Daily Mashriq


عالمی محنت منڈی مواقع ہی مواقع

عالمی محنت منڈی مواقع ہی مواقع

ارادہ تو بن گیا تھا کہ ایم کیو ایم کو بند دروازہ دکھاکر اس پر گاڑھے میخوں اور پٹ لگے دروازوں کو بند دکھا کر فاروق ستار کو باہر بٹھایا دکھائے نئے کارٹون پر لکھوں لیکن پھر خیال آیا کہ میں تو طالب علم ہوں اپنے شعبے ہی میں رہوں تو بہتر‘ بہر حال اتنا ضرور کہوں گا کہ پکاآس بیل کی اگی فصل کا خاتمہ اتنا آسانی سے نہیں ہوگا اور اگر وہ فصل اگائی بھی منصوبہ بندی کے ساتھ ہو۔ ایم کیو ایم کی لندن قیادت ملک دشمن سہی مگر ایم کیو ایم پاکستان ایک حقیقت ہے اور حقیقت اس طرح کی کہ اس کی جڑیں عوام میں ہیں جن کو اکھاڑا نہیں جاسکتا۔ یہی حال مسلم لیگ (ن) کا بھی ہے اور پیپلز پارٹی بھی اپنی جڑیں اکھاڑنے والوں کی کوششوں کو بری طرح ناکام کرکے ثابت کرچکی ہے کہ یہ زمین بہت سخت ہے ایک مرتبہ اس میں کوئی درخت جڑ پکڑلے تو اس کو اکھاڑ پھینکنا نا ممکن ہوتا ہے۔ سیاست کی دنیا بڑی بے رحم ہوتی ہے۔ یہاں سے باہر جاکر اس معاشرے میں اس طرح کے عناصر کے ساتھ واسطہ پڑے تو بندہ کیا کرے کہ جہاں وتیرہ ہی یہ ہو کہ کسی سے اچھائی نہ کرو، کسی کی غلطی معاف نہ کرو خواہ رسوائی ہی مول لینی پڑے۔ برا ہو اس سیاست کا اس سے بھی برا ہو اس انا پرستی کا‘ چلیں چھوڑیں دیکھتے ہیں کہ ہماری نوجوان نسل کو تعلیمی میدان میں کس قسم کے حالات کا سامنا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ نوجوان نسل کو تعلیمی میدان میں مشکلات ہی مشکلات کا سامنا ہے۔ اولاً سب سے بڑا مسئلہ تو صحیح مضامین کے انتخاب کا ہے۔ طلبہ صحیح مضا مین کا انتخاب کرلیں تو بھی کئی قسم کی مشکلات آڑے آجاتی ہیں۔ کبھی اساتذہ ہڑتال پر ہوتے ہیں تو کبھی کسی مضمون کا استاد دستیاب نہیں ہوتا۔ استاد دستیاب ہو تو پڑھائی توجہ اور دلچسپی سے نہیں کراتا ۔کچھ طالب علم میرے جیسے سر پھرے ہوتے ہیں تو کچھ اساتذہ کی ہٹ دھرمی ان کو آمادہ بغاوت کرتی ہے۔ ان دنوں سرکاری کالجوں کے طالب علموں کو اساتذہ کی ہڑتال کے باعث کریڈٹ آور کے کم ہونے کا مسئلہ سنگین ہے۔ یہ صرف انہی کا مسئلہ نہیں نجی تعلیمی اداروں میں بھی اساتذہ کا آنا جانا لگا رہتا ہے اور کسی کی بیماری و رخصت پر فیس دے کر پڑھنے والے طالب علموں کا کسی کو ا حساس نہیں ہوتا۔ کریڈٹ آور پوری کیسے کیئے جاتے ہیں اس کا تو علم نہیں مگر جہاں یونیورسٹی انتظامیہ کی ذمہ داری میں نقص ہو وہاں پر تو قواعد آڑے نہیں آتے۔ طالب علموں کو پرچہ تھمایا جاتا ہے اور نمبر بھی مل جاتے ہیں۔ طالب علم خوش کہ پڑھے بغیر نمبر مل گئے اور انتظامیہ خوش کہ طالب علموں نے چوں و چرا نہ کی۔ ہمارا تعلیمی نظام بگڑتا جا رہا ہے مگر کسی کو اس کااحساس نہیں۔ طالب علم ڈگریاں لے کر نکلتے ہیں تو پتہ چلتاہے کہ یہ تو کاغذ کا ٹکڑا مل گیا۔ آتا جاتا کچھ نہیں‘ سفارش ‘ رشوت کے بغیر ویسے بھی ملازمت کم ہی ملتی ہے۔ آوے کاآوا ویسے ہی بگڑا ہوتا ہے۔ ایسے ماحول میں امنگ کیوں کر جاگے، جہاں استاد کو طالب علم کے مستقبل سے کوئی غرض نہیں اور طالب علم کو استاد کی تکریم سے احراز ہے۔ تعلیم کا حصول بس رسم و تدریس منافع بخش پیشہ بن چکا ہو۔ طالب علم فیس دے کر تعلیم خرید رہے ہوں۔ تعلیمی ادارے تعلیم دے نہیں بیچ رہے ہوں۔ صورتحال پر غور کرتے جانے سے بیزاری اور لاچارگی کا احساس ہی ہوتا ہے۔ جو طالب علم ملکی جامعات میں چمکتے ہوئے تاروں کا درجہ رکھتے ہیں جب مزید تعلیم کے لئے وہ باہر چلے جاتے ہیں تو ان کو احساس ہوتا ہے کہ نہ صرف وہ بلکہ ان کے اساتذہ بھی لا علم نکلتے ہیں۔ یہاں پر جو طلبہ ناکامی اور کم جی پی اے کے امکان سے ہی بالا ہوتے ہیں باہر جا کر ان کو اپنے فیل ہونے کا ڈر ہونے لگتا ہے۔ وہ بین الاقوامی معیار کی تعلیم کے خود کو قابل ہی نہیں پاتے تو ان کے متعلقہ یونیورسٹیوں کو عالمی درجہ بندی میں کہیں بہت نیچے ہونے پر جو حیرت ہوتی تھی اس غلط فہمی کا جواب مل جاتا ہے۔ اس طرح کے ماحول میں تعلیم حاصل کرنے کو کسی کا خاک دل چاہے گا جہاں مایوسیوں کاشکار بنا دینے والا ماحول ہو اور حصول تعلیم کے بعد مناسب روز گار میرٹ پر ملنے کا کوئی امکان نہ ہو۔ مواقع تو بسیار ہوں مگر ان مواقع کو فراہم کرنے کی بجائے فروخت کردیا جاتا ہو تو طالب علموں سے کیا گلہ۔ دنیا میں کم ہی ایسا ہوتا ہے جو ہم پاکستان میں دیکھ رہے ہیں۔ مجھے اس وقت سخت کوفت ہوتی ہے جب میں دنیا سے اپنے ہاں کے حالات کاموازنہ کرتا ہوں۔ آپ کسی اچھی ویب سائٹ کے لئے نمونے کے طور پر مضمون لکھیں تو آپ کو اس کا معاوضہ ملتا ہے آپ کے وقت اور آپ کے الفاظ کی تعداد کے حساب سے آپ کو ادائیگی ہوتی ہے۔ آپ کی محنت اور وقت کی قدر ہوتی ہے تبھی دنیا بھر کے کروڑوں لوگ ایک ویب سائٹ سے وابستہ ہوتے ہیں اور دنیا بھر میں اس ویب سائٹ کا کام چلتا ہے۔ میں تو نوجوانوں کو مشورہ دوں گا کہ وہ اس روایتی نظام میں کڑھنے اور گھلنے کی بجائے اپنی استعداد و مہارت بہتر بنائیں اور عالمی محنت مارکیٹ میں اپنی خدمات فروخت کرکے صلہ پائیں۔ اپنی محنت کا صلہ بھی پائیں اور وطن عزیز کے لئے زر مبادلہ بھی کمائیں۔ ایسا کرکے وہ ان نوجوانو ں کے لئے بھی آسامیوں کے مواقع میں اضافہ کا باعث بن سکتے ہیں جو عالمی محنت منڈی میں اپنی محنت فروخت نہیں کرسکتے۔ آن لائن جاب اور فری لانسنگ ایک وسیع مواقع کی حامل دنیا ہے جہاں نہ سیاست چلتی ہے اور نہ پسند و نا پسند‘ وہاں معیار اور محنت چلتی ہے۔ قسمت آزمائیں صلہ پائیں اور بس۔ اس بارے معلومات اور رہنمائی اس لنک The Money Tree-PK سے حاصل کی جاسکتی ہے۔

متعلقہ خبریں