Daily Mashriq


ٹرمپ کی ہرزہ سرائی

ٹرمپ کی ہرزہ سرائی

آج کل سوشل، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر امریکی صدر ٹرمپ اور پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کے ٹویٹ کے چرچے ہو رہے ہیں۔ امریکی صدر ٹرمپ نے پاکستان پر الزام لگایا کہ پاکستان امریکہ سے بڑی امداد لینے کے باوجود کچھ نہیں کر رہا۔ انہوں نے امریکہ انتظامیہ کی طرف سے پاکستانی امداد بند کرنے کا دفاع کیا اور کہا کہ ہم پاکستان کو مزید اربوں ڈالر امداد نہیں دے سکتے۔ پاکستان امداد لیتا ہے اور ہمارے لئے کچھ نہیں کرتا۔ اُسامہ بن لادن کی پاکستان میں موجودگی اور افغانستان میں پاکستان کا ساتھ نہ دینا اس کی مثالیں ہیں۔ صدر ٹرمپ کی ٹویٹ کے جواب میں پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے ٹویٹ میں کہا کہ ٹرمپ کے غلط بیانات زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ ہم نے دہشتگردی کیخلاف امریکی جنگ کا خمیازہ جانوں کے ضیاع اور معاشی عدم استحکام کی شکل میں بھگتا ہے۔ ٹرمپ کو تاریخی حقائق سے آگاہی درکار ہے۔ ہم امریکی جنگ میں پہلے کافی نقصان اُٹھا چکے ہیں۔ اب وہی کریں گے جو ہمارے حق میں بہتر ہوگا۔ دہشتگردی کی جنگ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ اس جنگ میں 75ہزار پاکستانی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے اور پاکستانی معیشت کو 123ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔ ہمارے قبائلی علاقوں میں تباہی وبربادی ہوئی اور لاکھوں لوگ گھروں سے بے دخل ہوگئے تھے۔ پاکستان نے امریکہ کو بلامعاوضہ زمینی اور ہوائی راستے دئیے۔ مسٹر ٹرمپ ہمیں کسی اور اتحادی کا نام لیکر بتا سکتے ہیں کہ اس نے امریکہ کی دہشتگردی کیخلاف جنگ میں کتنی قربانی دی ہے۔ اپنی ناکامیوں کا الزام پاکستان کے سر تھوپنے کے بجائے امریکہ کو خود تجزیہ کرنا چاہئے کہ نیٹو کی ایک لاکھ 40ہزار اور افغانستان کی اڑھائی لاکھ افواج اور ایک کھرب ڈالر خرچ کرنے کے باوجود طالبان پہلے سے زیادہ توانا کیوں ہیں جبکہ اس کے برعکس پاکستان کو 20ارب ڈالر کی امداد دی گئی جو ہماری جانی اور مالی قربانیوں کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں۔ اگر ہم حالات اور واقعات کا تجزیہ کریں تو اس سے یہ بات صاف ظاہر ہوتی ہے کہ امریکہ کو اپنی شکست اور ناکامی واضح دکھائی دے رہی ہے اور وہ اپنی شکست اور ناکامی پاکستان پر ڈالنا چاہتا ہے اور اس بدحواسی میں ٹرمپ صاحب اوٹ پٹانگ ہانک رہے ہیں۔ امریکہ اور اتحادی اب اپنے عوام کو منہ دکھانے کے قابل نہیں مگر مجھے ڈر ہے کہ کہیں اس بدحواسی میں وہ بھارت کیساتھ ملکر پاکستان پر حملہ نہ کرلے کیونکہ افغانستان میں امریکہ کو جو شکست ہوئی وہ امریکہ کیلئے ناقابل برداشت ہے کیونکہ ٹرمپ نے بھی اپنے عوام کو کچھ تو دکھانا ہوگا۔ جس طرح وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اس جنگ میں 75ہزار جا نوں اور 123ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔ ماضی میں امریکہ نے لیبیا پر الزام لگایا تھا کہ لیبیا نے امریکہ کا ایک بوئنگ جہاز گرایا حالانکہ لیبیا کا اس جہاز گرانے سے دور تک کا واسطہ نہیں تھا مگر اس کے باوجود لیبیا نے امریکہ کے جہازگرانے کے الزام میں ایک مسافر کے عوض 10ملین ڈالر دئیے اور اسی طرح غالباً یہ ادائیگی امریکہ کے 450لوگوں کو ہوئی۔ اگر ہم اس حساب سے ان 75ہزار پاکستانیوں کیخلاف جو امریکہ کی دہشتگردی اور انتہاپسندی کی جنگ میں شہید ہوئے قیمت کا اندازہ لگائیں تو وہ تقریباً5000ارب ڈالر سے بھی زیادہ بنتی ہے مگر ادھر ٹرمپ صاحب 20ارب ڈالر کا رونا رو رہے ہیں اور بدقسمتی سے پاکستان کی جانی اور مالی قربانیوں کی طرف کوئی توجہ نہیں دیتے۔ اس وقت پاکستان کو چاہئے کہ وہ چین اور روس کیساتھ بلاک بنائے کیونکہ یہ بلاک امریکہ کے تعلقات سے زیادہ بہتر اور پاکستان کے مفاد میں ہوگا۔ ایک انگریزی قول کا ترجمہ کہ امریکہ سے دشمنی خطرناک اور دوستی مہلک ہوتی ہے۔ میں یہاں ایک اور بات عرض کرتا چلوں کہ اس وقت پاکستان کو مالی امداد کی اشد ضرورت ہے اور پاکستان نے اب آئی ایم ایف سے امداد کی درخواست بھی کی ہے اور میرے خیال میں آئی ایم ایف پاکستان کو سخت شرائط کیساتھ امداد دے گا اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ امریکہ آئی ایم ایف میں اپنا اثرورسوخ استعمال کرکے پاکستان کی امداد روک بھی سکتا ہے۔ اس وقت آئی ایم ایف کے 20ڈونر ہیں ان میں امریکہ، جاپان، چین، جرمنی، فرانس، برطانیہ، اٹلی، بھارت، روس، برازیل کینیڈا، سعودی عرب، سپین، میکسیکو، ہالینڈ، ساؤتھ کوریا، آسٹریلیا، بیلجیم، سوئٹزرلینڈ اور انڈونیشیا شامل ہیں اور اس میں 17فیصد ووٹوں کیساتھ امریکہ سرفہرست ہے اور آئی ایم ایف کے انتظامی اُمور بھی امریکہ چلا رہا ہے۔ مجھے خدشہ ہے کہ کہیں امریکہ اپنا اثر ورسوخ استعمال کرکے پاکستان کی امداد نہ روک لے۔ لہٰذا پاکستان کو چاہئے کہ وہ امریکہ اور آئی ایم ایف کا متبادل بھی سو چے۔ عمران خان کو چاہئے کہ امریکہ کے چنگل سے نکلے۔ میں اُمید کرتا ہوں کہ پاکستان کے 22کروڑ عوم خان کیساتھ ہوںگے۔پاکستان جو اس وقت ایک ہیجانی کیفیت کا سامنا کر رہا ہے پاکستان کو چاہئے کہ وہ ایک محتاط، استدلالی اور شعوری خارجہ پالیسی کو اپنائے۔ امریکہ کے سابق صدر جمی کارٹر کا کہنا ہے Great Strength does not make ensure great wisdom. کہتے ہیں کہ یہ لازمی نہیں کہ جو زیادہ طاقتور اور تعداد میں زیادہ ہوں گے وہ عقل مند اور دانا بھی ہوںگے اور پشتو میں کہاوت ہے: پہ زور کور نہ کیگی، زبردستی سے معاملات حل نہیں ہوتے۔

متعلقہ خبریں