قانون کی پاسداری

قانون کی پاسداری

لندن کی پولیس جب ٹیکسی ڈرائیور کو کسی قانونی بے قاعدگی پر چالان کرنے کے لئے روکتی ہے تو بڑے مزے کا مکالمہ دیکھنے میں آتا ہے سب سے پہلے کانسٹیبل ڈرائیور کو صبح بخیر کہتے ہوئے اس سے حال احوال پوچھتا ہے اسے ایک اچھے دن کے آغازکی دعا دیتا ہے پھر بڑے ملائم لہجے میں اسے کہتا ہے کہ آپ نے اشارہ توڑا ہے اور گرین سگنل آن ہونے سے تیس سیکنڈ پہلے چل پڑے ہیں یا فلاں چوک کو کراس کرتے ہوئے آپ کی رفتار تیز تھی یہ کہتے ہوئے ڈرائیور کو چالان کر دیا جاتا ہے ڈرائیور کے ماتھے پر بل اس لئے نہیں پڑتے کہ اسے اس کی غلطی بڑے ادب سے بتا دی جاتی ہے اور اس طرح اس کی عزت نفس بھی مجروح نہیں ہوتی۔ یہ واقعہ ہم پہلے بھی کسی کالم میں لکھ چکے ہیں۔ ایک مرتبہ لندن کی سڑک پر برطانیہ کے سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر کے بیٹے کو کانسٹیبل نے روکا، پہلے اس کی خیریت دریافت کی اور پھر اسے اس کی غلطی بتاتے ہوئے اسے چالان کی نوید سنا دی، ٹونی بلیئر کے بیٹے نے سوچا کہ کانسٹیبل سے اپنا تعارف تو کروانا چاہئے۔ کانسٹیبل نے جب یہ سنا کہ وہ وزیراعظم کا بیٹا ہے تو اس کے ساتھ بڑی گرمجوشی سے ملا اور کہا کہ مجھے آپ سے مل کر بڑی خوشی ہوئی ہے اور آپ سے ملنا تو میرے لئے بہت بڑا اعزاز ہے لیکن آپ کو چالان تو کرنا پڑے گا۔ یہی وہ سپرٹ ہے جو ہمیں کامیاب اقوام میں نظر آتی ہے اور قانون کی پاسداری ان کی اولین ترجیح ہوتی ہے۔ ہمیں سڑکوں پر روزانہ ایسے مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں کہ غریب رکشہ اور ٹیکسی ڈرائیور کا تو چالان کیا جاتا ہے لیکن بڑی بڑی گاڑیوں میں بیٹھے ہوئے حضرات مونچھوں کو تاؤ دیتے ٹریفک کے قوانین کی خلاف ورزی کرتے رہتے ہیں۔ ایک واقعے کے تو ہم عینی شاہد ہیں، ایک آفیسر کی گاڑی کو ایک حساس ادارے کے گیٹ پر جب پولیس کانسٹیبل نے شناخت کے لئے روکا تو اس نے بڑی لاپرواہی کے ساتھ اپنا نام بتا دیا، آپ یقین کیجئے اس کانسٹیبل نے ڈرتے ڈرتے کہا جناب اس نام کے صاحب تو یہاں نہیں ہوتے، تو اس آفیسر نے زور کا قہقہہ لگاتے ہوئے بڑی حقارت سے کہا یار یہ میرا نام ہے میں تجھے اپنا نام بتا رہا ہوں۔ کانسٹیبل یہ سن کر پیچھے ہٹ گیا اور ہم عمارت کے اندر چلے گئے، بعد میں ہم نے اس آفیسر سے کہا کہ یہ کیا بات ہوئی اس طرح تو کوئی بھی کر سکتا ہے، اسے آپ سے سروس کارڈ ضرور طلب کرنا چاہئے تھا اگر آپ جیسے ذمہ دار لوگ اس طرح کے رویئے کا مظاہرہ کریں گے تو پھر ہمارے سیکورٹی اداروں کا اللہ ہی حافظ ہے۔ جب قانون کے محافظ ہی قانون کا احترام نہیں کرتے تو عام پبلک سے اس کی توقع کیسے کی جاسکتی ہے۔ یہ روزمرہ کا عام مشاہد ہ ہے کہ ٹریفک کے قوانین کی سب سے زیادہ خلاف ورزی ٹریفک اہل کار ہی کرتے ہیں۔ اسی طرح ہمارے ہسپتالوں میں مریضوں سے ملنے کے اوقات ہوتے ہیں، اگر ڈاکٹر راؤنڈ پر ہو تو کسی کو بھی وارڈ کے اندر جانے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ ہمیں اکثر اس قسم کے مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں کہ گیٹ پر کوئی صاحب اردلی سے اس بات پر جھگڑنا شروع کر دیتے ہیں کہ اسے کیوں روکا جا رہا ہے، انہیں اس بات میں بڑی سبکی محسوس ہوتی ہے کہ انہیں اندر داخل ہونے سے روکا جائے اور اس کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ ہمارے دل میں قانون کا احترام سرے سے موجود ہی نہیں۔ ایک چینی کہاوت ہے کہ ہم چھوٹے چوروں کو گرفتار کرتے ہیں اور بڑے چوروں کو سلام کرتے ہیں۔ ہمارے یہاں صاحب حیثیت لوگوں کے لئے کروڑوں روپے کے قرضے معاف کروانا بائیں ہاتھ کا کھیل ہے، کوئی ان کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی جرأت بھی نہیں کرتا لیکن اسی معاشرے میں ہم روزانہ اخبارات میں بڑے بڑے اشتہارات دیکھتے ہیں کہ فلاں مقروض کی جائداد نیلام ہو رہی ہے اس پر جائیداد کی قرقی اور نیلامی کا حکم جاری کر دیا جاتا ہے، اس کی سب سے بڑی وجہ یہی ہوتی ہے کہ اس کے پاس افسران بالا کی مٹھی گرم کرنے کے لئے رقم نہیں ہوتی جو لوگ ایک معقول رقم کا بندوبست کر سکتے ہیں انہیں افسران بالا ہی وہ تمام راستے بتا دیتے ہیں جن پر چل کر وہ بڑے آرام سے بھاری بھر کم قرضوں سے جان چھڑا لیتے ہیں! یہی وہ دیمک ہے جس کی وجہ سے وطن عزیز مسائل کا شکار ہے۔ جب تک ہم رشوت سفارش اور اقرباء پروری کے کلچر سے جان نہیں چھڑا پاتے ہماری قومی وملکی ترقی ایک خواب ہی رہے گی۔ ہم نے اپنی ذات کی نفی کرنی ہے حلام حرام میں تمیز کرنی ہے، قانون کی پاسداری کو اپنی ذات پر مقدم سمجھنا ہے، قانون کا اطلاق غریب امیر پر یکساں نہ ہو تو معاشرہ بگاڑ کا شکار ہو جاتا ہے۔ کسی بھی محکمے میں رشوت کے بل بوتے پر ملازمت حاصل کرنے والے سب سے پہلے رشوت میں دی ہوئی رقم کو بذریعہ رشوت ہی وصول کرتے ہیں اور پھر اس کے بعد یہ سلسلہ رکنے کا نام ہی نہیں لیتا۔ ہمارے یہاں دیانتدار آفیسرز بھی موجود ہیں اور وہی قوم کا اصل سرمایہ ہیں لیکن ان کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ وہ کالے گلاب کی طرح نایاب ہیں! ایسے لوگ ہی کسی قوم کا اصل سرمایہ ہوتے ہیں اور ہماری موٹی عقل میں تو یہی بات آتی ہے کہ جب تک کسی قوم میں رشوت، بدعنوانی اور بے انصافی کا وجود برقرار رہتا ہے وہ کبھی بھی ترقی نہیں کر سکتی یہاں نااہل حقداروں کا حق مارتے رہتے ہیں۔

اداریہ