیا ں بھی لیگل فریم ورک آرڈر کے تحت کی گئی تھیں اور اس وقت ملک کا آئین معطل تھا۔ جنرل مشرف کی طرح آج کی حکومت کے پاس بھی حلقہ بندیوں میں تبدیلی لانے کے تمام اختیارات موجود ہیں اور حلقہ بندیوں کی آئینی شرط یعنی کہ مردم شماری بھی کی جاچکی ہے جس سے مختلف انتخابی حلقوں میں تبدیلیوں کی توقع کی جارہی ہے۔ نئی حلقہ بندیوں سے اگلے عام انتخابات کے نتائج میں آنے والی تبدیلیوں کی وجہ سے بہت سی سیاسی جماعتیں متفکر ہیں۔نئی حلقہ بندیوں کے تحت پنجاب سے 7 نشستیں لے کر خیبر پختونخوا، بلوچستان اور اسلام آباد کے درمیان تقسیم کی جائیں گی۔ اسی طرح پنجاب کے اندر بھی وسطی پنجاب کی بجائے سرائیکی اکثریتی جنوبی اضلاع کی نشستوں میں اضافہ ہوگا۔ اس حوالے سے فیصل آباد، اوکاڑہ، ساہیوال ، نارووال اور شیخوپورہ اور جھنگ کے پرانے اضلاع نشستوں سے محروم ہوں گے جس سے ان اضلاع کی سیاست پر دوررس اثرات مرتب ہوں گے۔ یہاں پر اوکاڑہ کی مثال لیتے ہیں جس کی قومی اسمبلی میں پانچ نشستیں ہیں لیکن نئی حلقہ بندیوں کے بعد یہ کم ہو کر چار رہ جائیں گی جس کی وجہ سے ضلع کی سیاست میں کچھ سیاسی حلقوں کو فائدہ پہنچے گا اور کچھ نقصان میں رہیں گے۔ اس وقت اوکاڑہ کی پانچوں نشستیں پاکستان مسلم لیگ۔ن کے پاس ہیں اس لئے نئی حلقہ بندیوں کے بعدپارٹی کے اندر ہی ٹکٹ کے حصول کے لئے رسہ کشی شروع ہوجائے گی۔دوسری جانب ایسے بھی اضلاع ہیں جن کے اندر حلقوں کی حدود میں تبدیلی کے باوجود بھی نشستوں کی تعداد میں تبدیلی نہیں ہوگی جیسا کہ پرانے لاڑکانہ ضلع کے چاروں حلقوں کی حدود میں تبدیلی کے باوجود بھی حلقوں کی مجموعی تعداد میں تبدیلی نہیںہو گی۔پاکستان پیپلز پارٹی نے 2013ء کے عام انتخابات میں لاڑکانہ کے چاروں حلقوں میں کامیابی حاصل کی تھی لیکن نئی حلقہ بندیوں کے بعد جہاں پیپلز پارٹی کو حاصل ہونے والے ووٹوں کی شرح میں تبدیلی آئے گی وہیں پر ماضی کے مقابلے میں ان حلقوں سے مختلف نتائج سامنے آنے کی توقع بھی کی جاسکتی ہے۔ کراچی شہرلسانی بنیادوں پر مختلف حصوں میں تقسیم ہے اور کوئی ایک زبان بولنے والے ایک ہی علاقے میں اکثریت میں رہتے ہیں، اس لئے حلقہ بندیوں میں تبدیلی سے کسی ایک لسانی گروہ کوفائدہ یا نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نئی حلقہ بندیوں کے بعد ملک کے سیاسی درجہ حرارت میں اضافے کا امکان ہے جو بحران کی صورت اختیار کرسکتا ہے ۔ یہاں پر خوش آئند بات یہ ہے کہ حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ ن اپنے گڑھ پنجاب کی سات نشستیں دوسرے صوبوں کو دینے کے لئے رضامند ہوئی ہے جن کا ایک بڑا حصہ خبیر پختونخواکو ملے گا جہاں پر ان کی سیاسی مخالف جماعت کی حکومت ہے ۔ حکمران جماعت کی طرف سے کی جانے والی یہ سیاسی سخاوت پاکستان میں جمہوریت کی مضبوطی میں اہم کردار ادا کرے گی۔
(بشکریہ: ڈان،ترجمہ: اکرام الاحد)

اداریہ