Daily Mashriq


سورج مکھی قبیلہ

سورج مکھی قبیلہ

یہ سورج مکھی قبیلہ کمال قبیلہ ہوا کرتا ہے۔ یہ کبھی کبھی منہ کا ذائقہ بدلنے کو سچ بولتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جو سب سے زیادہ حکمرانوں کے لئے کھائیاں کھودتے ہیں حالانکہ یہ انہی کے دسترخوان کے ساتھی ہوتے ہیں۔ مرغ دست آموز ان کے سیاسی چمچے جو ان کے دستر خوان پر ان کے ساتھ بیٹھ کر مفادات کی دعوت اڑاتے ہیں ۔ یہ عجیب بھنور پسند لوگ ہواکرتے ہیں جو اپنی باتوں سے بھنور بناتے ہیں اور پھر انہیں حکمرانوں کے پیروں میں باندھ دیتے ہیںیہ حکمران اکثر ایسے ہی بھنور میں گرتے ہیں جوسورج مکھی قبیلے کے لوگوں نے ان کے اردگرد بنائے ہوتے ہیں ۔ یہ وہی لوگ ہیں جوجناب جنرل ایوب خان کو خوش رکھنے کے لئے ایک علیحدہ اخبار چھاپ دیاکرتے تھے تاکہ مفادات کی ضیافت جاری رہے ۔ اور وہ اخبار چیخ چیخ کر ایوب خان کو کہتا سب اچھا ہے جہاں پناہ بہت اچھا۔رعایا خوشحال ہے۔ آپ کا اقبال بلند ہے ۔ لوگ صبح وشام آپ کو دعائیں دیتے نہیں تھکتے ۔لوگ آپ کے نام کے دئیے جلاتے ہیں آپ کی پوجا کرتے ہیں۔

اورپھر ایک روز ایوب خان نے لوگوں کو ایوب کتا ہائے ہائے کا نعرہ لگاتے سنا۔ اور وہ یہ سمجھ نہ سکے کہ یہ سب کیا ہے ۔ ابھی تو سب اچھا تھا۔ ابھی یہ کیا ہوگیا لیکن پٹھان کی غیرت یہ سب گوارا نہ کرسکی سو وہ مستعفی ہوگئے۔ اس بے عزتی کا انہیں بے حد قلق تھا ۔ شاید سورج مکھی قبیلے پر بہت غصہ بھی ہوگا لیکن جب اقتدار ہی نہ رہا تو اس قبیلے والوں کا سد باب کیاکرتے۔ کچھ ایسے ہی حالات سے ہر حکمران کا واسطہ پڑتا ہے ہر حکمران کے ارد گرد سورج مکھی قبیلہ ڈیرہ جما لیتا ہے ۔ سمجھتے ہیں کہ سچ بولتے ہیں ۔وہ کہتے ہیں جناب عالی! پاکستان اس وقت دس ابھرتی ہوئی معیشتوں میںسے ہے اور وہ کہتے ہیں کہ واقعی ایسا ہی ہے ۔

یقین دلانے کے لئے وہ یہی باتیں اخباروں میں چھپوا بھی لیتے ہیں ۔ حکمرانوں کوفیتہ کاٹنا بہت اچھا لگتا ہے یہ تو سورج مکھی قبیلے کا کمال ہے وہ ہر ایک شئے کو اتنا روپیلا بنا کر پیش کرتے ہیں کہ بے وجہ ہی ان کی باتوں پر یقین کرنے کو دل کرتا ہے ۔یہ تو وہ کمال لوگ ہیں جو ہر زمانے میں ہر کسی کے ساتھ رہتے ہیں اور فیض پاتے ہیں۔یہ وہ ہیں جو حکمرانوں کو کسی ممکنہ طوفان کی آواز تک سننے نہیںدیتے۔ جب طوفان کی آواز سنائی دے رہی ہوتی ہے یہ ان کے کانوں میں سرگوشیا ں کرتے رہتے ہیں تاکہ کہیں ان کادھیان اس جانب نہ ہوجائے ۔ یہ وہ جو نکیں ہیں جو ہر خوشامد پسند کے جسم کو لگی ہوتی ہیں۔

ہر حکمران کو اتنی تو پہچان ہو ہی جانی چاہئے کہ کون کونسے لوگ صرف ان کے اقتدار کے سورج سے فائدہ اٹھانے کے لئے منہ ان کی طرف کئے بیٹھے ہیں اورانہیںآخر کتنی دیر تک بنا کسی فائدے کے بس مستفید ہی ہونے دینا ہے ۔یہ درست ہے کہ یہ خوشامد ی ٹولہ بہت اچھا لگتا ہے ۔ دل پذیر محسوس ہوتا ہے ۔ ان کی باتیں بھی بہت بھلی محسوس ہوتی ہیں ان کی چاپلوسی میں بڑا لطف آتاہے لیکن جب اقتدار ہاتھ سے چھوٹنے لگے گا تو یہی لوگ دور دوسرے ساحلوں پر ہاتھ ہلاتے نظر آئینگے۔ ان کی کوئی بات بھی نئی نہیں ہے ۔ حکمرانوں کو اس سورج مکھی قبیلے سے ہمیشہ ہی ہوشیار رہنا چاہئے لیکن یہ کبھی بھی ان سے ہوشیار نہیں رہتے ۔ یہ انہیں اپنے پاس بالکل پاس بٹھاکر رکھتے ہیں ان کی باتیں سنتے ہیں اور سردھنتے ہیں ۔وزیراعظم عمران خان روایتی سیاستدانوں اور حکمرانوں سے مختلف ضرور دکھائی دیتے ہیں وہ ہی ملک میں بد عنوانی اور قومی وسائل کے ضیاع واسراف کی طرف ابتداء ہی سے توجہ دے رہے ہیں اور ان کی کوشش ہے کہ ملکی معیشت کی نیا کو پار لگائیں عمران خان سے ملک کے عوام اور خصوصاً نوجوانوں نے بڑی امیدیں وابستہ کررکھی ہیں عمران خان وزیراعظم اور حکمران نہیں اس قوم کی امید اور ملاح ہیں ملکی معیشت کی کشتی منجد ھا ر میں ہے قوم کا پیسہ لوٹ کر دور کہیں ذخیرہ اور محفوظ کردیا گیا ہے ۔ املاک خریدی گئی ہیں کاروبار میں لگا دیا گیا ہے ۔ بزنس ٹاورز سے لیکر ملیشیاء میں پر تعیش ہوٹلوں تک سبھی اس ملک وقوم کا پیسہ ہے یہ ساری دولت مفلوک الحال عوام کا حق ہے جسے واپس لانا دستاویزی طور پر تو محال نظر آتا ہے مگر اس کیلئے راہیں تلاش کی جا سکتی ہیں اندھیرے میں تیر چلانے کے مصداق ہی کیوں نہ ہو اس ملک کے عوام کی خواہش بلکہ ضد ہے کہ تیر چلائے جائیں بے شک اندھیرا ہی سہی اگر کوئی ایک تیر لگ گیا یانہ بھی لگا تو کم از کم عوام کو اس بات کا علم تو ہونا چاہیئے کہ تیر چلانے کی سمت کونسی ہے ۔ اس ملک وقوم کا عمران خان پر قرض ہے کہ وہ ان تمام وعدوں کو پورا کرنے کیلئے سردھڑ کی بازی لگادیں جس کی اس ملک کے عوام کوان سے توقع ہے ۔ منزل اور کامیابی ملنا ضروری نہیں خلوص نیت اور قومی خدمت کا جذبہ اہم ہے حکمران اگر خلوص نیت سے کام لیں اور سورج مکھی قسم کے عناصر کی باتوں میں نہ آئیں ان کو پہچان کر ان کی باتوں میں آنے کی بجائے ان کے مکروفریب اور خوشامد میں نہ آئیں تو ان کا عوام سے رابطہ رہے گا اور وہ اپنے محور ومدارسے واقف رہیں گے ۔ سورج مکھی قسم کے لوگوں کی کوشش ہی یہ ہوتی ہے کہ حکمران ان کی سنیں عوام کی نہیں ۔ جوان کی سنتے ہیں وہ عوام کے نہیں رہے اور جو عوام کے نہیں رہتے وہ بالآخرگردش ایام کاشکار ہو کر گردوں میں گم ہو جاتے ہیں اور انہیں دور کہیں سورج مکھی کے پھول دکھائی تو دیتے ہیں مگر وہ قریب نہیں آتے اس لئے کہ انہوں نے اپنا منہ اقتدار کے سورج کی طرف کیا ہوتا ہے ۔

متعلقہ خبریں