Daily Mashriq


آدمی کے لئے دو ہی راستے ہیں۔۔۔۔؟

آدمی کے لئے دو ہی راستے ہیں۔۔۔۔؟

فقیر راحموں کہتے ہیں خواہشوں کو قربان کرکے دوست بچا لینے والے سکھی رہتے ہیں۔ بات اصل میں حسین بن منصور حلاجؒ سے شروع ہوئی تھی۔ ایک کج فہم نے حلاجؒ کی ذات‘ کردار اور افکار کو مسخ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اس کا صوفی آف جی ٹی روڈ تو خیر ملامتی صوفیا کا نسبی دشمن ہے۔ اپنے اپنے عہد میں زمین زادوں کے ساتھ پوری فکری استقامت سے ڈٹ کر کھڑے رہنے والے صوفی ہوں یا مزاحمتی کردار‘ دربار نویسوں نے ان پر بہت ظلم ڈھائے۔ جس کے جو منہ میں آیا اس نے انسانی تاریخ کے ان زندہ کرداروں بارے کہہ لکھ دیا۔ آسمان پر تھوکنے اور چاند پر آوازیں کسنے والوں کی کبھی کمی نہیں رہی۔ اچھا یہ بھی حقیقت ہے کہ مزاحمت جنس بازار نہیں یہ فہم سے روشنی پاتی ہے اور فہم مطالعہ سے جلا بخش ہوتا ہے۔ جس عہد نفساں میں ہماری نسل اپنی وارث نسل کے ساتھ جی رہی ہے اس میں خالص کیا ہے۔ اس کیا کی تفسیر و تشریح بے ضرورت ہے دل پر ہاتھ رکھئے اور فہمیدہ جواب حاصل کرلیجئے۔ ایک دوست نے فقیر راحموں سے دریافت کیا۔ ’’ زندگی کیا ہے؟ رسان سے بولے علم اور خاک میں سے جسے چاہیں زندگی سمجھ لیں یہ تو آپ کے اختیار میں ہے‘‘۔ ہمارے اختیار میں اپنے حصے کی بات کہنا لکھنا ہے۔ یہ کام کرتے ساڑھے چار دہائیاں ہوگئیں۔ ایک دن میری نور العین فاطمہ نے (شکر ہے کہ اس نے بھی آگہی کے نور کو پھیلانے کے لئے شعبہ صحافت کا انتخاب کیا ہے) دریافت کیا۔ بابا! ساڑھے چار دہائیوں میں کبھی مایوسی بھی چھو کر گزری؟ عرض کیا جان پدر! ساڑھے چار دہائیاں قبل جب صحافت کے کوچے میں طالب علم کی حیثیت (آج بھی خود کو طالب علم ہی سمجھتا ہوں) سے آئے تھے تو اساتذہ کرام نے فرمامایا تھا۔ صحافت ایک زندہ نظریہ ہے۔ مطالعہ و مشاہدہ اس کی غذا۔ سچائی پر ڈٹے رہنا اس کی چھتری ہے۔ ملازمت ہی کرنی ہے تو کوئی اور شعبہ اختیار کرلو‘ تب نظریہ ہوتا بھی تھا اور اس کا فہم بھی۔ سو ہم نے اساتذہ کی بات مانی مکتبی تعلیم پر اترانے کی بجائے مطالعے اور مشاہدے کے ساتھ مکالمے سے غذا حاصل کی۔ یہی وجہ ہے کہ مایوسی کبھی پاس بھی نہیں پھٹکی۔

کالم یہاں تک پہنچا تھا کہ سیدی وارث شاہؒ یاد آئے۔ کہا’’ آدمی کے لئے دو ہی راستے ہیں‘ اولاً ہر حال میں مخلوق کے لئے ایثار کرے اور ثانیاً ’’سب‘‘ پر سانپ بن کر بیٹھ رہے‘‘۔ ہمارے چار اور جو سماں عشروں سے ہے اس میں ’’سب‘‘ پر سانپ کی طرح بیٹھنے والے لاکھوں ہزاروں ہیں۔ مخلوق کے لئے ایثار کرنے والے انگلیوں پر شمار کئے جاسکتے ہیں۔ فقیر راحموں ایک دن کہنے لگے۔ شاہ جی ’’ایثار یہ ہے کہ ملال نہ ہو‘‘۔ یعنی جو ہے سب تقسیم کے لئے ہے جمع کرنے کی طمع تو نری موت ہے۔ اس نری موت کے تعاقب میں سرپٹ بھاگتے نفس پرستوں کو کیا معلوم کہ نظریہ کیا ہوتا ہے۔ ہمارے دوست عمران خان کے چچازاد اور برادر نسبتی کچھ عرصہ سے کالم نویسی بھی فرما رہے ہیں۔ اگلے دن انہوں نے لکھا نظریہ تو ایک تھا ‘ نظریہ پاکستان۔ میانوالی کے اس بھولے بادشاہ کو کوئی بتلائے کہ یہ لفظ نظریہ پاکستان دوسرے فوجی آمر جنرل یحییٰ خان کے وزیر اطلاعات میجر جنرل شیر علی خان پٹودی کی تخلیق ہے۔ نظریہ تو ان دنوں جناب نواز شریف بھی خود کو قرار دے رہے ہیں۔ مغربی صحافی کم بار کریاد آئیں۔ انہوں نے اپنی کتاب میں جناب نواز شریف کے نظریہ ذات بارے جو لکھا ہے کاش وہ کسی طرح تدریسی نصاب میں شامل ہوسکتا۔ اچھا تدریسی نصاب میں پہلے کونسا ستاروں پر کمندیں ڈالنے کے نسخے ہیں۔ وہی سب کچھ ہے جس سے دولے شاہ کے چوہوں کے لشکر بنتے اور چار اور دندناتے پھر رہے ہیں۔ پچھلی شب ایک محفل دوستاں میں نواز شریف کا نظریہ زیر بحث تھا پھر قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے اس بل پر بات بھی ہوئی کہ نا اہل شخص پارٹی سربراہ نہیں بن سکتا۔ مگر لیگیوں کی اکثریت نے عملی طور پر ثابت کیا کہ بن سکتا ہے۔ فقیر راحموں بولے یار ہم ہندی مسلمانوں کو یہی سب کچھ پسند ہے ان کے 95فیصد ہیرو میاں نواز شریف کا ’’پرتو‘‘ ہیں۔ معاف کیجئے گا یہ درمیان میں نظریہ شریفیہ کا ذکر یونہی آگیا۔ ہمارے حکمران طبقات کا نظریہ کیا ہے۔ جناح صاحب‘ حسین شہید سہر وردی‘ ذوالفقار علی بھٹو اور محمد خان جونیجو کو نکال لیجئے نظریہ بخوبی سمجھ میں آجائے گا۔ میاں صاحب کا نظریہ اور جی ٹی روڈ کے صوفی کا تصوف دونوں ایک جیسے ہیں۔

حسین لوائیؒ کہتے تھے ’’انسان کے بس میں ہے کہ وہ سرشاری کو زندگی سمجھے یا کھانے کو‘‘۔ شاہ لطیفؒ کے بقول آدمی اپنے لئے سوچتا دیکھتا ہے اور انسان سب کے لئے سوچتا ہے‘‘۔ ہمارے حکمران طبقات آدمیوں کا ہجوم ہیں۔ وہی آدمیوں کا جنگل والی بات ہے۔ استاد مکرم سید عالی رضوی مرحوم کہا کرتے تھے ’’ انسان بن کر رہنے میں اچھی بات یہ ہے کہ تعصب و جہالت سے بچ کر زندگی بسر ہوجاتی ہے‘‘۔ یہاں چار اور کیا ہے پچھلی شب سندھ سے راشد عباس جمالی نے دریافت کیا۔ شاہ جی‘ کیا قومی اسمبلی کسی چھوٹے صوبے یا قوم کے لیڈر کی نااہلی پر بھی یوں جرأت دکھاتی یا یہ سہولت صرف پنجاب کے لئے ہے؟ عرض کیا سب کچھ پنجاب کا ہی ہے۔ پنجاب کے لئے قانون موم کی ناک اور دستور بازیچہ ’’اطفال‘‘ ورنہ گیلانی تو خالصتاً ایک شخص کے غصے کا شکار ہوئے۔ اس وقت چونکہ نواز شریف چودھری افتخار کے ساتھ کھڑے تھے اس لئے نا اہلی کا فیصلہ دستور کی سربلندی قرار پایا تھا۔ اب پنجاب کا معاملہ ہے تو اصل عدالت عوام کی عدالت ہے۔

متعلقہ خبریں