Daily Mashriq


وزیراعلیٰ ترقیاتی کاموں کی تکمیل پر ساری توجہ مرکوز کریں

وزیراعلیٰ ترقیاتی کاموں کی تکمیل پر ساری توجہ مرکوز کریں

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک کا این ایل سی کے زیر انتظام ترقیاتی کاموں سمیت دیگر ترقیاتی کاموں اورزیر تعمیر منصوبوں کی تکمیل پر توجہ کی ہدایت ہی کافی نہیں بلکہ اب تو وزیر اعلیٰ کو صوبے میں جاری منصوبوں کو اپنی نگرانی میں مکمل کروانے کیلئے خود کو ان کاموں کی تکمیل کی نگرانی کیلئے وقف کر لینا چاہیئے۔ عام انتخابات کے انعقاد میں اب زیادہ وقت باقی نہیں آٹھ ماہ کے اندر تو چھوٹے موٹے منصوبوں کی تکمیل نہیں ہو پاتی یہاں تو بڑے بڑے منصوبے ادھورے اور کھلے پڑے ہیں ۔ منصوبوں کے ادھورے پن سے جہاں سرکاری وسائل کا مصرف فضول اور عوام کا اس سے استفادہ نہ ہونے پرنالاں ہونا ہی مسئلہ نہیں ہے بلکہ عوام کا حکومتی اقدامات پر عدم اعتماد بڑھ جاتا ہے اور ایک مخالفانہ فضا طاری ہونے لگتی ہے جس کی تحریک انصاف متحمل نہیں ہو سکتی ۔ہمارے تئیں ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ ریپڈ بس منصوبہ ایسے وقت شروع کیا جانا تا کہ اب تک اس کی تکمیل ہو جاتی لیکن بہر حال دیر آید درست آید اب جبکہ اس منصوبے پر کام کا آغاز ہو چکا تو اسے موجودہ حکومت کیلئے موت و حیات کا مسئلہ گردان کر دن رات ایک کر کے اس کی تکمیل کی سعی کی جائے تاکہ لوگوں کو سہولت ملے اور صوبائی حکومت کے پاس کوئی ایک کارنامہ ضرور ہو جس کی مثال دی جا سکے ۔

افغان مہاجرین کی واپسی کی تاریخ میںتوسیع کامعاملہ

افغان مہاجرین کو واپسی کے لئے دی گئی ڈیڈ لائن کے ختم ہونے میں کم عرصہ رہ گیاہے ایک مرتبہ پھر اس امر کا عندیہ دیا جا رہا ہے کہ سابق افغان مہاجرین کی اقامت کا دورانیہ بڑھایا جائے گا۔ اگر حقیقی معنوں میں دیکھاجائے تو شاید اس کی بھی ضرورت نہیں کیونکہ لاکھوں افغان مہاجرین اپنی مرضی سے آتے جاتے رہتے ہیں۔ مختلف شہروں اور علاقوں میں سکونت پذیر بھی ہیں چونکہ معاملات سے وفاق بھی وابستہ ہے اسی لئے صوبائی حکومت تن تنہا کسی اقدام کی پوزیشن میں نہیں ۔ لیکن اگر صوبائی حکومت چاہے تو اتنی بے بس اور بے اختیار بھی نہیں۔ صوبائی حکومت افغان مہاجرین سے بطور پاکستانی شہری اقامت اختیار کرنے کی سہولت چھین سکتی ہے ۔ ان کو مکانات کرائے پر دینے پر پابندی عائد کرسکتی ہے۔ بغیر دستاویزات کے حامل افغان مہاجرین کوو اپس بھجوا سکتی ہے ان کے کاروبار پر پابندی عائد کرسکتی ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اگر وفاق کی جانب سے افغان مہاجرین کی واپسی کا دورانیہ کسی مصلحت کے تحت بڑھابھی دیاجائے تب بھی صوبائی حکومت اگر صرف نظر کی پالیسی اختیار نہ کرے اور متعلقہ قوانین پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے تو صوبے میں افغان مہاجرین کامزید قیام ممکن نہیں رہے گا۔ افغان مہاجرین کی اگر فوری واپسی ممکن نہیں تو کم از کم انہیں بطور مہاجرہی قیام کی اجازت ہونی چاہئے۔ کیا صوبائی حکومت ایسا کرنے پر سنجیدگی سے توجہ دے گی اورافغان مہاجرین کو بطور مہاجرہی قیام کا پابند بنانے کی ذمہ داری نبھائی جائے گی ۔

منشیات کی عام ہوتی وبا

ایک رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا میں دس فیصد سے زائد مرد و خواتین منشیات کا استعمال کررہے ہیں ۔ رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا میں منشیات کے عادی افراد کی تعداد ساڑھے دس لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔نوتھیہ میں شراب پی کر نوجوان کی ہلاکت کی خبر کے تناظر میں دیکھا جائے تو شراب اور منشیات صرف نوتھیہ ہی میں عام نہیں ملتی بلکہ صوبائی دارالحکومت میں شراب کے اڈوں اور منشیات سپلائی کرنے والی مافیا بڑے منظم طریقے سے اپنا کاروبار چلا رہی ہے۔اسے بد قسمتی ہی قرار دیا جا سکتا ہے کہ خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں میں ایسی سرگرمیوں کو عروج مل رہا ہے جس کے باعث پوری دنیا میں پختونوں اور اس خطے کے دیگر باسیوں کی بدنامی ہو رہی ہے۔ یہ خطہ کلاشنکوف کلچر کے لئے مشہور رہا اسلحہ سمگلنگ ، ہیروئن سازی ،پوست کی کاشت کے حوالے سے بدنامی کا شکار رہا، دہشت گردی اور خودکش حملوں کے واقعات سے عالمی سطح پر خطے کی بدنامی ہوئی جس سے بیرون ملک یہاں کے مکینوں کے کاروبار اورروزگار متاثر ہوئے اب منشیات کے استعمال کرنے والے افراد کی بڑی تعداد کا انکشاف حیران کن اور باعث خجالت معاملہ ہے۔ منشیات کے استعمال کرنے والوں کی بڑی تعداد اس امر کا ثبوت ہے کہ صوبے میں منشیات بڑے پیمانے پر دستیاب ہیں اور ہماری نوجوان نسل اس کی طرف مائل ہے ۔ تشویشناک امر یہ ہے کہ سڑکوں کے کنارے ٹولیوں کی صورت میں منشیات کے عادی افراد سے کوئی تعرض کرنے والا نہیں۔ شرمناک حقیقت تو یہ ہے کہ ان افراد کو منشیات سپلائی کرنے والوں کو نہ تو مقامی پولیس پکڑتی ہے اور نہ ہی انسداد منشیات فورس والوں کے کانوں پر جوں تک رینگتی ہے۔

متعلقہ خبریں