Daily Mashriq

آغوش ادارہ‘ اسم با مسمیٰ

آغوش ادارہ‘ اسم با مسمیٰ

ماہ ربیع الاول کی برکات کے سبب مجھے ان مبارک ایام مختلف تعلیمی اداروں اور تنظیموں میں سیرت النبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر گفتگو کی سعادت حاصل کرنے کیلئے جانا پڑتا ہے۔ یہ مجھ پر اللہ تعالیٰ کا فضل وکرم حبیب پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کیساتھ ایک گنہگار مسلمان کی حیثیت سے جو عقیدت‘ محبت اور رشتہ ہے اس کے صدقے اور اپنی ضعیف العمر والدہ ماجدہ کی دعاؤں کی برکت ہے کہ ایسے مواقع پر بہت بزرگ شخصیات‘ عاشقان رسولؐ سے ملاقاتیں اور اچھے ومنظم اور اخلاص کیساتھ کام کرنے والے اداروں کو دیکھنے کا موقع بھی مل جاتا ہے۔ تعلیمی اداروں کے طلبہ وطالبات سے گفتگو کے دوران یہ دیکھ کر کہ ہمارے نوجوان طلبہ وطالبات کے دلوں میں حب النبیؐ کا شمع فروزاں ہے اور اس حوالے سے زیادہ سے زیادہ معلومات دل ودماغ میں سمانے کیلئے بیتاب ہوتے ہیں تو بے انتہا خوشی ہوتی ہے کیونکہ فتنوں کے اس دور اور مغربی وہندوستانی تہذیبی یلغار کے باوجود دلوں میں عشق نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا جذبہ عظیم تحفہ خداوندی کے سوا کچھ اور نہیں ہوسکتا۔اسی تسلسل میں دو تین دن قبل ایک ایسے ادارے کے بچوں سے سیرت النبیؐ پر گفتگو کرنے کی دعوت ملی جسے مجھے بھی دیکھنے کا شوق تھا اور اس شوق کی وجہ ایک لحاظ سے دوگنی اسلئے تھی کہ اس ادارے کا نام ’’آغوش‘‘ پرکشش وپرتجسس ہونے کے علاوہ ان بچوں کی کفالت اور تعلیم وتربیت کا ذمہ اُٹھائے ہوئے ہے جن کے سروں سے والد یا والدین کا سایہ اُٹھ گیا ہو یعنی درہائے یتیم۔

یہ بات صاحبان علم ودانش سے پوشیدہ نہیں کہ جو معاشرے اپنے کمزور طبقات کی حفاظت‘ کفالت اور تعلیم وتربیت کا خیال وانتظام کرتے ہیں ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمتوں وبرکتوں کا نزول ہوتا ہے اور ساتھ ہی اس میں طبقاتی کشمکش کے خدشات نہیں ہوتے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم خود دریتیم تھے۔ اگرچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے محترم ومحب دادا اور چچا نے آپﷺ کو بہت محبت سے پالا پوسا‘ لیکن والدین بالخصوص ماں کی گود وآغوش کے برابر کوئی دوسرا سہارا نہیں ہوسکتا۔ یتیم بچوں کی مشکلات کم کرنے اور ان کو معاشرے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کے قابل بنانے کیلئے نبی رحمت ومہربان صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے تعلیمات واحکام اور اپنے مبارک عمل کے ذریعے ایک بہترین نمونہ پیش کیا۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اپنے یتیم حبیب پاک کی محبت میں اہل ایمان کی اپنی کتاب پاک میں تفصیلی تعلیمات عطا فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ نے استغہامیہ انداز میں اہل ایمان سے اس شخص کے بارے میں پوچھا جو دین کو جھٹلاتا ہے اور پھر خود ہی جواب عنایت فرماتے ہوئے فرمایا کہ ’’یہ وہ شخص ہے جو یتیم کو دھتکارتا ہے‘‘۔

اللہ تعالیٰ کی اہل ایمان کے سامنے بہت نیاز کیساتھ اپنے محبوب پاک کیساتھ جو خوبصورت انداز میں گفتگو ہوئی ہے کہ ’’کیا آپؐ کو یتیم نہیں پایا‘ پھر ٹھکانا فراہم کیا‘‘۔ اس کے ذریعے اہل ایمان کو قیامت تک کیلئے رشد وہدایت ورہنمائی اور حکم ہے کہ مسلمانوں کے معاشروں میں یتیم بغیر ٹھکانے‘ کھانے پینے اور تعلیم وتربیت کے نہیں ہونے چاہئیں۔ اسلامی فلاحی ریاست میں یہ ریاست کا کام ہوتا ہے کہ معاشرے کے ضعفاء اور کمزور اور یتامیٰ کیلئے سرکاری خزانے (بیت المال) سے وضائف جاری کریں تاکہ سلسلۂ حیات بخوبی رواں ودواں ہو۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ایسی بیواؤں جن کی پہلے خاوند سے اولاد ہو ان کے بچوں کو ’’ ربائب‘‘ کا نام دیکر سوتیلے باپ پر ان کی کفالت اور تربیت کی ذمہ داری عائد کی ہے۔ حضرت عمرؓ نے سارے بچوں کیلئے بالعموم اور یتامیٰ کیلئے خصوصی وظائف جاری کئے تھے۔

پاکستان میں بھی الحمدللہ‘ بیت المال اور بعض دیگر اداروں اور ایدھی ہوم وغیرہ کے ذریعے یتامیٰ کا خیال رکھا جاتا ہے لیکن اس تناظر میں سردار گڑھی پشاور میں ’’آغوش‘‘ دیکھنے کا موقع ملا تو ایک گونہ اطمینان ہوا کہ یہاں بھی یتامیٰ کیلئے ایک اچھا ادارہ موجود ہے جو بہت منظم انداز میں کام کر رہا ہے۔ اس ادارے میں یتیم طلبہ کیساتھ ’’سیرت النبیؐ‘‘ کے سیمینار میں شریک ہوا تو دل خوش ہوا۔ اس ادارے میں طلبہ کو صاف ستھری رہائش کے علاوہ بہترین بود وباش اور کھانا پینا فراہم کیا گیا ہے یہاں تک کہ ہر طالب علم کو رات سونے سے پہلے تازہ وخالص دودھ کا ایک گلاس بھی فراہم کیا جاتا ہے لیکن اصل اور قیمتی چیز یہ ہے کہ ان کی تعلیم وتربیت پشاور کے مختلف بہترین پرائیویٹ سکولوں میں کی جا رہی ہے جس میں متعلقہ سکولوں کی طرف سے بھی ان یتامیٰ کو فیسوں اور بعض دوسری مدوں میں رعایت دی جاتی ہے۔ سیمینار میں طلبہ کی سٹیج کمپیئرنگ‘ تقاریر‘ نعت خوانی اور تلاوت سن کر یقین ہوگیا کہ ’’آغوش‘‘ معاشرے کے یتامیٰ کیلئے للہ فی اللہ بہت بڑا کام کر رہا ہے۔ آغوش کے ڈائریکٹر شاکر صدیقی‘ ایک پڑھے لکھے اور اسلاف کے ثقافتی علمبردار ہونے کیساتھ ساتھ پشاور کے ایک نستعلیق علمی وحکمت کے پیشے میں مصروف حکیم عبدالوحید کے بھتیجے ہیں۔ ان کیساتھ آغوش کے ڈائریکٹر تحسین اللہ اور نوجوان غلام الرحمن خدمت کیلئے ہر دم تیار ومستعد خدمت کے جذبے سے سرشار افراد یقینا آغوش کو آگے لے جانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ صاحبان ثروت اور مخیر حضرات کے صدقات‘ زکواۃ اور مالی اعانت کا مستحق ادارہ اس لئے ہے کہ یہاں یتامیٰ کی نہ صرف پرورش ہوتی ہے بلکہ تعلیم وتربیت بھی ہوتی ہے۔ اللہ پاکستان کو آباد رکھے۔ آمین۔

متعلقہ خبریں