Daily Mashriq


بھارت کی دھمکی اور مذاکرا ت سے پسپائی

بھارت کی دھمکی اور مذاکرا ت سے پسپائی

کون نہیں جانتا کہ بھارت اور پاکستان دو ایٹمی قوتوں کے درمیان جنگ تباہی ہوگی۔ بقول عوامی مسلم لیگ کے سربراہ اور وزیر ریلوے شیخ رشید اس کے بعد نہ گھاس کا تنکا آگے گا اور نہ چڑیاں چہچہائیں گی۔ لیکن بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کے مذاکرات پر آمادگی سے مکر جانے کے بعد ان کے چیف آف آرمی سٹاف نے پاکستان کو جنگ کی دھمکی دیدی۔ بھارتی چیف آف آرمی سٹاف جنرل بپن راوت نے مودی سرکار کے پاک بھارت وزرائے خارجہ کی مجوزہ ملاقات منسوخ کرنے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی ضرورت ہے اور اس کا وقت آگیا ہے۔ پاک فوج کے ترجمان نے اس کا جواب دینے میں دیر نہیں کی اور کہا کہ ہم جنگ کیلئے تیار ہیں پاکستان کی امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ بھارت کی پاکستان دشمنی کی تاریخ سے ثابت ہے کہ پاکستان ہمیشہ بھارت کی جارحیت کیلئے تیار رہتا ہے لیکن اپنے امن کے رویے کی طرف گامزن رہتا ہے۔ بھارتی حکومتوں کا مذاکرا ت سے پسپائی اختیار کرنے کا رویہ بھی نیا نہیں ہے۔ بھارت اقوام عالم کی نظر میں دھول جھونکنے کیلئے پاکستان سے مذاکرات پر آمادگی ظاہر کرتا ہے اور پھر کسی نہ کسی بہانے مذاکرات سے مکر جاتا ہے۔ ہمیشہ مذاکرات پر رضامندی ظاہر کرکے ایک ’’واقعہ‘‘ تیار کرلیا جاتا ہے۔ ممبئی واردات بھی اس وقت ہوئی جب اگلے روز جامع مذاکرات کا اہم دور شروع ہونے والا تھا۔ پٹھانکوٹ کا واقعہ بھی تب ہوا جب پاک بھارت مذاکرات ہونے والے تھے‘ ممبئی واردات تو اب ثابت ہوچکا ہے کہ بھارت کی اپنی خانہ ساز تھی۔ اب جب نریندر مودی کے خط کے جواب میں وزیراعظم عمران خان نے مذاکرات کی تجویز پیش کی تو بھارت کے پاس اسے منظور کرنے کے سواکوئی چارہ نہیں تھا ایک بار پھرتین بھارتی فوجیوں کی لاشیں تلاش کرلی گئیں اور پاکستان کے ڈاک کے ٹکٹوں کو بہانہ بنایا گیا ۔ حقیقت یہ ہے کہ بھارت مذاکرات کی میزپر آنا ہی نہیں چاہتا۔ آگرہ میں جب سابق صدر جنرل پرویز مشرف اور آنجہانی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کے درمیان معاہدے پر دستخط تک کی نوبت آرہی تھی تو بھارتی وزیراعظم کو بھارتی حکمرانوں نے غائب کر دیا۔ ان میں سشما سوراج پیش پیش تھیں جو آجکل بھارت کی وزیر خارجہ ہیں۔ بھارت کے ساتھ پاکستان کے اہم مسائل ہیں جن میں بھارت غاصب اور جارح ہے۔ پاکستان ان مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہتا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان ماضی کی تین جنگوں سے مسائل طے نہیں ہوسکے اور عالمی برادری کا بھی مشورہ یہی ہے کہ معاملات مذاکرات کے ذریعے طے کرلئے جائیں اور دونوں ملکوں کی ممکنہ جنگ کی تیاری بھی اس نہج پر پہنچ چکی ہے جس کی طرف شیخ رشید نے اشارہ کیا ہے۔ اس لئے مذاکرات ہی مسائل کے اصل حل کا واحد راستہ ہے لیکن بھارت اگر مذاکرات کی میز تک آتاہے تو اس کے پاس مسائل جوں کے توں رکھنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہ جاتا اس لئے بھارت دنیا کو دھوکہ دینے کیلئے امن مذاکرات پر آمادگی ظاہر کرتا ہے اور کوئی نہ کوئی واقع برپا کرکے مذاکرات سے پسپا ہو جاتا ہے۔مذاکرات سے حالیہ پسپائی اور جنگ کی دھمکی بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے لیکن اس بار اس میں جلد بازی کی گئی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ بھارت میں آئندہ سال انتخابات ہونے والے ہیں او ر نریند مودی کی بی جے پی کی سیاست بھارت میں زوال پذیر نظر آتی ہے حتی کہ راشٹریہ سیوک سنگھ کے حالیہ سربراہ مسلمانوں کو بھارت کے برابر کے شہری تسلیم کرنے کے بارے میں بیان دے رہے ہیں۔ مودی سرکار کرپشن کے الزامات کے نرغے میں ہے جس میں بھارت کا محکمہ دفاع بھی ملوث ہے۔ فرانس کے ایک سابق صدر کے بیان نے ان الزامات کو قرین حقیقت ثابت کر دیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ بھارت کی حکومت نے ایک بھارتی فرم کو طیارہ ساز کمپنی کا شراکت دار بنانے پر زور دیا تھا اس پر بھارت کی اپوزیشن پارٹیاں وزیراعظم نریندر مودی سے استعفے کا مطالبہ کررہی ہے۔ ان وجوہ کی بنا پر نریندر مودی اپنی انتخابی مہم کو مسلمان دشمنی کے آزمودہ نسخے پر چلا رہے ہیں اور بھارتی فوج کی حمایت بھی حاصل کررہے ہیں۔ بھارت اور خاص طور پر بھارت کی فوج جانتی ہے کہ اگر اس نے کوئی ایڈونچر کرنے کی کوشش کی تو اسے ایسا جواب ملے گا جو سالہاسال تک یاد رہے گا اور نریندر مودی کی انتخابی مہم جھاگ کی طرح بیٹھ جائے گی اس لئے بھارت کی طرف سے ایسے کسی ایڈونچر کی توقع نہیں کی جانی چاہیے۔ پاک فوج کے ترجمان نے اچھا کیا جو بھارت کو یہ یاد دلا دیا۔ نریندر مودی کی مذاکرات سے پسپائی پر وزیراعظم عمران خان کا تبصرہ کہ بڑے عہدوں پر چھوٹے اور بصیرت سے عاری لوگوں کو فائز ہوتے ہوئے دیکھ کر مایوسی ہوئی‘ نہ صرف عالمی برادری کے زیرغور آئے گا بلکہ بھارت میں بھی اس پر سوچا جائے گا۔ اس کے باوجود اگر بھارت کسی ایڈونچر کی طرف بڑھے گا تو پاک فوج اسے ناقابل برداشت نقصان پہنچانے کیلئے تیار ہے۔

متعلقہ خبریں