Daily Mashriq

تو بدل سکتا ہے تو میں بھی بدل سکتا ہوں

تو بدل سکتا ہے تو میں بھی بدل سکتا ہوں

بالآخر ایم کیو ایم والوں نے خود ہی اپنے چہرے سے نقاب نوچ کر اپنی اصلیت ظاہر کر دی ہے اور اب وہ ایک دوسرے کو کھینچ کھینچ کر اس محاورتی حمام میں لارہے ہیں جہاں پر کچھ چھپانے کی نہ کسی میں ہمت ہوتی ہے نہ جرأت ، بلکہ اب تو یہ لوگ بہ امر مجبوری اس بچے کی طرح بن کر چیخ رہے ہیں کہ ’’بادشاہ ننگا ہے ‘‘ ۔ جو برہنہ بادشاہ کے استقبال کیلئے امڈ آیا تھا مگر کسی میں اتنی اخلاقی جرأت نہیں تھی کہ بادشاہ کے ساتھ ہاتھ کرنے والوں کی حقیقت آشکارہ کرتا ۔ اور موجودہ صورتحال میں نوبت بہ اینجارسید کہ یہ ’’محاورتی حمام ‘‘ میں اتار ے ہوئے گندے کپڑے بیچ چوراہے کے لاکر دھورہے ہیں مگر جب حالات ہاتھ سے نکلتے جارہے ہیں تو وہی پرانا ’’الطافی فارمولا ‘‘ استعمال کر کے اپنی برہنگی چھپانے کی ناکام کوشش یہ کہہ کر کر رہے ہیں کہ اگر آج کے بعد ایم کیو ایم کے کسی ممبر کو ’’وفاداری ‘‘ تبدیل کرنے پر مجبور کیا گیا تو اسے دبائو بلیک میلنگ سمجھتے ہوئے ایم کیو ایم کے تمام اراکین سینیٹ ، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی اجتماعی طور پر مستعفی ہو جائیں گے ، متحدہ پاکستان کے کنونیئر ڈاکٹر فاروق ستار نے گزشتہ روز ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے تمام اراکین پارلیمنٹ سے استعفے لے لئے ہیں اور ضرورت پڑی تو اجتماعی طور پر ہم پارلیمنٹ کو خیر باد کہہ دیں گے ۔ انہوں نے زیر لب اس قسم کے خدشات کا اظہار کیا بلکہ شکایت کی کہ ان کے اراکین اسمبلی پر دبائو ڈالا جارہا ہے کہ وہ خود (اشارہ پاک سرزمین پارٹی کی جانب تھا ) آتے ہیں یا انہیں اٹھا کر لایا جائے ۔بات خود ایم کیو ایم کے اندر ہی سے شروع ہوئی تھی جب فاروق ستار نے اپنے ہی ایک رکن قومی اسمبلی سلمان مجاہد بلوچ کوپارٹی سے خارج کیا تو انہوں نے ’’مجھے کیوں نکالا ‘‘ کا نعرہ بلند کرتے ہوئے ایم کیو ایم کا اصل چہرہ بے نقاب کر دیا اور بتایا کہ ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما ء آج بھی لندن میں بانی متحدہ کے ساتھ رابطے میں ہیں ، اور الطاف حسین کی سالگرہ پر نہ صرف انہیں ٹیلیفون پر مبارک بادیں دی گئیں بلکہ کیک بھی کاٹا گیا ۔ ایک ٹی وی چینل کے پروگرام میں پارٹی سے اپنے اخراج پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے سلمان بلوچ نے انتہائی سخت الزامات لگائے اور کہا کہ ایم کیو ایم لندن اور پاکستان ایک ہی ہیں ، فاروق ستا ر ، کنور نوید جمیل اور کشور زہر ہ کا متحدہ لندن سے رابطہ ہے ، کامران ٹیسوری کو ڈپٹی کنونیئر بنانے پر رہنمائوں میں ہاتھا پائی ہوئی ، فاروق ستار اور فیصل سبزواری کو ڈسٹرکٹ ایسٹ سے پیسہ ملتا ہے ، وسیم اختر اور خواجہ اظہار بھی محکموں سے پیسے لیتے ہیں۔ادھر ڈاکٹر فاروق ستار نے سلمان مجاہد بلوچ کے الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے پارٹی میں دھڑے بندیوں سے انکار کیا اور کہا کہ پارٹی میں سلمان بلوچ جیسی روحیں ہوسکتی ہیں جب انہیں پارٹی سے نکالا گیا تو انہوں نے پوری پارٹی پر الزام لگا دیا ،اپنے کچھ کالموں میں اس وقت بھی میں نے متحدہ پاکستان کے نام سے الگ پارٹی بنا کر ایم کیو ایم لندن سے علیحدگی کو ایک ڈرامے ہی سے تشبیہہ دیتے ہوئے گزارش کی تھی کہ یہ لوگ اپنی ’’زباندانی ‘‘ سے دوسروں کو بے وقوف بنالیتے ہیں ، دراصل اس وقت پارٹی پر جو افتادپڑی تھی اور خطرہ تھا کہ پارٹی کو ملکی مفادات کے خلاف کام کرنے کی پاداش میں کہیں کالعدم قرارنہ دیاجائے اور اگر ایسا ہوتا تو یقینا پارٹی کے بہت سے لیڈروں کو سنگین غداری کے مقدمات کا بھی سامنا کرنا پڑتا لیکن شاید کچھ مقتدرقوتوں کو یہ خوش فہمی تھی کہ پارٹی سے کچھ لوگوں کو نیا دھڑا بنانے پر آمادہ کیا جائے تو معاملات سنبھل جائیں گے۔ لیکن ایک خاص جانور کی دم سو سال بھی نلکی میں بند رہے اس کے ٹیڑھ پن پر کوئی اثر نہیں پڑتا ، اس حوالے سے کراچی میں جاری بد نظمی ، مختلف مقامات سے اسلحوں کے ذخائر ملنا ، بھتہ خوری اور اغواء برائے تاوان کی وارداتیں (قدر ے کمی کے ساتھ ) جاری رہنا ، اور دیگر وارداتوں کا تسلسل آخر کس بات کی نشاندہی کرتا ہے ، اور اب تو سلمان مجاہد بلوچ نے کھل کر الزامات لگادیئے ہیں کہ کن لوگوں کو کہاں سے رقوم ملتی ہیں جبکہ رقوم کی ترسیل اب بھی لندن میں کی جارہی ہے اور جس خاتون کے اکائونٹ سے یہ پیسے بھیجے جارہے ہیں انہوں نے 22اگست کے بعد بھارت کے کئی دورے بھی کئے ، گویا بھارت کے اندر بھی متحدہ کے حوالے جوکھچڑی پہلے پکتی رہی ہے وہ دیگ تاحال چڑھی ہوئی ہے ، اور ادھر کراچی میں ہونے والی وارداتوں سے تو یہی مترشح ہوتا ہے کہ ان سے ہونے والی ’’آمدن ‘‘ میں حصہ بہ قدر حبثہ وصول کیا جارہا ہے یہ کہہ کر (غلام محمد قاصر کی روح سے معذرت کے ساتھ )

میں کیا کروں گا ڈکیتی میں گرہو ا ناکام

مجھے تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا

ڈاکٹر فاروق ستار کی پارلیمنٹ سے اجتماعی طور پر مستعفی ہونے کی بڑھک کو گیدڑبھبکیوں سے زیادہ نہیں سمجھنا چاہیئے کیونکہ انہوں نے یہ دھمکی دیتے ہوئے ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا ہے کہ اگر کوئی پارٹی سے علیحدہ ہونا چاہتا ہے تو وہ اطلاع دے کر چلا جائے ، اس کی ہم قدر کریں گے اور ہماری نظروں میں اس کی وقعت اور عزت بڑھ جائے گی لیکن اگر زبردستی کسی کو وفاداری تبدیل کرنے پر مجبور کیا گیا تو اسے بلیک میلنگ سمجھا جائے گا اور تمام اراکین استعفے دیدیں گے ، تاہم ساتھ ہی وہ یہ بھول گئے ہیں کہ ان استعفوں کی (بہ طرز تحریک انصاف) چیئر مین سینیٹ اور سپیکر قومی و صوبائی اسمبلی تصدیق بھی کی جائے گی جہاں فاروق ستار کے غباروں سے ہوا نکل بھی سکتی ہے ، یعنی بقول خالد خواجہ

میں نے ٹھیکہ نہیں لے رکھا وفاداری کا

تو بدل سکتا ہے تو میں بھی بدل سکتا ہوں

متعلقہ خبریں