Daily Mashriq


وارے نیا پاکستان

وارے نیا پاکستان

کے پی کے فوڈ اتھارٹی نے سوات اور ہزارہ ڈویژن میں پان کی فروخت پر پابندی لگا دی ہے جبکہ پشاور کے اکلوتے پانچ ستاری ہوٹل میں بھی پان کی فروخت پر پابندی عاید کر دی ہے یہ جانے بغیر کہ پان کے نقصانات کیا ہیں اور فوائد کیا ہیں۔ کے پی کے فوڈ اتھارٹی کے ذرائع کا مؤقف ہے کہ پان کے استعمال سے کینسر ہوتا ہے، پان پاکستان میں سب سے زیادہ سندھ خاص کر کر اچی، سکھر اور حیدرآباد میں استعمال ہوتا ہے۔

اسی طرح پنجاب میں بھی خوب استعمال کیا جاتا ہے مگر وہاں پان سے منہ کا کینسر ہونے کی شرح اعشاریہ صفر ایک فیصد بھی نہیںہے، صوبہ کے پی کے میں معدہ کے کینسر کی شرح سب سے زیادہ ہے جس کی طرف فوڈ اتھارٹی کی کوئی توجہ نہیں ہے۔ فوڈ اتھارٹی کی کارکردگی کچھ اس لطیفے کی طرح ہے کہ ریل کے سفر کے دوران ایک مسافر نے دیکھا کہ ان کا ایک ہمسفر بے تحاشا سگریٹ نوشی کر رہا ہے ابھی ایک سگریٹ اختتام کو پہنچ نہیں پاتا کہ وہ نیا سگریٹ سلگا لیتا، آخر مسافر سے نہ رہا گیا اور اس نے سگریٹ نوش سے استفسار کر ہی لیا کہ وہ روزانہ کتنے سگریٹ پھونک ڈالتا ہے۔ ہمسفر نے سوچ کر تعداد بتائی جس کے بعد مسافر نے پوچھا کہ اس سگریٹ کی ڈبیا کی قیمت کتنی ہے؟ سگریٹ نوش نے وہ بھی بتا دی۔ پھر استفسار ہوا کہ کتنے عرصہ سے یہ شغل جاری ہے، ہمسفر نے سال، ماہ وایام کا بھی حساب بتا دیا۔ کچھ دیر چپ رہ کر مسافر نے ریل کی بوگی سے باہر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سگریٹ نوش کی توجہ وہاں نظر آنے والی عالیشان عمارتوں کی طرف دلاتے ہوئے کہا کہ آپ کو یہ کتنی شاندار عمارتیں نظر آرہی ہیں اگر آپ اپنی سگریٹ نوشی میں دولت نہ پھونکتے تو آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ آج ان میں سے کسی ایک عالیشان عمارت کے آپ بھی مالک ہوتے، جس پر سگریٹ نوش نے استفسار کیا کہ آپ سگریٹ نہیں پیتے جواب ملا قطعی نہیں، جس پر سگریٹ نوش نے استفسار کیا ان عالیشان عمارتوں میں سے آپ کی کونسی ہے؟ یہ سوال سن کر مسافر ہق دق رہ گیا۔ کچھ ایسا ہی رویہ پان کے بارے میں فوڈ اتھارٹی کا ہے۔پان کی تاریخی اہمیت اور افادیت کا ذکر ہو جائے، شہنشاہ جہانگیر کی ملکہ نورجہاں حسن وجمال، دل دماغ اور حکمرانی کے داؤ پیچ کی مہارت سے بھی واقعی ملکہ تھیں۔ ان کو لیکوریا جیسی موذی بیماری نے آلیا، بہت علاج کرایا مگر کوئی افاقہ نہ ہو پایا تاہم ایک حکیم حاذق نے ان کیلئے تجویز کیا کہ وہ سپاری (چھالیہ) استعمال کریں جو پیلے درجے میں خشک تر اور گرم ہے، طبیب کے مشورے پر استعمال شروع کردیا مگر اس کا ذائقہ بکٹا تھا جو ملکہ کو نہ بھاتا تھا۔ اس شکایت پر طبیب نے سپاری کیساتھ پان کا پتا بھی استعمال کرایا، پھر بھی نازک مزاجی پر یہ دونوں اشیاء بھاری رہیں چنانچہ ملکہ کیلئے اس دوائی کو خوش ذائقہ بنانے کی غرض سے تجویز کیا گیا کہ وہ پان کے پتے پر کتھا اور چونا لگا کر استعمال کریں، ساتھ ہی سبز الائچی بھی استعمال کر سکتی ہیں تاکہ اس کی مہک اور طبی افادیت کی وجہ سے پان اور سپاری مزاج نازک پر گراں نہ ہونے پائے، اس طرح برصغیر پاک وہند میں پان خوری کا رواج عام ہوا۔ چونا کیلشیم کی کمی پوری کرتا ہے، کتھا سپاری کی گرم مزاجی کو معتدل کرتا ہے اور معدہ کی گرمی کا خاتمہ کرتا ہے چنانچہ جب منہ معدے کی گرمی سے پک جاتا ہے تو حکماء کتھا چٹواتے بھی ہیں اور منہ کے چھالوں پر لگواتے بھی ہیں جس سے بہت جلد افاقہ ہو جاتا ہے۔ ہندوستان کے بڑے بڑے گویے گلے کو صاف رکھنے اور گلے میں بلغم نہ جمنے دینے کیلئے پان کا استعمال کرتے ہیں۔ اس سے آواز کا سریلاپن دوبالا ہو جاتا ہے، بڑے علماء بھی پان استعمال کرتے چلے آئے ہیں، بابائے جمہوریت نوابزادہ نصراللہ کا پاندان اور حقہ ان کی زندگی کا جزو لاینفک رہا، مولانا شاہ احمد نورانی مرحومؒ کا پاندان تو مرحوم کیساتھ ہی دنیا بھر کی سیر کیا کرتا تھا۔ اسی طرح مولانا مفتی محمودؒ کا پاندان بھی ان کیساتھ لگا ہوتا تھا۔حکومت پان درآمد کرتی ہے، کے پی کے کی فوڈ اتھارٹی اس کے استعمال پر پابندی لگا رہی ہے تو پھر یہ درآمد کس طرح کارآمد ہو گی جبکہ اتھارٹی کے پاس ایک مفید چیز پر پابندی لگانے کا اختیار نہیں ہے اگر فوڈ اتھارٹی سمجھتی ہے کہ پان کھانا نقصان دہ ہے تو حکومت سے کہہ کر اس کی درآمد پر پابندی لگا دے۔ یہ منافقت نہیں تو اور کیا ہے کہ ایک طرف تمباکو کی کاشت کی جاتی ہے، سگریٹ بنانے والی فیکٹریاں دھڑادھڑ لگائی جاتی ہیں، دوسری جانب سگریٹ کی ڈبیا پر تحریر کر دیا جاتا ہے کہ سگریٹ نوشی کینسر کا سبب ہے، پھر تو پان کی درآمد کے بعد پان کے پتے پر بھی لکھ دیا جائے کہ منہ کے کینسر کا باعث ہے۔ یہاں یہ واضح رہے کہ پنجاب میں حکومت نے نسوار پر پابندی لگا دی تھی مگر اس کی افادیت کی وجہ سے ہٹا دی گئی، نسوار اور پان سے کہیں زیادہ خطرناک سگریٹ ہیں اس پر فوڈ اتھارٹی کو پابندی لگا دینی چاہئے۔

متعلقہ خبریں