Daily Mashriq

ہم اپنا کل کیسے ضائع کر سکتے ہیں !

ہم اپنا کل کیسے ضائع کر سکتے ہیں !

سراج الحق کا کہنا بالکل درست ہے کہ انتخابات سے پہلے سب کا احتساب ہونا چاہیئے ۔ احتساب تو انتخابات سے پہلے مکمل ہوجانا چاہیئے تا کہ اس چھلنی سے صرف وہ سیاست دان چھن کر باہر نکلیں جو اس ملک اور قوم کے وفادار ہوں اور اس وفاداری کو پورے طور نبھانے کا ارادہ رکھتے ہوں ۔ اس سب کی ، جو آج ہمارے ارد گرد ہو رہا ہے ایک عرصے سے اس ملک وقوم کو ضرورت تھی احتساب کی تلوار کو اب تک کتنی ہی گردنیں اڑا دینی چاہیئے تھیں لیکن ہربار طاقتوروں کے مفادات آڑے آتے رہے ۔ ہر بار ہم اپنے سیاست دانوں کے ہاتھوں کی حرکت سے بننے والے بلیک ہولز(Black Holes)۔ میں اپنے مستقبل کی امید کھوتے دیکھتے رہے ۔ ہم نے اس ملک میں ایک عجیب وقت گزارا ہے ۔ اپنے ہی لوگوں کے ہاتھوں خود کو بر باد ہوتے دیکھا ہے ۔ کبھی ہم نے اپنے سیاست دانوں کو ، کبھی فوج کو ، کبھی بیوروکریسی کو مورد الزام ٹھہرایا ہے ۔ لیکن کبھی یہ سوچنے کی کوشش نہیں کی کہ یہ لوگ جو ہمیں لوٹنے کے ذمہ دار ہیں یہ ہم میں سے ہی ہیں ۔ ہمارے اپنے ، ہمارے جیسے ، یہ نمائندے بھی ہمارے ہیں ، فوج میں اعلیٰ عہدوں پر فائز بھی ہم میں سے ہی ہوا کرتے ہیں اور بیوروکریسی میں بھی ہمارے ہی بھائی ہیں ۔ پھر یہ طاقت اپنے بازوئوں میں محسوس کرتے ہی بگڑنے کیوں لگتے ہیں ۔ ان کی گردنوں میں یکا یک سر یا کیوں آجاتا ہے ۔ یہ ہمیں ہی لوٹنے کے طریقے کیسے ڈھونڈنے لگتے ہیں ۔ انہیں توہمارے دکھوں کا احساس ہونا چاہیئے ۔ میں بھی اس حوالے سے سوچتی رہی ، کبھی ایک جانب ، کبھی دوسری جانب بار الزام ڈالتی رہی اور کچھ سمجھ نہیں آتا تھا ۔ پھر معمول میں صبح کے وقت قرآن کا ترجمہ پڑھتے میں نے پہلے بھی پڑھی ہوئی سورۃ النمل پڑھی اور اس میں مجھے اپنے سوال کا جواب مل گیا ۔ سورۃ النمل کے پہلے رکوع میں ہی ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ’’حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ آخرت کو نہیں مانتے ان کے لئے ہم نے ان کے کرتوتوں کو خوشنما بنا دیا ہے اس لیے وہ بھٹکتے پھرتے ہیں اور آخرت میں یہی سب سے زیادہ خسارے میں رہنے والے ہیں ‘‘۔اور مجھے اچانک ہی احساس ہوا کہ یہی ہمارے تمام ترمسائل کی اصل وجہ ہے ۔ہم جن مسائل کا شکار ہیں اسکی وجہ یہی تو ہے کہ بظاہر تو ہم مسلمان دکھائی دیتے ہیں لیکن ہمیں آخرت کے بپا ہونے کا کامل یقین نہیں ۔ اگریہ یقین ہوتا تو ہم کبھی بھی اس طرح کی حرکتیں نہ کر رہے ہوتے جو ہم آج کیا کرتے ہیں ۔ ہر ایک شخص کو اپنے اعمال کی فکر لگی ہوتی ۔ ہر ایک اپنا حساب درست کرنے میں لگا ہوتا ۔ جتنی محنت ہمارے سیاست دان ، ہمارے حکمران ہمیں اور ہمارے نظام کو دھوکہ دینے میں کرتے ہیں اس سے کہیں کم صرف اپنے اعمال درست کرنے میں کرتے تو اس ملک کے لوگ امن و سکون کی زندگیاں گزارتے۔ ہمارا عالم تو یہ ہے کہ ہمارے ملک میں بڑے نیک لوگ بھی موجود ہیں ۔ دراصل یہی وہ لوگ ہیں جن کی وجہ سے آج تک یہ ملک قائم ہے ۔ اور ہم نے کبھی ان نیک لوگوں کے بارے میں کوئی مثبت سوچ نہیں رکھی ۔ چونکہ کالم کاآغاز سراج الحق کی کہی ہوئی بات سے کیا تھا اس لیے سوچ اس دائرہ کار سے باہر نکل نہیں پائی۔ ہم نے کتنے ہی اچھے لوگ محض اس خوف سے ضائع کیے ہیں کہ یہ جن باتوں کی ترغیب دیں گے ، جن باتوں کوفروغ دیں گے ان سے ہمارے مفادات کو زد پہنچے گی ۔ بہت پرانی بات نہیں ، اس ملک نے قاضی حسین احمد کو کھویا ہے ، کیا برائی تھی کہ قاضی حسین احمد کسی وزارت میں قلمدان سنبھالے دکھائی دیتے ۔ کیا برائی تھی اگر وہ کسی اہم عہدے پر فائز ہوتے تاکہ ان کے علم اور فہم سے یہ ملک ، اس کا نظام مستفید ہوتا لیکن ہم مسلسل انکے متشرح حلئے سے خوفزدہ رہے ۔ اس قدر خوفزدہ کہ ہم ان کی صلاحیتوں سے بھی فیض نہ اٹھا سکے ۔ قاضی حسین احمد کی شخصیت سے تو شاید دنیا پسند لوگوں کا اصولی اختلاف تھا لیکن ایئر مارشل اصغر خان کے بارے میں بھی لوگوں کی عمومی رائے مثبت تھی ۔ انہیں بھی کبھی کسی اہم عہدے پر کبھی فائز نہ کیا گیا کیونکہ ایمان دار ، اصول پسند لوگوں سے تو کسی قسم کی توقعات وابستہ نہیں کی جا سکتیں ۔ وہ کوئی کام غلط نہیں کرنا چاہتے ۔ انہیں کسی بھی وقت میں کوئی ایسی دلچسپی محسوس نہیں ہوتی جو انہیں انکی اصول پسندی سے بہتر محسوس ہو ۔ایسے لوگوں کی ایک لمبی فہرست ہے جنہیں ہم نے اپنے معمولی مفادات اور خواہشات کی بلی چڑھا دیا اور کبھی ایک لمحے کو تا سف کی کسی لہر نے ہمیں چھوا تک نہیں ۔ ہم اپنے آج کے لیے ہمیشہ ہی اپنے کل کی قربانی دیتے رہے ہیں ۔ اور ہمیں کبھی ایک لمحے کے لیے تاسف محسوس ہوتا ہی نہیں ۔ میں سوچتی ہوں اپنے کل کی طرح ہم اپنا آج بھی ضائع کررہے ہیں ۔ وہی سراج الحق جنکے بارے میں عدالت نے کہا تھا کہ اگر ملک میں 63,62کا اطلاق کیا جائے تو سیاست دانوں میں صرف سراج الحق ہی باقی رہ جائینگے ، وہی سراج الحق اس وقت بھی ملک میں موجود ہیں اور کسی بھی حکومت نے کبھی انہیں اس ملک کے مفاد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش نہیں کی ۔ میں سوچتی ہوں کہ آخر کیوں ہم ایسے ہیں کہ اپنے ہی مفاد سے بے بہرہ ہیں اور ہمیں کیوں یہ احساس باقی ہی نہیں رہا کہ آج کی خوشنمائی کے دھوکے میں اپنا اصل ، اپنا کل کھو رہے ہیں ۔ ہم کتنے ہی لوگ کھو چکے ہیں اور کتنے کھوئیں گے ۔

متعلقہ خبریں