Daily Mashriq

دوطرفہ تعلقات کا خوشگوار موڑ

دوطرفہ تعلقات کا خوشگوار موڑ

پاک بھارت تعلقات کی سردمہری ٹوٹنے کی خبر خوش آئند ہے۔ دوطرفہ تعلقات کو بہتر بنانے کیلئے بھارت نے نارووال سیکٹر میں گوردوارہ بابا صاحب کیلئے کرتار پور سرحد کھولنے کا اعلان کر دیا ہے۔ بھارتی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ سکھ یاتریوں کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے گی۔ پاکستان کرتار پور بارڈر پر راہداری تعمیر کرے گا۔ وزیراعظم عمران خان 2نومبر کو سنگ بنیاد رکھیں گے۔ سکھ یاتریوں کیلئے یہ راستہ سارا سال کھلا رہے گا۔ ویزا بارڈر پر ہی دیا جائے گا۔ تناؤ اور الزام تراشی سے پراگندہ ماحول میں ہوئی اس مثبت پیش رفت کا سرحد کے دونوں طرف خیرمقدم کیا جا رہا ہے۔ بھارتی کانگریس نے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ناچاقیوں کا خاتمہ ہوگا۔ کرتاپور بارڈر کھولنے کی پاکستانی تجویز کے خیرمقدم اور عملی اقدامات کیلئے پیش رفت سے اس امر کی تصدیق ہوتی ہے کہ پڑوسی مکمل کٹی کرکے نہیں رہ سکتے۔ پاک بھارت تعلقات کی تاریخ کشیدگی‘ جنگوں‘ بداعتمادی‘ الزام تراشی اور دوسرے سنگین مسائل سے عبارت ہے۔ صورتحال کے ذمہ داروں کے کردار پر بحثیں اُٹھانے کی بجائے تازہ فیصلے کا خیرمقدم زیادہ مناسب ہوگا۔

سکھ مذہب کے بانی بابا گورونانک کی جنم بھومی اور ان سے منسوب متعدد مقدس مذہبی مقامات پاکستان میں ہیں۔ اسی طرح برصغیر کے مسلمانوں کا تاریخی و روحانی ورثہ بھارت میں۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ تقسیم کے وقت ہی دونوں ملکوں کی قیادت اپنے اپنے ملک کے شہریوں کی دوسرے ملک میں موجود ان کے مذہبی‘ ثقافتی وروحانی اور تاریخی مقامات پر آزادانہ طور پر آمد ورفت کو یقینی بنانے کیلئے دوطرفہ معاہدہ کرتیں۔ بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوا بلکہ دوطرفہ کشیدگی میں اونچ نیچ اور جنگوں سے پیدا ہوئے ماحول سے دونوں جانب کے شہری متاثر ہوئے۔ اُمید کی جانی چاہئے کہ کرتارپور بارڈر کھولنے پر دونوں ملکوں کی رضامندی اور عملی اقدامات کا اعلان دوطرفہ تعلقات کے نئے دور کے آغاز کی بنیاد رکھے گا۔ اختلافات پر آستینیں اُلٹ کر زہریلے بیانات دینے کی بجائے مذاکرات کی میز پر بات چیت ہوگی۔ یہ توقع بھی کی جانی چاہئے کہ ہندو برادری کے جو مقدس مقامات پاکستانی حدود میں موجود ہیں ان کیلئے ہندو یاتریوں کو بھی دونوں ملک ہر ممکن سہولت فراہم کریں گے۔

پاک بھارت تعلقات کو مزید بہتر کرنے اور عوامی رابطوں کو موثر بنانے کیلئے اگر پاکستانی حکومت ملتان میں راجہ پرہلاد کے دانش کدہ کو ازسرنو تعمیر کروانے کا بیڑا اُٹھائے تو اس سے نہ صرف خطے کی قدیم تہذیبی وتاریخی اہمیت اُجاگر ہوگی بلکہ پرہلاد کے دانش کدہ جسے عام طور پر پرہلاد مندر کہا جاتا ہے کی بحالی سے بھارتی ہندوؤں کے دل بھی جیتے جاسکتے ہیں۔ بھارتی حکومت بھی ہندوستان بھر میں موجود مسلم تہذیبی وثقافتی اور تاریخی مقامات کی بحالی کیلئے اقدامات کرے۔ اس سے خود بھارت کی 30کروڑ مسلم آبادی اور ریاست میں اعتماد سازی پروان چڑھے گی بلکہ اس کے دو پڑوسی مسلمان ممالک پاکستان اور بنگلہ دیش میں بھی خوشگوار اثرات مرتب ہوں گے۔

بٹوارے کے بعد سے اب تک اکہتر برس دونوں ملکوں کے عوام نے جس ماحول میں بسر کئے وہ کسی بھی طور دوستی‘ تعاون اور رابطوں کو موثر بنانے میں معاون بننے والا ماحول ہرگز نہیں تھا۔ کرتارپور بارڈر سکھ یاتریوں کیلئے کھولنے کا اعلان پاکستان کی طرف سے کیا گیا تھا۔ اب بھارت نے جوابی خیرسگالی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اُمید واثق ہے کہ دونوں ملک قدم بہ قدم آگے بڑھتے رہیں گے اور ایک دن آئے گا جب بھارت تنازعہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی اُمنگوں کے مطابق حل کرنے کی طرف پیش قدمی کرے گا۔ اسی طرح دریائی پانی کی تقسیم پر بھارتی رویہ نامناسب ہے۔ چند دوسرے مسائل بھی ہیں اور اہم ترین بات یہ ہے کہ اس جنگی جنون کا خاتمہ ہونا چاہئے جس کی وجہ سے دونوں ملک اپنے وسائل کا بڑا حصہ اسلحہ کے ڈھیر لگانے پر صرف کرتے چلے آرہے ہیں۔

دوستی‘ تعاون اور رابطوں کے فروغ سے جنم لینے والی اعتماد سازی ہی دونوں ملکوں کی حکمران اور بالادست اشرافیہ کو اس امر پر مجبور کرسکتی ہے کہ وہ دستیاب وسائل کے بڑے حصے کو جنگی ساز وسامان کے انبار لگانے پر ضائع کرنے کی بجائے غربت کے خاتمے اور تعمیر وترقی پر صرف کریں تاکہ واہگہ کے دونوں طرف ایک نئے دور کا آغاز ہو پائے، اس دور کا جو برصغیر کے لوگوں کا حقیقی خواب ہے۔ بار دیگر عرض ہے کہ کرتارپور بارڈر کھولنے اور عوام کو سہولتیں فراہم کرنے کیلئے دونوں اطراف سے کئے جانے والے اعلانات واقدامات کی یقین دہانیاں خوش آئند ہیں۔ تقسیم شدہ برصغیر کی دونوں ریاستوں کے عوام اور حکمرانوں کو سمجھنا ہوگا کہ پڑوسی تبدیل نہیں ہوتے بھارت اور پاکستان کسی کالونی کے دو مکانوں میں کرایہ دار کے طور پر مقیم نہیں، کئی ہزاریوں کے جغرافئے سے بندھے ہوئے ہیں۔ تاریخی‘ تمدنی‘ ثقافتی اور دیگر رشتوں میں جڑے ہوئے بھی۔ نفرتوں اور عدم برداشت کا ہمالیہ اُٹھا لینے سے تاریخی حقیقتیں تبدیل نہیں ہو جاتیں۔ بھارت ہو یا پاکستان دونوں عصری حقیقت ہیں اس حقیقت کا ادراک بہت ضروری ہے۔ اس موقع پر یہ عرض کرنا بھی مناسب ہوگا کہ ہمیں اپنے دو دوسرے پڑوسیوں افغانستان اور ایران کیساتھ بھی چھوٹے موٹے اختلافات کو طے کرنے کی حکمت عملی وضع کرنا ہوگی تاکہ بدلتے ہوئے حالات میں محفوظ سرحدیں داخلی استحکام کی ضمانت ہوں اور دستیاب وسائل کا بڑا حصہ سماجی مساوات پر صرف ہو۔ کرتارپور بارڈر کھولنے کے فیصلے سے دونوں طرف کے امن پسندوں کی جدوجہد کو تقویت ملی ہے۔ اس طرح کے فیصلے دیگر معاملات میں بھی کئے جائیں تو خطہ میں تعمیر وترقی کے مثالی دور کا آغاز ہو سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں