مشرقیات

مشرقیات

حضرت ابو بکر صدیقؓ نے چھ لشکر خدا تعالیٰ کے راستے میں روانہ کئے۔ ان میں پہلا لشکر روم کی طرف روانہ کیا جس کے امیر حضرت عمرو بن عاصؓ تھے۔ ان کے ساتھیوں کی تعداد آٹھ ہزار تھی اور اس کے بالمقابل روم کے بادشاہ قیصر نے اپنے بھائی جرجیس کو ایک لاکھ جنگجو لشکر کے ساتھ مسلمانوں سے لڑنے کے لئے روانہ کیا۔ حضرت عمرو بن عاصؓ کا لشکر جب وہاں پہنچا تو یہ رومی چھپے ہوئے تھے۔ اس بارہ گنا زیادہ لشکر نے اچانک چاروں طرف سے مسلمانوں کو گھیر لیا۔
عربوں کا دستور تھا کہ لڑتے ہوئے شعر پڑھا کرتے تھے لیکن اس دن ہمیں ساری شاعری بھول گئی۔ سب کی زبان پر ایک جیسے ہی الفاظ تھے!
’’اے محمدؐ کے رب! امت محمدؐ کی مدد فرما‘‘۔
حضرت ابن عمرؓ فرماتے ہیں کہ جب سورج ڈھلا تو میں نے دیکھا کہ آسمان جگہ جگہ سے پھٹ گیا۔ اس میں سوراخ ہوگئے اور اس میں سے شبابی رنگ کے گھوڑے نکل رہے ہیں۔ ان پر سوار بیٹھے ہیں جن کی پگڑیاں سفید تھیں۔ ان سواروں کے ہاتھوں میں نیزے تھے اور ان کے آگے آگے ایک سوار ہے جس کے ہاتھ میں ایک لمبا نیزہ ہے اور وہ کہتا آرہا ہے۔
’’ اے امت محمدؐ! تمہارے لئے خوشخبری ہے‘‘۔ تمہارے رب کی طرف سے تمہاے لئے مدد آگئی ہے۔
پھر چند گھڑیوں میں وہ فضا میں غائب ہوگئے‘ اس کے بعد تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ ایک لاکھ کا لشکر بھاگ رہا تھا اور ان کو بھاگنے کی جائے پناہ نظر نہیں آرہی تھی۔ جب باری تعالیٰ ساتھ ہو تو اس کی غیبی مدد حرکت میں آتی ہے اور اس کی مدد کیسے آتی ہے کہ تمام حرام کام ختم کئے جائیں اور حق تعالیٰ کو راضی کیا جائے۔حضرت زبیرؓ نے رسول اکرمؐ کی محبت اپنی والدہ حضرت صفیہؓ سے ورثہ میں پائی تھی۔ جب اسلام کی تبلیغ شروع ہوئی تو یہ فوراً مسلمان ہوگئے۔ ان کے اسلام کی خبر جب ان کے کافر چچا نوفل بن خویلد کو ہوئی تو اس کو سخت غصہ آیا۔ وہ سخت پیچ و تاب کھاتا ہوا گھر پہنچا اور حضرت زبیرؓ کے بال پکڑ کر کھینچتے ہوئے پوچھا ’’ زبیر کیا تو بھی اپنے آبائی دین سے پھر گیا ہے؟‘‘حضرت زبیرؓ نے نہایت نرمی سے جواب دیا’ چچا جان! میں مسلمان ہوگیا ہوں۔ محمدؐ خدا کے سچے رسول ہیں۔ لوگوں کو توحید اور امن و عافیت کا پیغام دیتے ہیں‘‘۔ یہ سننا تھا کہ نوفل نے ایک کھجور کی چٹائی میں حضرت زبیرؓ کو لپیٹ دیا اور اونی کمبل کا ٹکڑا جلا کر اس کی دھونی دینی شروع کردی۔ مستقل ناک میں دھواں جانے کی وجہ سے وہ بے ہوش ہوگئے‘ جب وہ ہوش میں آتے تو یہ کمبل کا جلتا ہوا ٹکڑا ان کی ناک کے اور قریب کردیتا۔
جب نوفل نے تھک کر حضرت زبیرؓ کو چھوڑ دیا اور انہیں ہوش آیا تو سمجھانے لگا کہ وہ اپنے آبائی دین پر پھر لوٹ آئیں۔ حضرت زبیرؓ نے بڑی دلیری سے کہا’’ میں کسی بھی قیمت پر اپنے محبوب محمد مصطفیؐ کے راستے کو چھوڑنے والا نہیں ہوں۔ چاہے آپ اذیتیں دیتے دیتے میری جان بھی لے لیں۔‘‘
(اصحابؓ رسولؐ اور ان کے کارنامے)

اداریہ