Daily Mashriq


پاک بھارت تعلقات میں بہتری لانے کا سنجیدہ اقدام

پاک بھارت تعلقات میں بہتری لانے کا سنجیدہ اقدام

انڈین کابینہ کی جانب سے انڈین سرحد کے نزدیک پاکستانی علاقے میں واقع گردوارہ دربار صاحب تک انڈین یاتریوں کو رسائی دینے کیلئے خصوصی کوریڈور تعمیر کرنے کی منظوری پاکستان اور بھارت کے درمیان دوستی اور بہتر رابطے کے کوریڈور کی تعمیر کے مترادف ہے جس کا دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری لانے میں بڑا کردار ہوگا۔ پاکستان نے بھارتی کابینہ کے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ بھارتی کابینہ کی جانب سے خصوصی کاریڈور تعمیر کرنے کی منظوری کے بعد کرتارپور سرحد کھلنے کے امکانات روشن ہوگئے ہیں۔ پاکستانی حکومت پہلے ہی سکھ یاتریوں کیلئے سرحد کا یہ حصہ کھولنے پر آمادگی ظاہر کر چکی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان درست سمت میں اٹھایا جانے والا قدم ہے جس سے سرحد کے دونوں جانب امن اور دانائی کی باتیں کرنے والوں کی حوصلہ افزائی ہوگی۔ کرتارپور وہ مقام ہے جہاں سکھوں کے پہلے گرونانک دیو جی نے اپنی زندگی کے آخری ایام گزارے تھے۔کرتارپور کا گردوارہ سکھوں کیلئے انتہائی مقدس مقام ہے۔ یہ سکھ مذہب کے بانی گرونانک دیو کی رہائش گاہ اور جائے وفات ہے۔ گرونانک نے اپنی 70برس اور چار ماہ کی زندگی میں دنیا بھر کا سفر کیا اور کرتارپور میں انہوں نے اپنی زندگی کے 18برس گزارے جو کسی بھی جگہ ان کے قیام کا سب سے لمبا عرصہ ہے۔ یہیں گردوارے میں ان کی ایک سمادھی اور قبر بھی ہے جو سکھوں اور مسلمانوں کیلئے ایک مقدس مقام کی حیثیت رکھتی ہے۔1947 میں تقسیم ہند کے وقت گردوارہ دربار صاحب پاکستان کے حصے میں آیا تھا۔ دونوں ممالک کے درمیان کشیدہ تعلقات کے باعث ایک لمبے عرصے تک یہ گردوارہ بند رہا۔ جب تقریباً اٹھارہ برس قبل کھلا تو بھی انڈیا میں بسنے والی سکھ برادری کے تقریباً دوکروڑ افراد کو یہاں آنے کا ویزہ نہیں ملتا تھا۔ معاہدے کے تحت ہر سال بابا گرونانک کی جائے پیدائش ننکانہ صاحب کی زیارت پر پاکستان آنے والے چند سکھ یاتریوں کو کرتارپور کا ویزہ حال ہی میں ملنا شروع ہوا، تاہم ان کی تعداد چند سو سے زیادہ نہیں رہی۔ کرتارپور میں واقع دربار صاحب گردوارہ کا انڈین سرحد سے فاصلہ چند کلومیٹر کا ہی ہے اور نارووال ضلع کی حدود میں واقع اس گرودوارے تک پہنچنے میں لاہور سے 130کلومیٹر اور تقریباً تین گھنٹے ہی لگتے ہیں۔ یہ گردوارہ تحصیل شکرگڑھ کے ایک چھوٹے سے گاؤں کوٹھے پنڈ میں دریائے راوی کی مغربی جانب واقع ہے۔ یہاں سے انڈیا کے ڈیرہ صاحب ریلوے سٹیشن کا فاصلہ تقریباً چار کلومیٹر ہے۔ راوی کی مشرقی جانب خاردار تاروں والی انڈین سرحد ہے۔ گردوارہ دربار صاحب کرتارپور اپنی نوعیت کا ایک منفرد مقام ہے۔ پاکستان میں واقع سکھوں کے دیگر مقدس مقامات ڈیرہ صاحب لاہور، پنجہ صاحب حسن ابدال اور جنم استھان ننکانہ صاحب کے برعکس یہ سرحد کے قریب ایک گاؤں میں ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات میں بہتری کے اس موقع سے دونوں ممالک کو فائدہ اٹھا کر دونوں ممالک کے عوام کے درمیان روابط کی مضبوطی اور آمد ورفت کو آسان اور باقاعدہ بنانے کے موقع سے پوری طرح فائدہ اٹھانا چاہئے جس سے غلط فہمیوں کا خاتمہ ہو اور دونوں ممالک اور اس کے عوام قریب آئیں۔

ناقابل یقین واقعہ

نوشہرہ میں سوتیلے بہن بھائی کے نکاح میں حقیقت کتنی ہے فسانہ کتنا اس سے پردہ ہٹنے میں شاید تھوڑی دیر لگے۔ انہوں نے واقعی پولیس کے خوف سے جعلی نکاح نامہ بنوایا تھا یا پھر جہالت کے باعث وہ ایسا کر بیٹھے سب سے بڑھ کر یہ سوال کہ اس قسم کے اقدام کا ماسٹر مائنڈ کون تھا اس بارے دوسری رائے نہیں کہ پولیس مختلف قسم کے استفسار کرتی ہے لیکن اس سے بچنے کا یہ ناقابل یقین طریقہ کیوں ڈھونڈا گیا۔ سوتیلے بہن بھائی کے پاس شناختی کارڈ یا کوئی ایسی دستاویز نہیں تھی جس کو وہ اپنے رشتے کے ثبوت کے طور پر پیش کرتے۔ اس واقعے سے قطع نظر یہ ہمارے معاشرے کا ایسا بڑا المیہ ضرور ہے کہ اس کا تذکرہ ہی محال ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ خونی اور مقدس رشتوں کی پامالی کوئی کہانی نہیں بلکہ حد درجہ تکلیف دہ حقیقت ہے۔ کبھی کبھار ہی اس قسم کے معاملات کی حقیقت جب طشت ازبام ہوتی ہے تو ملکی وغیر ملکی میڈیا کا گرم موضوع بن جاتا ہے۔ اس میں جہالت وپسماندگی کا عنصر اپنی جگہ مگر ضلالت وگمراہی کے ان واقعات کا محرک صرف یہ نہیں بلکہ کئی عوامل ہوتے ہیں۔ خیبر پختونخوا کے معاشرے میں جہاں ایک طرف غیرت کے نام پر قتل اور دشمنیاں مول لی جاتی ہیں وہاں دوسری جانب مقدس رشتوں کی پامالی وہ تلخ حقیقت ہے جس پر ہمارے علمائے کرام‘ اساتذہ‘ دانشوروں‘ سول سوسائٹی اور میڈیا سبھی کو غور کرنے اور مبنی بر جہالت قسم کی حرکات وسکنات اور افعال کے تدارک کیلئے شعور اجاگر کرنے اور اس کا تدارک تجویز کرنے کی ضرورت ہے۔ نوشہرہ کے واقعے کی اصل حقیقت جتنا جلد سامنے لائی جاسکے بہتر ہوگا تاکہ اذہان وقلوب پر بھاری بوجھ کم ہو۔

متعلقہ خبریں