Daily Mashriq


کالا باغ ڈیم پر اعتراض کیوں؟

کالا باغ ڈیم پر اعتراض کیوں؟

پیپلز پارٹی کے رہنما مولا بخش چانڈیو نے کہا ہے کہ کالا باغ ڈیم کو گزشتہ دو اسمبلیاں مسترد کرچکی ہیں‘ موجودہ حکومت بھی اس ایشو پر بات چیت سے گریز کرے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ کالا باغ ڈیم کی مخالفت پیپلز پارٹی اور اے این پی ہر دور میں کرتے آئی ہیں‘ اس خوا مخواہ کی مخالفت میں ایسے لوگ بھی شامل ہیں جنہیں کالا با غ ڈیم کی جغرافیائی حقیقت بارے بنیادی علم بھی نہیں ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ میانوالی سے چند کلومیٹر کے فاصلے پرایک چھوٹا سا قصبہ ہے جس کا نام کالا باغ ہے اس قصبے میں پاکستان کے قیام سے قبل بے شمار کیلوں کے باغ تھے‘ یہ باغ دور سے سیاہ رنگ کے بادل دکھائی دیتے تھے جس کی وجہ سے اس کا نام کالا با غ پڑ گیا‘ کالا باغ کے مقام پر پہنچ کر دریائے سندھ نیشنل ڈیم بن جاتا ہے۔ لہٰذا1953 ء میں عالمی ماہرین نے اس جگہ کو ڈیم کیلئے شاندار قرار دیا تھا۔1960 ء میں ایوب خان نے بھارت سے سندھ طاس معاہدہ کیا اس معاہدے کے تحت پاکستان نے دریائے راوی‘ دریائے ستلج اور دریائے بیاس کا پانی8 کروڑ روپے میں بھارت کو بیچ دیا اور اس کے بدلے میں پاکستان کو کالا باغ ڈیم بنانے کی اجازت مل گئی‘ لیکن کام شروع ہونے سے پہلے ہی ایوب خان کی حکومت ختم ہوگئی۔ یحییٰ خان کا دور آیا تو پاکستان دولخت ہوگیا۔ ذوالفقار علی بھٹو آئے تو اندرونی سیاست میں الجھ کر رہ گئے اور جنرل ضیاء الحق کے دور میں افغان وار شروع ہوگئی، یوں کالا باغ ڈیم التواء کاشکار ہوتا چلا گیا‘ اس دوران پاکستان کو بنجر بنانے کے منصوبوں پر عمل کرتے ہوئے مکار دشمن بھارت نے پاکستان کے کچھ لوگوں کو پاکستان کے خلاف استعمال کیا اور بدقسمتی سے ہمارے اپنے لوگ نادانستہ طور پر یا ذاتی مفاد کیلئے بھارتی ایجنڈے کو پروان چڑھانے لگے۔

ماہرین کے مطابق پاکستان کے پاس اس وقت صرف 5 سال کا پانی رہ گیا ہے ‘ اگر چند سالوں میں ڈیم نہ بنائے گئے تو ہم افریقہ جیسے قحط زدہ علاقوں میں شمار کیے جائیں گے‘ ڈیم کی تعمیر پرصرف 8 ارب ڈالر کی لاگت آئے گی مگر تکمیل کے بعد ہر سال3 ارب ڈالر کا منافع ہوگا۔ اس سارے پس منظر کے بعد یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر کالا باغ ڈیم کیوںضروری ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ کالا باغ ایک قدرتی پہاڑی سلسلہ ہے جس کے درمیان سے دریائے سندھ گزرتا ہے‘ کالا باغ ڈیم کے فوراً بعد پاکستان کے میدانی علاقے شروع ہو جاتے ہیں لہٰذا قدرتی طور پر کالا باغ ڈیم ایک بنا بنایا ڈیم ہے جس کے د ونوں جانب اونچے پہاڑ ہیں اس مقام پر دریا کے آگے صرف دیوار لگاکر ڈیم بنایا جاسکتا ہے۔ کالا با غ ڈیم اگر بن جائے تو پاکستان کو3600میگاواٹ بجلی حاصل ہوگی جس سے پاکستان کی 85 فیصدلوڈشیڈنگ ختم ہو جائے گی۔ بجلی کی قیمت فی یونٹ ڈھائی روپے ہوگی۔

کالا باغ ڈیم بننے سے خیبرپختونخوا اور جنوبی پنجاب کے علاقے‘ سندھ کے زیریں علاقے اور بلوچستان کے مشرقی علاقے اس ڈیم کے پانی کی بدولت قابل کاشت بنائے جاسکتے ہیں۔ پاکستان کو سالانہ300 ارب روپے کی بچت ہوگی۔ سندھ کو 40 لاکھ ایکڑ فٹ‘ پنجاب کو22 لاکھ ایکڑ فٹ‘ خیبرپختونخوا کو20 لاکھ ایکڑ فٹ اور بلوچستان کو 15 لاکھ ایکڑ فٹ اضافی پانی میسر آئے گا جس سے مشرقی بلوچستان کا تقریباً7 لاکھ ایکڑ اضافی رقبہ سیراب ہوسکے گا اور شاید بلوچستان میں پہلی بار لہلہاتی فصلیں دیکھنے کو ملیں اور سیلابوں سے بھی جان چھوٹ جائے گی۔

ماہرین کے مطابق کالا باغ ڈیم کے بننے سے پاکستان میں مزید10 لاکھ ایکڑ رقبہ پر کپاس‘4 لاکھ ایکٹر رقبہ پر چاول اور دو لاکھ ایکڑ رقبہ پر گنا اور کینو لا کاشت کرکے جی ڈی پی میں مزید250 ارب روپے شامل کئے جا سکتے ہیں۔ کالا باغ ڈیم مجموعی طور پر پاکستان کی 50 لاکھ ایکڑ بنجر زمین کو سیراب کرے گا ‘ نہری پانی کی فی ایکڑ پیداوار آج کل تین لاکھ روپے سالانہ ہے اس حساب سے صرف کالا باغ ڈیم سے پاکستان کو سالانہ15 ارب ڈالر کی زیادہ زرعی پیداوار ملے گی جس کے بعد پاکستان کو زرعی اجناس میں سے کچھ بھی درآمدنہیں کرنا پڑے گا البتہ پاکستان کی زرعی برآمدات دگنی ہو جائیں گی۔

دنیا بھر کے ماہرین یہ دعویٰ کرچکے ہیں کہ اس ڈیم سے نوشہرہ اور مردان کو کوئی خطرہ نہیں اور اس سے سندھ کی زمینیں بھی متاثر نہیں ہوں گی۔ مذکور بالا تمام فوائد اور حقائق کے باوجود ملک کی بڑ ی سیاسی جماعتیں کالا باغ ڈیم کی مخالفت کرتی آئی ہیں‘ گزشتہ دو اسمبلیاں اس منصوبہ کو مسترد کرچکی ہیں آخر کیوں؟ کیا ہم اپنے نفع و نقصان سے بھی آگاہ نہیں ہیں‘ کیا عوام کو اتنا بھی علم نہیں ہے کہ اگر آج ڈیم نہ بنائے تو ہماری آنے والی نسلیں پانی کی بوند بوند کو ترسیں گی ‘ عوام ہی ہیں جو سیاستدانوں کے مفادات کی تکمیل کیلئے ان کا ساتھ دیتے ہیں‘ عوام ہی ان کا دست و بازو اور اصل طاقت بنتے ہیں جس کی بنیاد پر سیاستدان اسمبلی میں ایسے بل پاس ہونے کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں‘ عوام کو اپنی طاقت کا اندازہ کرنا ہوگا اور آنکھیں بند کرکے سیاستدانوں کی ہاں میں ہاں ملانے سے قبل سوچنا ہوگا کہ کہیںہم اپنے اقدام سے اپنی آنے والی نسلوں کیلئے مشکلات تو پیدا نہیں کررہے؟۔

متعلقہ خبریں