Daily Mashriq


نو ڈومور

نو ڈومور

امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن ایک روزہ دورے پر آج پاکستان پہنچ رہے ہیں۔ موجودہ صورتحال کے پیش نظر ریکس ٹلرسن کا یہ دورہ غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ پاکستانی وزیر اعظم اور اپنے ہم منصب کے علاوہ عسکری حکام سے ملاقاتیں بھی کریں گے۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ریکس ٹلر سن بھارت کے حوالے سے امریکی پالیسی پر پاکستان کے خدشات کو دور کرنے کے علاوہ عسکریت پسندوں کے خلاف سخت کریک ڈائون کے لئے پاکستانی حکومت پر دبائو ڈالیں گے۔ تاہم دوسری جانب میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی وزیر خارجہ کے دورہ پاکستان کے لئے حکومت نے حکمت عملی تیار کرلی ہے۔ پاکستان نے امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلر سن کے دورے کے دوران نو ڈو مور کا دو ٹوک پیغام دینے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیاں کسی سے پوشیدہ امر نہیں۔ پوری دنیا پاکستان کی دہشتگردی کے خلاف قربانیوں کی معترف ہے۔ د ہشتگردی کے خلاف پاکستان کی کوششوں سے دنیا میں امن قائم ہوا ۔ اب وقت آگیا ہے کہ دنیا دہشتگردی کے خلاف پاکستان کے ساتھ مزید تعاون کرے ۔ دہشتگردی کے خاتمہ کیلئے ہمسایہ ممالک کا تعاون بھی چاہیے ، دونوں ہمسایہ ملکوں کو بھی دہشتگردی کے خلاف جنگ میں '' ڈو مور '' کرنا ہوگا ۔ پاکستان کے نقصان کے ازالے کے لئے امریکہ کو پاکستان کے ساتھ جتنا تعاون کرنا چاہئے تھا اس کا عشر عشیر بھی نہیں کیا گیا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کم از کم اسی ارب ڈالر کا نقصان اٹھا چکا ہے جبکہ امریکہ کولیشن سپورٹ فنڈ کے نام سے پچھلے برسوں میں جو امداد پاکستان کو دیتا رہا ہے اس کا سلسلہ تقریباً رک چکا ہے۔ اس کے باوجود بجائے اس کے کہ امریکہ ڈو مور کے جواب میں ہمارے نو مور کا جواب سن کر اکتفا کرتا الٹا ایک مرتبہ پھر ڈومور کے مطالبے کی بازگشت ہے۔ ہمارے تئیں اب امریکہ کو اپنی پالیسیوں سمیت اپنے روئیے پر پہلے نظر ثانی کرنی چاہئے۔ پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کی نوعیت کا ایک مرتبہ پھر جائزہ لینے کے بعد ہی کسی مطالبے پر غور کرنا چاہئے۔ امریکہ اور پاکستان کے تعلقات کی نوعیت بظاہر سازگار نہیں لگتی لیکن گزشتہ روز مغوی غیر ملکیوں کی رہائی اور پاک افغان سرحد پر ڈرونز حملے اور پاکستانی عوام کے لئے دہشت گردوں کی صفوں میں سب سے بڑے دہشت گرد کو ڈرون حملے میں ماردئیے جانے کے بعد اگر کچھ صورتحال بہتر ہوئی ہو تو یہ الگ بات ہے وگرنہ پاکستان امریکہ کے مطالبات سے اب تنگ آچکا ہے۔ امریکہ اور عالمی طاقتیں عملی طور پر درکار تعاون کے بغیر پاکستان سے جو توقعات وابستہ کئے ہوئے ہیں ان توقعات کا پورا ہونا ممکن نہیں۔ ہر بار ڈو مور کامطالبہ لے کر آنے و الوں کو مایوس نہیں کیا جاتا لیکن یکے بعد دیگرے مطالبات اور دبائو کی کیفیت اور سب سے بڑھ کر یہ کہ پاکستانی اقدامات کے باوجود امریکیوں کاالزامات سے باز نہ آنا وہ صورتحال ہے جس میں تبدیلی لائی جانی چاہئے اور پاکستان کی قربانیوں اور اقدامات کا کھلے دل سے اعتراف کیا جانا چاہئے۔ جس طرح عالمی برادری نے افغانستان کی مدد کی۔ پاکستان کو اس طرح کی کسی مدد کی ضرورت نہیں۔ پاکستانی فوج اور ادارے اس قابل ہیں کہ وہ اپنے علاقے سے دہشت گردوںکا صفایا کریں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جہاں دہشت گردوں کا صفایا کرنے کامرحلہ اہم ہے وہاں اس کے ساتھ ساتھ دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثرہ قبائلی علاقوں میں شدت پسندی کے اثرات کو زائل کرنے کیلئے ایسے اقدامات کی ضرورت ہے کہ یہاں کے عوام ، بالخصوص نوجوان اپنی زندگی میں تبدیلی کو محسوس کریں اور ان کا پالا پھر سے شدت پسندی کے جذبات کو ابھارنے والے حالات سے نہ پڑے ۔اس مقصد کے لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ قبائلی علاقوں میں تعمیر وترقی کے منظم اور بھر پور کام کاآغاز کیا جائے۔ علاقے میں کاروبار اور روزگار کے مواقع میں بہتری لانے کیلئے دیگر لوازمات کے ساتھ ساتھ صنعتوں کا قیام ضروری ہے۔فاٹا میں جہاں جہاں برائے نام صنعتی بستیاں ہیں یا پھر سنگ مرمر کے ذخائر ہیں معدنیا ت ہیں وہاں پر سہولیات نام کو نہیں جس کی بناء پر صنعتیں لگنا تو درکنار پہلے سے قائم صنعتیں بند پڑی ہیں۔ اس مشکل سے نکلنے کیلئے قیام امن کے ساتھ ہی فاٹا میں صنعتوں کو درپیش بجلی اور گیس کی ضروریات کا بندوبست ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ہی سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی کیلئے ٹیکس میں چھوٹ بلکہ فاٹا کو ٹیکس فری زون قرار دینے کی ضرورت ہے تاکہ سرمایہ کار یہاں سرمایہ کاری پر راغب ہوں۔ ہمارئے تئیں پاک چین تجارتی اور سرمایہ کاری کے معاہدہ میں فاٹا میں سرمایہ کاری کو ترجیحی طور پر شامل کیا جائے۔خیبرپختونخوا اور فاٹا میںپن بجلی سمیت دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کے بڑے پیمانے پر مواقع موجود ہیں۔ جس سے فائدہ اٹھا کر اور سرمایہ کاری کے ذریعے بین الاقوامی برادری پاکستان کی مدد کرسکتی ہے۔ قبائلی علاقوںسے شدت پسندی کو جڑوں سے ختم کرنے کاموزوں طریقہ یہاں کے عوام کی معاشی واقتصادی حالت کی بہتری اور سہولتوں کی فراہمی ہے جو عالمی برادری کے بھر پور تعاون کے بغیر ممکن نہیں۔

متعلقہ خبریں