Daily Mashriq


نظام انصاف کی اصلاح

نظام انصاف کی اصلاح

مرحومہ بیگم کلثوم نواز کی وفات کے بعد ن لیگ کے قائد میاں نواز شریف ان کی صاحبزادی اور داماد غمزدگی کے عالم میں ہیں۔ انہوں نے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے مطابق ضمانت پر رہائی کے حوالے سے بھی کسی خاص گرم جوشی کا اظہار نہیں کیا ہے۔ ان کی پارٹی نے جشن منانے کی کوشش کی لیکن انہوں نے اس کی حوصلہ افزائی نہیں کی ہے۔ البتہ میڈیا والے لگتا ہے اس انتظار میں ہیں کہ کب میاں صاحب سیاست کے میدان میں اترتے ہیں۔ میاں صاحب کے ایک سابق وزیر نے ضمانت پر رہائی کے معاملے کو بنیاد بناکر ججوں میںامتیاز قائم کرنے کی کوشش کی ہے اور کہا ہے نان پی سی او ججوں کا فیصلہ ہے اور ان کے خلاف سابقہ فیصلہ پی سی او ججوں کا تھا حالانکہ جو جج بھی آج عدالت کے منصب پر فائز ہیں وہ پاکستان کے آئین کے مطابق اپنے منصب پر فائز ہیں۔ جج قانون کے مطابق فیصلے دیتے ہیں یہ فیصلے ان کے ذاتی نہیں ہوتے قانون کے فیصلے ہوتے ہیں جو ان کوائف ‘ شواہد‘ نظروں ‘ دستاویزات پر مبنی ہوتے ہیں جو ان کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں۔میاں نواز شریف کی ضمانت پر رہائی کے فیصلے کے اعلان سے پہلے لاہور ہائیکورٹ نے نیب عدالت کے فیصلے کے بارے میں جو نکات اٹھائے اور نیب کا استغاثہ جس طرح ان نکات کی وضاحت کرنے میں ناکام ہوا وہ سب کچھ گزشتہ چند دنوں میں میڈیا میں رپورٹ ہوچکا ہے۔ نامور وکلا نے اس پر یہ تبصرہ کیا ہے کہ نیب کا استغاثہ اپنا موقف ثابت کرنے میں ناکام رہاکچھ ایسی باتیں بھی کی جارہی ہیں جن کے جواب میں نئی حکومت کے وزیر اطلاعات نے کہا ہے کہ میاں صاحب سے نہ تو کوئی ڈیل ہوگی نہ ڈھیل دی جائے گی۔ قانون کے مطابق کارروائی ہوگی کیونکہ تحریک انصاف کی حکومت قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتی ہے۔لیکن قانون کی حکمرانی محض جج قائم نہیں کرتے۔ یہ پورا نظام انصاف قائم کرتا ہے جس میں نچلی سطحو ںسے اوپر کی سطحوں تک قانون کی حکمرانی قائم کرنے کیلئے خود کار نظام احتساب ہو۔ اس لئے پورے نظام انصاف میں اصلاح کی ضرورت ہے۔ جس میں انسداد جرائم‘ جرم کی اطلاع ‘ تفتیش‘ شہادت‘ دستاویزات کی فراہمی اور حفاظت‘ ابتدائی رپورٹ‘ مقدمہ کی تیاری‘ استغاثہ یعنی وکلا ئے سرکار‘ وکلا برادری اور منصف سب شامل ہیں۔ کسی غفلت‘ اغماض یا کوتاہی پر متعلقہ اہلکاروں کے مواخذہ کا انتظام نظام عدل کا حصہ ہونا چاہیے۔ مثلاً عوام کے جان و مال و آبرو کی حفاظت کیلئے نگرانی میں غفلت پر سزا ہونی چاہیے اور نظرآنی چاہیے۔ جرم کی اطلاع نہ دینا قابل سزا جرم ہے لیکن اس الزام میں مقدمات کا اندراج نظر نہیں آتا‘ جو لوگ جرم کی اطلاع نہیں دیتے اور جو اہلکار اس پر مواخذہ کی کارروائی نہیںکرتے ان کا احتساب ضرورہونا چاہیے۔ ہمارے ہاں فوجداری مقدمات میں ایف آئی آر بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس میں کوئی جھول رہ جائے تو سارے مقدمے کی بنیاد ٹوٹ جاتی ہے جو تفتیش تمام ممکنہ پہلوئوں کا احاطہ نہیںکرتی یا جو ایف آئی آر عام اصطلاح کے مطابق ’’ٹوٹ‘‘ جاتی ہے اس پر بھی مواخذہ ہونا چاہیے۔ وکلائے استغاثہ کی پیروی میں اگر کمزوری نظر آئے اس پر بھی اور گواہوں کے پیش نہ ہونے اور ان کے مکر جانے پر بھی کارروائی ہونی چاہیے‘ وکیلوں کو تاریخیں دینا منصفوں کی قانونی صوابدید پر منحصر ہوتاہے اس کا بھی ریکارڈ ہونا چاہیے‘ عدم پیروی پر مقدمات محض خارج نہیں ہونے چاہئیںبلکہ اس پر عدالتوں کا وقت ضائع کرنے کے حولے سے بھی کارروائی ہونی چاہیے۔ شہادتیں اور دستاویزات ضائع کرنے پر بھی کارروائی ہونی چاہیے۔ کوئی حادثہ بے سبب نہیںہوتا‘ یہ جو آئے دن خبریں آتی ہیں کہ آتشزدگی کی وجہ سے ریکارڈ جل گیا اس پر باقاعدہ انکوائری کی جانی چاہیے۔ تفتیش میں تمام پہلوئوں کا احاطہ کیوں نہیں کیا۔ ان کی ایف آئی آر کیوں ٹوٹی‘ گواہ او ر شہادتیں پیش کیے جانے میں غفلت کیوں برتی اور اس سے کس کو فائدہ پہنچا۔ استغاثہ کیوں معاملہ کی صحیح طریقوں سے پیروی نہیں کرسکا اور کسی عدالت کے فیصلے بڑی عدالتوں میں کس بنا پر نامناسب سمجھیں گے۔ کسی حکومت کو یہ حق نہیں دیا جاسکتا کہ وہ بادی النظر میں یکساں نظر آنے والے مقدمات میں اپنی ترجیح قائم کرے۔ مثال کے طور پر یہ ٹھیک ہے کہ میاں نواز شریف نے برسر ایوان لندن فلیٹس کی ملکیت کا اقرار کیا تھا تاہم پانامہ پیپرز میں چار پانچ سو ایسے پاکستانیوں کا انکشاف ہوا تھا جن کی آف شور کمپنیاں ہیں ان کے خلاف کارروائی کا آغاز تک نہ ہوا‘ مشہور شخصیات کے خلاف قائم ہونے والے بہت سے مقدمات بھی ایسے مقدمات میں شامل ہیں جو عدم ثبوت کی بنا پر خارج ہوئے لیکن ثبوت فراہم کرنے کے ذمہ دار اہلکاروںکے خلاف کوئی کارروائی دیکھنے میں نہیں آئی۔ الغرض نیچے سے اوپر تک سارے نظام انصاف کی اصلاح کی ضرورت ہے تاکہ انصاف نہ صرف ہوبلکہ ہوتا ہوا نظر بھی آئے اور کسی کو ججوں میں امتیاز کرنے کی جرات نہ ہو کسی کو بعض فیصلوں پر تنقید اور بعض پر تعریف کا حوصلہ نہ ہو۔

متعلقہ خبریں